Daily Mashriq

انسداد منشیات کی سعی قومی ذمہ داری ہے

انسداد منشیات کی سعی قومی ذمہ داری ہے

ہمارے سیاسی نظام اور حکومت میں جی ایچ کیو کی مداخلت کا الزام ایک روایت بن چکی ہے لیکن ایک ایسے معاملے میں واقعی جی ایچ کیو کو مداخلت کرنا پڑی جس کا تعلق کسی طور فوج سے نہیں بلکہ یہ خالصتاً سول حکومت اور سول اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے معاملات ایسے سنگین ہوگئے ہیں کہ جی ایچ کیو کو کارروائی کا مطالبہ کرنا پڑا۔ منشیات کی روک تھام اینٹی نارکاٹکس فورس کی ذمہ داری ہے جس کی قیادت میں عسکری حکام بھی شامل ہوتے ہیں جبکہ منشیات فروشی کی گلی محلے میں فروخت اور استعمال کی روک تھام پولیس کی ذمہ داری میں آتا ہے مگر خیبر پختونخوا کی حد تک دیکھا جائے تو اے این ایف کے دفتر کے آس پاس اور کچھ فاصلے پر منشیات کی کھیپ کی موجودگی اور تجارت ہونے کی شکایات زبان زد عام و خاص ہیں جبکہ منشیات استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد کی موجودگی تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جی ایچ کیو کی جانب سے اگر تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے تو یہ اور بھی سنگین اور تشویشناک معاملہ ہے جس پر وقت ضائع کئے بغیر ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں سرحدوں پر مامور اور دیگر چیک پوسٹوں پر فوجی جوانوں کو اس ضمن میں خصوصی ذمہ داری تفویض کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی جبکہ جن اداروں کے ذمے اس کی روک تھام کی ذمہ داری ہے ان سے تو باقاعدہ اور سختی سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے اور سمگلروں سے ملی بھگت کے الزام میں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جن جن تھانوں کی حدود میں منشیات فروشی ہو رہی ہو یا جن تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات میسر آرہے ہوں ان تھانوں اور تعلیمی اداروں کی پوری انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ایک افسوسناک حقیقت گزشتہ دنوں یہ سامنے آئی تھی کہ طلبہ کو منشیات کی سپلائی میں ایسے ہاتھ ملوث نکلے جن سے اس کی توقع نہ تھی بہر حال منشیات کی لعنت سے نوجوان نسل کو چھٹکارا دلانا ہم سب کی قومی و اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے جس کی ادئیگی میں دیانت کا مظاہرہ ہی ملک و قوم کی خدمت اور اپنے مستقبل کا تحفظ ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ارتکاب غفلت کا ازالہ کرتے ہوئے اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات میں اب مزید تاخیرنہیں ہوگی اور تمام حلقے اپنی اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھائیں گے۔
بِایِ ذنب قتِلت
مردان میڈیکل کمپلیکس میں خاتون کا ہسپتال کے احاطے میں بچی کو جنم دینے کا واقعہ نہایت ہی افسوسناک ہے جس سے صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں سے ہونے والے سلوک کی ایک جھلک سامنے آتی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق سینئر ڈاکٹرز موقع پر موجود نہ تھے‘ مسلسل گھنٹوں ڈیوٹی کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کو مریضہ کی حالت کا اندازہ نہ ہوا یا کچھ اور غلط فہمی ہوئی یہ سارے معاملات ہسپتال کی انتظامی امور سے متعلق ضرور ہیں لیکن ان سے عوام کا متاثر ہونا فطری امر ہے جس کا ایک نمونہ محولہ واقعے میں سامنے آیا۔ گائنی وارڈز میں ہمیشہ ہی ایمرجنسی لگی ہوتی ہے جس کے پیش نظر یہاں پر ڈاکٹروں اور نرسز کو اضافی بھاگ دوڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر ان کے مسائل و مشکلات پر توجہ کم ہی دی جاتی ہے جس کے باعث بار بار اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں جو نہ صرف مذکورہ ہسپتال بلکہ پورے محکمہ صحت کی بدنامی کا باعث بنتا ہے مگر اس کے باوجود ان مسائل کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ محولہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آئے گی لیکن اس کی فوری وجہ بیڈ کی عدم موجودگی تھی گو کہ اس کی ذمہ داری موجود عملے پر نہیں ڈالی جاسکتی اور نہ ہی ہسپتال انتظامیہ اس کا کوئی فوری حل نکالنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے اس کا تو براہ راست تعلق محکمہ صحت اور صوبائی حکومت سے ہے کہ وہ ہسپتالوں میں ان وارڈز میں توسیع کا بندوبست کرے جہاں اس قسم کے حالات پیش آتے ہیں۔ ان تمام معاملات اور صورتحال کے باوجود موقع پر موجود عملہ غفلت کے ارتکاب سے بری الذمہ دکھائی نہیں دیتا چونکہ مریضہ کی جانب سے درد زہ کی شکایت کی گئی تھی اور ان کو بروقت ہسپتال پہنچایاگیا تھا اس لئے ان کو واپس بھجوانے کا کوئی جواز نہ تھا۔ ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث جو معصوم جان نئے سال کا سورج بھی نہ دیکھ پائی اس کو تو گویا قتل کیاگیا جس کی ذمہ داری اس پورے نظام پر عائد ہوتی ہے۔ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد صرف مرتکبین غفلت کو سزا دینا کافی نہ ہوگا بلکہ اس کی وجوہات اور اسباب کا بھی تفصیلی جائزہ لے کر اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔

اداریہ