نارنمرود اور سیاسی مخاصمتیں

نارنمرود اور سیاسی مخاصمتیں

آمر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے میرے خلاف غیر مناسب باتیں کیں تو آگ لگا دوں گا۔ بینظیر کو قتل کر کے آصف علی زرداری جائیداد اور پیپلز پارٹی کا مالک بن گیا ہے، میرا آرمی سے کوئی رابطہ نہیں، نواز شریف کو دبائو ڈالنے کی بیماری ہے، آرمی کو دبائو میں ڈالنے کیلئے مجھ پر الزامات لگا رہے ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ بینظیر کے قتل پر پیپلز پارٹی کی جانب سے الزامات پر متعدد بار رد عمل دے چکا ہوں، بینظیر اور بینظیر کے بھائی کو آصف زرداری نے ہی قتل کرایا ہے، آصف علی زرداری نے میرے خلاف نعرے لگوائے جس پر مجھے غصہ آیا اس وجہ سے میں نے سخت جواب دیا، بینظیر کے قتل پر صرف پولیس کو سزا دینا غیر مناسب ہے، جنرل صاحب موصوف کے فرمودات کی تفصیل میں جانے اور ان پر تبصرہ کرنے سے احتراز کرتے ہوئے صرف ان کے ایک جملے کو ہی زیر بحث لائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے میرے خلاف غیر مناسب باتیں کیں تو آگ لگا دوں گا، اس جملے نے ہمیں نمرود کی یاد دلا دی ہے جب اس نے حضرت ابراہیم کو بت پرستی کیخلاف اور وحدانیت پر لوگوں کو مائل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے حکم پر تبلیغ شروع کی تو نمرود نے انہیں آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، آگ کا ایک بڑا الائوروشن کیا گیا تو اس وقت ایک طرف ایک چھوٹی سی چڑیا اپنی چونچ میں گھونٹ گھونٹ پانی لا لا کر آگ بجھانے کی کوشش کرتی رہی اور جب کسی نے اس چڑیا سے پوچھا کہ تمہارے ایک گھونٹ پانی ڈالنے سے یہ اتنا بڑا الائو کیسے بجھے گا تو اس نے جواب دیا، میں اپنی کوشش کرتی ہوں باقی کام اللہ تعالیٰ کا ہے جبکہ دوسری جانب ایک چھپکلی پھونکیں مار مار کر آگ کو تیز کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ ہم اپنے ملکی سیاست پر نظر دوڑائیں تو ایسا لگتاہے کہ یہاں ہر شخص چھپکلی والا کردار اپنائے ہوئے ہے ۔ ہر سیاسی رہنما ء اپنے اپنے الائو روشن کئے ہوئے اپنے ناپسند یدہ کرداروں کو اس میں ڈال کر بھسم کرنے میں مصروف ہے، 60ء کی دہائی کے اواخر میں پہلی بار پاکستان کے عوام نے جلائو گھیرائو کے الفاظ سنے ۔ جب پاکستان متحدتھا اور ایوب حکومت کے خاتمے کے بعد یحییٰ خان کا مارشل لاء نافذ تھا، اگرچہ اس نے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کی تیاری شروع کررکھی تھی کیونکہ اس سے پہلے ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام پر ملک کے عوام پر ایک جبری نظام مسلط کر رکھا تھا جس میںایک آدمی ایک ووٹ کی بجائے باالواسطہ طور پر بی ڈی ممبران کے ذریعے انتخابی عمل کا نظام رائج تھا ، اس کیخلاف عوام نے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام کی بحالی کیلئے جدوجہد شروع کر رکھی تھی جبکہ اس دور میں سابق مشرقی پاکستان کے رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی نے نہ صرف اپنی تقریروں سے آگ بھڑکا رکھی تھی بلکہ وہ عوام کو جلائو گھیرائو کا نعرہ دیکر ملک میں انارکی پھیلانے کا باعث بھی بن رہے تھے اور سابق مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں سے ایسی خبریں تواتر کیساتھ آرہی تھیں کہ سابق مشرقی پاکستان کے کئی اضلاع باریسال‘ چٹاگانگ‘ کاکسس بازار وغیرہ میں کسان کھیتوں اور کھلیانوں کو آگ لگا کر بھسم اور سرکاری تنصیبات کو تاراج کرکے بد امنی پیدا کر رہے تھے۔ ان حالات میں ملک کے اندر جلائو گھیرائو کی سیاست کے الفاظ ایک استعارہ بن کر ڈرائونے خواب کی صورت اختیار کرچکے تھے اور انتہا پسند قوتیں مولانا بھاشانی کی زبان بولتی دکھائی دے رہی تھیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اب جنرل صاحب نے بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کیخلاف نامناسب باتیں کرنے پر آگ لگانے کی بات کی ہے۔ اب دونوں میں سے کون درست کہتا ہے اس کا فیصلہ تو اس وقت ہوگا جب پیپلز پارٹی والے بینظیر قتل کیس کے حوالے سے اپنا بیانیہ جاری رکھیں گے اور جواب میں جنرل موصوف ’’آگ‘‘ لگانے کا عملی مظاہرہ کریں گے اور مظفر وارثی کے بقول کہنا پڑے گا کہ

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا
جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کی جاچکی ہے کہ اس وقت ملک میں جلائو گھیرائو ہی کی سیاست پنپ رہی ہے۔ ہر سیاسی رہنما اپنے لئے خصوصی ٹارگٹ مخصوص کر چکا ہے اور ان میں سے ہر ایک کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور اپنے خود ساختہ الائو میں آگ بھڑکا کر دوسرے کو اس میں جلا کر خاکستر کردے۔ کہیں مذہب کے نام پر الائو روشن ہیں، کہیں کرپشن کے شعلے ناچ رہے ہیں، تو کہیں ذاتی مفادات کے بتوں کی پوجا جاری ہے۔ گویا
آگ ہے‘ اولاد ابراہیم ہے‘ نمرود ہے
ان حالات کے ہنگام کسی کو یہ فکر لاحق نہیں کہ ہمارے دشمن ہماری سلامتی کے درپے کس قسم کی سازشوں کے اپنے الائو روشن کئے ہوئے ہیں۔ وہ ہماری سلامتی کو بھسم کرنے کے لئے اکٹھے ہو کر چھپکلیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور بد قسمتی سے ہم ان کی سازشوں میں غیر محسوس طور پر شامل ہو کر خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلاتے ہوئے ان کے مذموممقاصد کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان سیاسی چھپکلیوں نے سازشوں کے الائو کو مزید بھڑکانے کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو خانہ جنگی کیخطرات جو پہلے ہی دکھائی دے رہے ہیں وہ مزید بڑھ جائیں گے۔ سو اب دیکھتے ہیں کہ ’’امن‘‘ کی چڑیا کہاں سے برآمد ہوتی ہے جو جلتے ہوئے الائو کو ٹھنڈا کرکے امن و خوشحالی کی نوید کا باعث بن جائے۔
راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں

اداریہ