عوام کی مزید مشکلات کا ساماں

عوام کی مزید مشکلات کا ساماں

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے جانشین نئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نئے سال کے پہلے دن عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گیارہ روپے 75پیسے تک کا اضافہ کرکے گویا عوام پر بجلی گرادی ہے لیکن کمال معصومیت دیکھئے کہ مفتاح اسماعیل وضاحت یہ کرتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اوگرا کی سفارش پر قیمتوں میں رد و بدل کی منظوری دے دی ہے جبکہ پیٹرولیم پر سیلز ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ رد و بدل کا مطلب تبدیلی ہوتی ہے اگر بعض مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض میں کمی کی جاتی تو اس کے لئے رد و بدل کے لفظ کا استعمال موزوں تھا مگر یہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے جسے الفاظ کی حد تک بھی حکمران ماننے کو تیار نہیں۔ حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ پاکستان میں بنگلہ دیش، بھارت اور ترکی کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہوچکا ہے۔ سیاسی عناصر کی اس طرح کی صورتحال میں عوام سے ہمدردی اور حکومت وقت پر تنقید روایت رہی ہے۔ اسی تسلسل میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 2018 کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک جاری اعلامیے میں کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات پر وفاقی حکومت کا فیصلہ قوم کے خلاف کھلی دشمنی ہے اور مطالبہ کیا کہ حکومت ناصرف اضافے کا فیصلہ واپس لے بلکہ قیمتوں میں 50 فیصد کمی کا بھی اعلان کرے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت عدالت کے ایک فیصلے کی زد میں آنے سے ختم ہونے کے بعد موجودہ کابینہ بنی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ دوسرا اور بڑا اضافہ ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں مزید کمی آچکی ہے اور سٹاک ایکسچینج مندے کا شکار ہے۔ اس سے بخوبی واضح ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کتنا ضروری ہے اور عدم استحکام اور انتشار کا نقصان کس طرح سامنے آتا ہے۔ بہر حال سیاسی معاملات سے قطع نظرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ مہنگائی کا سندیسہ لے کر آئے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے تمام دیگر اشیا ء کی قیمتیں خود بخود بڑھ جاتی ہیں خواہ ان کا پیٹرولیم مصنوعات سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو جن اشیاء کا بظاہر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے سا تھ کوئی تعلق نظر نہیں آتا اس کے باوجود ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چونکہ ٹرانسپورٹ سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جن کا اثر لامحالہ تمام اشیائے ضرورت پرپڑتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لئے گھڑا گھڑا یا بہانہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی واضح رد و بدل سامنے نہیں آیا۔ اگر حکومت اپنے حصے کے منافع میں معمولی کمی کی قربانی دینے کو تیار ہوتی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ ساڑھے چار سالوں کے دوران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین سو ارب روپے کمائے۔ لیوی ٹیکس سے پچیس ارب روپے اکٹھے کئے گئے اس کے باوجود یہ حکومتی اصرار بڑا دلچسپ ہے کہ حکومت نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں اٹھارہ ارب چھتیس کروڑ روپے کی سبسڈی دی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے اگر کسی طبقے کو فرق نہیں پڑے گا تو وہ ہے حکمران یا بالا دست طبقہ، متوسط زیریں متوسط اور خاص کر عوام الناس پر اس اضافے کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ پہلے ہی سے جاری ہے اب اس کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ چونکہ موخرالذکر طبقات کی آمدنی اور ذرائع آمدن محدود اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد اس تفاوت میں اور اضافہ ہوگا اور ان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال ٹرانسپورٹ میں بھی ہوتا ہے اس سے نقل و حمل کے اخراجات اور کرایوں میں اضافہ ہوگا جس سے گھر کے کرایوں سے لے کر دال روٹی تک مہنگی ہوگی۔ مٹی کے تیل کا استعمال انتہائی غریب طبقہ کر تاہے اس کی قیمت میں اضافے سے ان کو بطور خاص مشکل ہوگی۔ اس امر کا بار بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا وفاقی بجٹ میں ایک ہی بار تعین کرے بین الاقوامی منڈی میں اونچ نیچ کے فرق کو وصول ہونے والے لیوی اور جی ایس ٹی سے پورا کرے حکومت اگر اپنے حصے کی تھوڑی سی قربانی دینے پر آمادہ ہوجاتی تو ساڑھے چار سالوں میں اٹھارہ مرتبہ یعنی تقریباً ہر تین ماہ بعد عوام ہی پر پیٹرول بم گرانے کی نوبت نہ آتی۔ اگر دیکھا جائے تو حکومت کا بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا دعویٰ بھی درست نہیں کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی تقریباً پچاس فیصد پیداوار ملکی ہوتی ہے جس کی بھی حکومت بین الاقوامی منڈی کی مصنوعات کے برابر ہی قیمت وصول کرتی ہے جو سراسر غیر قانونی اور عوام پر ظلم ہے۔حکومت کو ایران میں مہنگائی کے خلاف عوامی رد عمل سے عبرت حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کا فیصلہ واپس لینا چاہئے ورنہ بعید نہیں کہ موقع کی ناکامی میں بیٹھی ملک کی حزب اختلاف کی جماعتیں عوام کی اس دکھتی رگ کو ہی حکومت کے خلاف تحریک کا سبب بنائیں اور حکومت مزید مشکلات اور مسائل میں گر جائے۔

اداریہ