Daily Mashriq

فورسز کی تعداد بڑھانے کے باوجود بغداد میں امریکی سفارتخانے پر پھر حملہ

فورسز کی تعداد بڑھانے کے باوجود بغداد میں امریکی سفارتخانے پر پھر حملہ

 عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے باوجود احتجاج اور کشیدگی جاری ہے، امریکی حملے میں نشانہ بننے والی ملیشیا کے ارکان سمیت سیکڑوں افراد نے ایک بار پھر سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق گذشتہ روز  عراقی ملیشیا حشد الشعبی کے ارکان اور ان کے حامیوں کی بڑی  تعداد سفارت خانے کے باہر ہی خیمے لگا کر رک گئی تھی اور صبح ہوتے ہی انہوں نے پھر احتجاج شروع کیا۔

رپورٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز کے علاوہ امریکی فوجیوں کی جانب سے سفارت خانے کے اندر سے بھی  مظاہرین  کو دور رکھنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جب کہ انہیں ڈرانے کے لیے دھماکے دار آواز  والے اسٹن گرینیڈ بھی پھینکے گئے۔

امریکا کی جانب سے سفارت خانے کی حفاظت کے لیے کویت سے بلائے گئے 750 فوجی بھی پہنچ چکے ہیں۔

 مظاہرے میں شامل عراقی ملیشیا حشدالشعبی کے ارکان کا کہنا ہےکہ یہ احتجاج امریکا کے لیے پیغام ہے جس نے ہمارے بھائیوں کو قتل کیا، اب امریکی اڈے بھی محفوظ نہیں۔

بعد ازاں حشد الشعبی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات ملنے کے بعد ملیشیا ارکان اور مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کا مظاہرہ ختم کردیا ہے اور وہاں سے چلے گئے ہیں۔

عراقی فوج نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مظاہرین امریکی سفارتخانے سے جاچکے ہیں۔

'ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی'

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ تنبیہ نہیں بلکہ دھمکی ہے، عراق میں امریکی سفارت خانہ محفوظ تھا اور ہے، ہمارے کئی فوجی انتہائی خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ فوری طور پر عراق پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روزمشتعل مظاہرین نے  بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے  پر دھاوا بول دیا  تھا اس دوران مظاہرین نے بیرونی حصے کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق  اس دوران سفارت خانے میں موجود امریکی فوجیوں اور مظاہرین کے  درمیان  صرف ایک شیشے کی دیوار رکاوٹ تھی، سفارتی عملے کو پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔

احتجاج کی وجوہات کیا ہیں؟

یہ احتجاج  عراقی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی ایران نواز  مليشيا گروپ حشد الشعبی (عراقی ملیشاؤں کے اتحاد) میں شامل ایک تنظیم کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر  امریکی فضائی حملے کے خلاف کیا جارہا ہے، یہ اتحاد  داعش کے مقابلے کے لیے بنایا گیا تھا۔

یہ حملے امریکا کی جانب سے  دو روز قبل 30 دسمبر 2019 کو  کیے گئے تھے جس میں کتائب حزب اللہ کے 25 جنگجوؤں کی ہلاکت سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ فضائی حملہ جنگجوؤں کی جانب سے عراقی فوجی اڈے پر 30 راکٹ داغنے کے ردعمل کے طور پر کیا گیا جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں