سعودی عرب تنازعہ اور پاکستان

سعودی عرب تنازعہ اور پاکستان

کی دنیا میں کوئی بھی ملک تنہا نہیں رہ سکتا،کسی کی حمایت کرنی پڑتی ہے اور کسی کی مخالفت۔کچھ ممالک یہ کام سرعام کر رہے ہیں اور کچھ پس پردہ رہ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب یمن تنازعہ میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال دکھائی دی جس میں سعودی عرب کیساتھ کچھ ممالک تھے تو کچھ ممالک یمن وایران کیساتھ تھے، اس ساری صورتحال میں پاکستان بھی کسی نہ کسی حوالے سے شامل رہا، ہمارے میڈیا کے کچھ دوست اور سیاستدان اس حوالے سے انتہائی پرجوش دکھائی دیئے کہ خلیج میں پیدا ہونیوالی صورتحال سے ہمیں دور رہنا چاہئے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یمن کی صورتحال میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت سے ہمارے ایک ہمسایہ ملک کے ناراض ہونیکا خدشہ ہے جس کے اثرات ملک کے اندر بھی دیکھے جائیں گے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے تواس غلط فہمی کا ازالہ ہونا چاہئے کہ کیا یہ کوئی مسلکی معاملہ ہے؟ ایسا ہرگز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حوثی قبائل نے بعض بیرونی عناصر کی ایماء پر سعودی عرب کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق کر دئیے ہیں۔ ہر سال چار لاکھ افراد غیر قانونی طور پر سعودی عرب داخل ہوتے ہیں، سمگلنگ کرتے ہیں اور دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ حوثی باغی کئی مرتبہ یمن کی حکومت کیخلاف برسرپیکار ہو چکے ہیں۔ باغیوں کی تنظیم ’’الحوثیون‘‘ نے مبینہ طور پر ایک مضبوط مسلح گروہ کی شکل اختیار کر لی اور بہت جلد ان کے مسلح جنگجوؤںکی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ان کی جانب سے یمن کے عوام پرظلم وستم اور منتخب حکومت کیخلاف کارروائیوں میں بھی شدت آنے لگی۔ سعودی عرب کو اس کارروائی میں بحرین،کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کا فوجی تعاون بھی حاصل رہاہے۔ ان باغیوں نے ایک منتخب حکومت کو بے بس کرکے رکھ دیا ہے اور ملک میں انارکی پھیلا رکھی ہے۔ کوئی بھی ملک اپنے ہمسائے میں اس قدر خطرناک صورتحال اور بھڑکتی آگ برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم پاکستانیوں کو اس کا بخوبی اندازہ ہے۔ پاکستانی حکومت اور افواج کی دہشتگردی کیخلاف پالیسی بالکل واضح ہے۔ یہاں مسئلہ کسی مسلک یا فرقے کا نہیں بلکہ دہشتگردی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکومت نے ایک واضح موقف اختیار کیا ہے۔ یہ کہنا کہ سعودی عرب محض مسلکی مخالفت کی بناء پر اتنی بڑی کارروائی کر رہا ہے انتہائی عجیب سا معلوم ہوتا ہے کیونکہ خود سعودی عرب میں ہزاروں باشندے دوسرے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کیخلاف کبھی آپریشن نہیں کیا گیا۔ دراصل ہر ملک عالمی معاملات میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور ایسے ممالک وحلقوں کو ہی دوست بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ جو مشکل حالات اور دیگر معاملات میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ ٹھیک ہے کہ مسلک ومذہب کی بنیاد پر بھی عالمی سطح پر حمایت ودوستی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن زیادہ تر اس حوالے سے ملکی مفادات ہی مقدم رکھے جاتے ہیں۔ ایران نے افغانستان میں ہمیشہ شمالی اتحاد کو سپورٹ کیا جس نے بھارت سے ملکر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ کبھی بھی یہ خیال نہیں رکھا گیا کہ اس سے پاکستان ناراض ہوگا یا اس کی سلامتی کو کیا خطرات لاحق ہوں گے۔ اگر پاکستان اس صورتحال میں سعودی عرب کی غیر مشروط اور مکمل اخلاقی، سفارتی وعملی مدد کرتا ہے تو یہ کچھ زیادہ حیران کن نہیں ہوگا۔ سعودی عرب بھی بہت سے مواقع پر پاکستان کی بغیر کسی مفاد کے کھل کر حمایت ومدد کرتا رہا ہے۔ بہت سی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے۔ یہ معاملہ کوئی مسلکی یا فرقہ وارانہ جھگڑے کا نہیں بلکہ اس نے ایک انتہائی قریبی دوست ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کی صورت اختیار کر لی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔

پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد کروڑوں ڈالر کا تعاون ہو یا مفت تیل کی فراہمی سعودی عرب ہر موقعے پر بے لوث طریقے سے پاکستانی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا ہے۔ کشمیر اور دیگر مسائل کے حوالے سے سعودی عرب نے ہر موقعے پر پاکستان کی بھرپور حمایت کی ہے۔ سعودی عرب کو لاحق خطرات سے وہاں موجود لاکھوں پاکستانی بھی خطرے میں ہیں جن کی حفاظت اور ایک ایسے ملک کہ جہاں اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کا روزگار موجود ہے اس ملک کا ساتھ نہ دینا یقیناً بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب میں حرمین الشریفین جیسے مقدس مقامات موجود ہیں۔ ان مقدس مقامات کیلئے کسی بھی قسم کا خطرہ پوری امت مسلمہ کیلئے صدمے کا باعث بنے گا۔ اس بات کے شدید خطرات ہیں کہ ماضی کے چند تلخ تجربات کی طرح حوثی قبائل اس بار بھی حرمین الشریفین میں کسی بھی قسم کی شرپسندانہ کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس خطرے کا پیشگی تدارک انتہائی ضروری ہے۔ عالمی سیاست میں یہ انتہائی اہم ہوتا ہے کہ کوئی سربراہ مملکت خود درخواست کرے۔ یقیناً پاکستان کو اس کا پاس کرنا ہوگا ورنہ مستقبل میں وہاں موجود پاکستانیوں اور سعودیہ کے تعلقات پر اس کے گہرے اثرات ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار بھی ادا کرے۔ پاکستانی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اثر ورسوخ اور مصالحانہ کوششوں سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیاں نہ پیدا ہوں اور ہر جگہ امن و امان قائم ہو سکے۔

اداریہ