Daily Mashriq

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آخر کتنا اضافہ۔۔۔؟

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آخر کتنا اضافہ۔۔۔؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںہونے والا اضافہ لاگو ہوچکا ہے۔جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں2روپے61پیسے فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل2روپے25پیسے، مٹی کا تیل3روپے10پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں2روپے08پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔پیٹرول کی نئی قیمت ایک سو13روپے99پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر ایک سو16روپے60پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔اکثر گاڑیاں خاص طور پر مسافر بردار گاڑیاں پیٹرول کو بطور ایندھن استعمال کررہی ہیں، لہٰذا پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں میں استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت ایک سو25روپے ایک پیسے سے بڑھ کر ایک سو 27روپے26پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔مذکورہ اضافے سے زرعی مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹس کے کرایوں میں اضافہ ہوگا۔موسم سرما میں مٹی کے تیل کا استعمال خاص طور پر دور دراز علاقوں میں کھانے پکانے کے لیے متبادل ایندھن کے طور پر کیا جاتا ہے جس کی نئی قیمت99روپے45پیسے فی لیٹرہوگئی۔لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت82روپے43پیسے سے بڑھ کر84روپے43پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ خیال رہے کہ لائٹ ڈیزل آئل عام طور پر صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں اوگرا نے جنوری2020ء کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں25روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔حال ہی میں بجلی کی قیمتوںمیںبھی اضافہ ہوچکا ہے جبکہ دوسری جانب مہنگائی کی موجودہ صورتحال بھی کمر توڑ ہے۔حکومت نے سال رفتہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں سات بار اضافہ کیا اور ایک سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںبیس روپے77پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹیکس ریونیو شارٹ فال دوسو ستاسی ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔حکومت بجائے ٹیکس وصولی کا نظام بہتر بنانے اور ٹیکس ریونیو شارٹ فال میں کمی لا کر آمدن میں اضافے کے بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے روزانہ اور ماہ بہ ماہ با سانی حاصل ہونے والے آمدنی کی متلاشی ہے جس کی براہ راست اثرات سے عوام فرداً فرداً متاثر ہور ہے ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دور حکومت میںبڑھائی جاتی رہی ہیں اب فی لیٹر حکومت کی آمدنی چالیس پچاس روپے ہوگئی ہے ایک سال کے دوران بیس روپے ستر پیسے کے اضافے سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ صرف ایک سال کے اندر عوام پر صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مد میں کس قدر بوجھ پڑا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر اثرات مرتب نہ ہوئے ہوں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، گیس اور بجلی کے نرخوں کو بڑھانے سے ہر بار مہنگائی کی اور زیادہ اور شدید لہر آجاتی ہے نئے سال کی پہلی تاریخ کو ہی پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں ملک میں نئی مہنگائی کا باعث بنیں گی عوام جس قسم کے حالات سے دوچار ہیں ان حالات میں جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے کجا کہ ان پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔حکومت سے عوام کی توقعات کا پورا نہ ہونا اپنی جگہ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ عوام آئے روز نت نئی قسم کی مشکل کا سامنا کر رہے ہیں خواہ وہ بجلی وگیس کی قیمتوں کی صورت میںہو یا پھر عوام کو ملنے والی سہولتوں میں کمی یا دیگر صورتوں میں۔حکمرانوں کو غور کرنا چاہیئے کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں پر کیوں پورا نہ اتر سکے اور عوام پر آخر کب تک مزید بوجھ ڈالا جاتا رہے گا اور اس کا انجام آخر کیا ہوگا؟۔

متعلقہ خبریں