Daily Mashriq


سب کچھ ڈسپوزایبل ہو گیا

سب کچھ ڈسپوزایبل ہو گیا

عجیب سی حالت ہے ۔ایسی بھیڑ چال کہ خدا کی پناہ۔جس طرف نظر ڈالو بگاڑ ہی بگاڑ ہے۔یوں کہ جیسے بھٹک گئے یا بھٹکا دئیے گئے۔میرٹ کا حال یہ ہے کہ کوئی سرکاری یا نیم سرکاری پوسٹ آجائے تونوجوان اپلائی کرنے کے فوری بعد سفارش کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔یہاں بھی طاقت کام آتی ہے سفارش تو سبھی ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن جس کی سفارش تگڑی ہوتی ہے اس کا کام بن جاتا ہے اور جس کی کمزور ہوتی ہے وہ سفارش کرا کے بھی بے نیل و مرام رہتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ جب ٹیلنٹ اپنی جگہ خود بنا لیتا تھا لیکن آج ٹیلنٹ منہ چھپا چھپا کے اپنی بے بسی پہ روتا ہے۔صحافت کی مثال دیکھ لیجئے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ جب لوگ ہیروں کی تلاش میں رہتے تھے۔انہیں کسی بھی جگہ کام کا بندہ نظر آتا تو منہ مانگی تنخواہ دیکر اسے اپنے پاس لے آتے تھے لیکن اب ٹیلنٹ پڑا سڑتا رہتا ہے لیکن کوئی اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔فلم انڈسٹری کے لوگ باکمال لوگوں کی تلاش میں رہتے تھے اور ایسے لوگ مل جاتے تو انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ماضی کے بڑے بڑے اداکار اور اداکارائیں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہی آگے آئے۔کتنے ہی فلم میں کام کرنے کی خواہش لے کر لاہور آئے۔کسی نے ایورنیو سٹوڈیو اور کسی نے شاہ نور سٹوڈیو کے باہر ڈیرے لگائے۔ڈائریکٹر یا پروڈیوسر قریب سے گذرے توان کے سامنے کھڑے ہو کر کہا سر مجھے ایک چانس دیں۔وہ ایسے شاندار لوگ تھے کہ راستہ کاٹنے کا برا نہیں مناتے تھے بلکہ پوچھتے تھے کہ بھائی آپ میں کیا خاص بات ہے کہ آپ کو چانس دیں۔وہ اپنے ٹیلنٹ کے بارے میں بتاتے تو انہیں اپنے ساتھ سٹوڈیو لے جاتے اور ان کے جوہر کو آزماتے۔ثابت ہو جاتا کہ جس ٹیلنٹ کا دعویٰ کیا گیا وہ واقعی موجود ہے تو سائل کا کام بن جاتا اوراس کے خواب کو تعبیر مل جاتی۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں جتنے بھی روشن ستارے ہیں ان کی اکثریت گلیوں میں کھیلتے ہوئے آگے آئی۔عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی جس کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا اس کے اکثر کھلاڑی گلیوں میں کھیل کر سٹارز بنے تھے۔گلوکارہ ریشماںکا تعلق خانہ بدوشوں اور ’’گڈوی‘‘ والوں سے تھا لیکن انہیں کتنا بڑا نام ملا؟الن فقیر کو کون جانتا تھا لیکن جوہریوں نے اس ہیرے کو تراش کر اوج کمال کو پہنچایا۔مالا بیگم نے ’’دل دیتا ہے رو رو دوہائی‘‘ گایا تو ان کے بولوں سے پہلے الن فقیر نے جو لے اٹھائی اس نے اس نغمے کو چار چاند لگا دئیے۔اس لے کو گانے سے نکال کر دیکھ لیجئے سارا مزہ پھیکا پڑ جائیگا۔ آج جوہری تو نہیں رہے شکاری بہت ہیں جو خوبصورت چہروں کی تلاش میں رہتے ہیں ٹیلنٹ ہو یا نہ ہو بس جوانی اور خوبصورتی کی قیمت لگاتے ہیں اوربس۔کبھی سوچئے کہ جس خطے نے غالب، اقبال، فیض اور جالب کوشہرت کی بلندیوں پر پہنچایا وہ اچانک اتنا بانجھ کیسے ہو گیا کہ احمد فراز کے بعد ایک بھی بڑا نام دیکھنے کو نہیں ملتا۔خواجہ خورشید انور ،احمد راہی اور بابا جی اے چشتی جیسے لوگ ماضی کا قصہ بنے تو ان کی جگہ کوئی دوسرا کیوں نہ لے سکا؟ اسلئے کہ ان لوگوں کا تعلق اس زمانے سے ہے جو ٹیلنٹ کو ڈھونڈتا تھا اور اسے سامنے لانا اپنا قومی فریضہ سمجھتا تھا۔ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے ۔ایسے ایسے نابغہ روزگارکونوں کھدروں میں پڑے ہیں کہ سامنے آجائیں توڈنکا بجنے لگے لیکن انہیں ان کونوں کھدروں سے نکالے کون؟خوشامد پرستی کے اس دور میں جو جتنی اچھی چاپلوسی کر لیتا ہے وہ اتنا ہی کامیاب ہے اسی لئے فن تو نظر آتا ہے کمال فن نہیں۔ ایسا ڈسپوزایبل دور ہے کہ راحت فتح علی خان کا ایک شاہکار نغمہ پورے ملک میں بجتا سنائی دیتا ہے لیکن ایک آدھ ماہ بعد کہیں سنائی نہیں دیتا ۔مہدی حسن،ملکہ ترنم نورجہان، مہنازبیگم، نیرہ نور، احمد رشدی جیسے لوگوں کے کام کو تو رکھئے ایک طرف نئی نسل ان کے ناموں سے بھی واقف نہیں۔یہ ورثہ بھی اب زیادہ تر یو ٹیوب نے محفوظ کر رکھا ہے ورنہ حال یہ ہے کہ کسی سی ڈی کی دکان سے احمد رشدی کے گانوں کی سی ڈی مانگو تو وہ حیرت سے آپ کا منہ دیکھنے لگتا ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ کوئی شخص اپنے دوست سے کہے کہ پشاور جا رہا ہوں۔تم بھی ساتھ چلو شام تک واپس آجائیں گے تو دوست سوچتا ہے کہ مجھے اس میں کیا فائدہ ہے۔سارا سماج نفع اور نقصان کے گرد گھوم رہا ہے اور مادہ پرستی نے سماج کے وجود کو کرچی کرچی کر کے رکھ دیا اور ہم سب کو روبوٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔ سادہ زمانے میں اچھا مشورہ دینے والے کی بڑی عزت ہوتی تھی اب سیانے لوگ یہ سوچ کر کسی کو مشورہ بھی نہیں دیتے کہ دوسرا خوامخواہ آپ کی ذات پر شک کریگا۔پڑوسی ایک دوسرے سے بے نیاز ہیں۔ کئی کئی دن گزر جاتے ہیں ایک دوسرے کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ملتے ہیں تو رسمی سی علیک سلیک اور یہ جا وہ جا۔ اسی پاکستان میں چشم فلک نے وہ زمانہ بھی دیکھا کہ جب پڑوسی اس وقت تک ایک نوالہ بھی نہیں لیتے تھے جب تک تازہ بنا ہوا سالن پڑوسی کے گھر نہ پہنچ جاتا۔ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینے کا رواج تھا۔یہ سب کچھ بے لوث جذبے سے ہوتا تھا۔تحفے تحائف اب بھی دئیے جاتے ہیں لیکن اس کے لئے ان لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو کچھ فائدہ دے سکتے ہوں۔دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر خود آگے نکلنے اور اپنی بوٹی کیلئے دوسرے کا بکرا کاٹنے کے کلچر نے اس قدر رواج عام حاصل کر لیا ہے کہ صاف دل اور نیک نیت لوگ یہ سب کچھ دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں