Daily Mashriq

تربیت کا سلیقہ

تربیت کا سلیقہ

پر سب کا اتفاق ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں یہ انتہائی حساس اور نرم و نازک ہوتے ہیں ان کی تربیت و نگہداشت مناسب انداز سے ہونی چاہیے بچوں کی صحیح خطوط پر تربیت کرنا کوئی مذاق نہیں ہے یہ ایک سائنس ہے جسے سیکھنا سب والدین پر فرض ہے سائنس کا لفظ پڑھ کر کسی کو گھبرانے کی ضرورت بھی نہیں ہے ہم راکٹ سائنس کی بات نہیں کر رہے ہم تو بچوں کی تربیت کے حوالے سے چند باتیں کرنا چاہتے ہیں دراصل ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی دل دکھانے والا منظر سامنے آتا ہے تو پھر دل چاہتا ہے کہ اس پر بات کی جائے ! چند روز پہلے ہم نے اپنی گلی میں ایک صاحب کو اپنے بچے پر چیختے چنگھاڑتے دیکھا اس شور شرابے کے ساتھ بچے کی دھلائی بھی ہو رہی تھی قصور بچے کا یہ تھا کہ وہ سکول نہ جانے پر بضد تھا وہ اپنے آپ کو زمین پر گرا کر ایڑیاں رگڑ رہا تھا اور والد صاحب گرج چمک کیساتھ اس پر برس رہے تھے۔سب سے پہلا سوال جو ہمارے ذہن میں آیا وہ یہ ہے کہ بچے سکو ل نہ جانے کی ضد کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں گھر کے ماحول سے ملتا ہے ! ایک بات ذہن میں رہے کہ گھر میں اچھا ماحول پیدا کرنے کیلئے والدین کا بہت زیادہ پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے انہیں بچوں کی نفسیات پر لکھی گئی موٹی موٹی کتابیں پڑھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو لکھنا پڑھنا ہی نہیں آتا تو وہ پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر یہ سوال تو اُٹھا سکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کیا فرماتے ہیں اور ان کا اپنا رویہ کیاتھا ؟ بخاری شریف کی حدیث مبارک کا مفہوم ہے ’’نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو اسے طویل کرنے کا قصد کرتا ہوںمگر درمیان میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز میں اس خیال سے تخفیف کر دیتا ہوں کہ کہیں طول سے اس کی ماں پر گرانی کا باعث نہ بنوں‘‘ آپ سے بچے کا رونا اور ماں کی تکلیف نہیں دیکھے جاتے تھے اسی لئے نمازکو مختصر کردیتے تھے۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا سارا سلسلہ محبت و شفقت کیساتھ جڑا ہوا ہے یہ پیار کی زبان سمجھتے ہیں اگر گھر میں کہانیوں کی چھوٹی چھوٹی کتابیں یا بچوں کے رسائل جیسے تعلیم و تربیت ، نونہال ، بچوں کی دنیا وغیرہ موجود ہوں تو بچے بڑے شوق سے پڑھتے ہیں‘ بچوں میں جاننے کی خواہش بڑی شدت سے موجود ہوتی ہے یہ جو نئی چیز بھی دیکھتے ہیں آپ سے اس کے بارے میں ضرور سوال کرتے ہیں یہ جاننا چاہتے ہیں سیکھنا چاہتے ہیں بس انہیں توجہ کی ضرورت ہوتی ہے انہیں گھر میں محبت بھرا ماحول مہیا کرنا ہوتا ہے پھر یہ آپ کی بات مانتے ہیںاور آپ کی دی گئی ہدایات پر عمل بھی کرتے ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے حال ہی میں اس حوالے سے ایک تحقیق کی ہے ان کا کہنا ہے کہ بچے اس وقت زیادہ سیکھتے ہیں جب ان کے ذہن اور ان کے والدین کے درمیان مطابقت ہوتی ہے ننھے بچے نظموں او ر بچوں ہی کی طرز میں کی جانیوالی گفتگو سے جلد ہم آہنگ ہوجاتے ہیں آپ ذرا غور کیجیے جب ہمارا رویہ درشت ہوتا ہے ہم ہر وقت اپنے بچوں کو ڈانٹتے ڈپٹتے رہتے ہیں تو وہ ہم سے مانوس ہونیکی بجائے آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے دور ہونے لگتے ہیں ان کے لاشعور میں ہمارے لئے اچھے جذبات نہیں پنپتے ہم ان کیساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، یہی بچے بڑے ہوکر والدین کی نافرمانی کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں ماہرین نفسیات اس کیلئے father hostility کی ترکیب استعمال کرتے ہیں اس قسم کے بچوں کو اپنے والدین کی خواہشات رد کرنے میں لطف آتا ہے! دیکھا آپ نے ہمارا وہ رویہ جسے ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں کتنے برے نتائج پیدا کرتا ہے!

بچوں کو وقت دیں‘ ان کیساتھ محبت کریں نہ صرف محبت بلکہ ان کی عزت کریں اسی سے ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے ان کی شخصیت پروان چڑھتی ہے وہ آنیوالے وقت میں اپنی معاشرتی ذمہ داریاں بطور احسن ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔محققین اس حوالے سے کہتے ہیںبچوں کیساتھ مطابقت پیدا کرنے کیلئے انہیں تحفظ اور محبت کا احساس دلانا بہت ضروری ہوتا ہے اس سے ان کے دماغ کیساتھ رابطہ زیادہ بہتر ہوتا ہے اور وہ چیزوں کو بہتر انداز میں سیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے سزا اور جزا کا تصور بھی بہت ضروری ہے بچوں کیلئے ایک بہت بڑا انعام اسے اس کی مرضی کا تحفہ دینا ہوتا ہے اس سے وہ والدین کی محبت محسوس کرتا ہے ذہنی طور پر ان کے قریب آتا ہے انہیں اپنا دوست سمجھتا ہے!بچے اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اگر ماحول میں بہتری نہ ہو اور ان کی حرکتیں والدین کو پریشان بھی کریں تو بڑے حوصلے کیساتھ ان کی اصلاح کی کوشش بھی کرنی چاہیے اور ان کو کسی حد تک نظر انداز بھی کرنا چاہیے۔ بچوں سے کبھی بھی یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ صرف آپ کی اطاعت کرینگے آپ کی ہر بات مانیں گے، زندگی کی دھوپ چھائوں میں اچھے برے روئیے تو چلتے رہتے ہیں۔

اداریہ