Daily Mashriq

تاجروں کو فوائد، کرنسی اسمگلرز کو سزا دینے کیلئے ٹیکس قوانین میں ترمیم

تاجروں کو فوائد، کرنسی اسمگلرز کو سزا دینے کیلئے ٹیکس قوانین میں ترمیم

اسلام آباد: حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس قانون میں واضح تبدیلی کردی جس کا مقصد تاجروں کو رعایت دینے کے وعدے، کم قیمت موبائل فونز کی درآمدات پر ڈیوٹی میں کمی اور کرنسی اسمگلنگ کی سزا پر عملدرآمد کرنا ہے۔

24 صفحات پر مشتمل آرڈیننس 28 دسمبر کو جاری ہوا تھا لیکن میڈیا کو یکم جنوری کو فراہم کیا گیا اسی روز حکومت نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بھی طلب کیا تھا۔

 رپورٹ کے مطابق مذکورہ ترمیم کا اطلاق انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی پر بھی ہوگا۔

اس کے تحت ٹیکس سال 2020 میں 10 کروڑ کا کاروبار کرنے والے تاجروں کے لیے کم از کم ٹیکس کے معیار کو کم کر کے 1.5 سے 0.5 فیصد کردیا گیا۔

تاہم 10 کروڑ تک کا کاروبار کرنے والے وہ تاجر جو ٹیکس سال 2018 کے لیے اپنے ریٹرنز جمع کرواچکے ہیں وہ سال 2020 اور 2019 میں 2018 میں جمع کروائے ٹیکس کے مساوی یا زائد ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے۔

آرڈیننس کی دفعہ 153 کے مطابق ایسے تاجر جو 10 کروڑ تک کا کاروبار کرتے ہوں انہیں کسی ود ہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ بجلی کی کھپت کی سطح کو 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کردی گئی جبکہ ٹائیر1 حاصل کرنے کے کی شرط میں بھی ترمیم کردی گئی۔

علاوہ ازیں 30 ڈالر سے لے کر 100 ڈالر تک کی قیمت کے موبائل فونز کی کسٹم ڈیوٹی کو بھی 7 سو 30 روپے سے کم کر کے 100 روپے کردیا گیا جبکہ 30 ڈالر قیمت کے موبائل فون کے سیلز ٹیکس کو ایک سو 30 روپے سے کم کر کے 100 روپے جبکہ 100 ڈالر سے زائد قیمت پر سیلز ٹیکس ایک ہزار 3 سو 20 روپے سے کم کر کے 200 روپے کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں