Daily Mashriq

پہلے کچھ بعد میںکچھ

پہلے کچھ بعد میںکچھ

نیب آرڈیننس کا معتوب رہنمائوں کے لئے چھوٹ کا باعث ہونے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن حکومت نے یہ آرڈیننس کیوںجاری کیا حکومت کو اس کی ضرورت کیوںپڑی آیا یہ کسی ڈیل کا نتیجہ ہے یا پھر حکومت کسی دبائو کا شکار ہے۔حکومت احتساب کی تو خواہاں ہے مگر بیوروکریسی سے پوچھ گچھ کے بغیر بیوروکریسی کو علیحدہ رکھ کر احتساب کیسے ہو سکتا ہے اختیارات پبلک آفس رکھنے والوں کے نہیں بیوروکریسی کے پاس ہوتے ہیں حکومت کے اس آرڈیننس سے حزب اختلاف مستفید ہونے کے باوجود شور اس لئے مچائے گی کہ اس کا موقع خود حکومت کی جانب سے دیا گیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ حکومتی اراکین جس طرح نتائج وعواقب پر غور کئے بغیر کام کرتے ہیں اس سے وقتی طور پر پیالی میں طوفان تو ضرور آتا ہے لیکن اس کے بعد کے اثرات خود حکومت کیلئے اچھے نہیں نکلتے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں محولہ دونوں معاملات پر بحث کے دوران مئوخر الذکر کا ملبہ اے این پی کے باوردی سربراہ پر گرانے کا عمل مناسب نہیں نیز یہ تاثردینا کہ ان کی جانب سے غلط فہمی پیدا کی گئی تھی قابل قبول امر نہیں امر واقع یہ ہے کہ پنجاب کے سابق وزیر قانون کی گرفتاری اور اس وقت کے مناظر وحالات کی جو تصویر دکھائی گئی تھی اس میں اب بری الذمہ ہونے والے تمام کردارپوری طرح آگاہ تھے اور یہ سب کچھ عوام اور میڈیا کے سامنے ہے اس وقت بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ ملبہ گرانے کی بجائے غلطی کا اعتراف یا پھر خاموشی اختیار کی جائے اور اس واقعے سے سبق سیکھ کر آئندہ کیلئے اس قسم کے افعال سے اجتناب برتا جائے۔

پناہ گاہوں کا انتظام وقتی نہیں مستقل کرنے کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان کی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو پناہ گاہوں کے قیام کی ہدایت کے بعد پورے صوبے میں جگہ جگہ پناہ گاہوں کے قیام کی خوش آئند صورتحال ہے۔اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں دور دراز کے علاقوں سے آئے لوگوں کیلئے رات گزارنے کی سہولت مہیا کی گئی۔ایک اور خبر کے مطابقضلعی انتظامیہ خیبر نے وزیراعظم کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے باڑہ میں شیلٹرہوم پراجیکٹ کے تحت عارضی پناہ گاہ کا باقاعدہ افتتاح کیاگیا اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں ضلع خیبر کی تینوں تحصیلوں میں عارضی پناہ گاہوں کو ہنگامی بنیادوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کی گئی ہیں جس میں باڑہ بازار میں مسافروں،محنت مزدوری کرنیوالے دیگر شہروں کے رہائشیوںکو شیلٹر ہوم میں رات بسر کرنے کی سہولت مہیا ہوگی۔تقریباً اس قسم کے دعوے پورے اضلاع کے انتظامی افسران کی جانب سے کئے جارہے ہیں اگر یہ عارضی طور پر موسم کی شدت کے دنوں کیلئے ہی تھے تو پھر اس کی گنجائش اور انتظامات ممکن ہیں لیکن اگر ان پناہ گاہوں کا مستقلاً قیام مطلوب ہے تو پھر ضلعی انتظامیہ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوسکتے کہ وہ پناہ گاہیں چلا سکیں۔ایک رپورٹ کے مطابق قبل ازیں سرکاری سطح پرمستقلاً چلنے والے پناہ گاہوں کو بھی حکومت کی طرف سے وسائل نہیں دیئے جارہے تھے ۔ہمارے تئیں پناہ گاہوں کا وقتی اور ہنگامی بنیادوں پر انتظام کی حد تک توضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری درست ہے بلکہ زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے وفاقی اور صوبائی ذمہ دارادارے اس فرض کو نبھاتے۔بہتر ہوگا کہ ان وقتی انتظامات کو مستقل شکل دی جائے اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر اور جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں پر پی ڈی ایم اے یا سوشل ویلفیئر کے محکمہ کو یہ ذمہ داریاں سونپی جائیں۔

ڈاکٹروں کی مزیدتعلیم کا مسئلہ

خیبرپختونخوا میں ایم بی بی ایس کے بعد تخصص کیلئے ڈاکٹروں کو داخلوں میں مشکلات کی صورتحال کی ذمہ داری جہاں صوبائی حکومت کی جانب سے دیگر صوبوں میں جانے والے طلبہ کو وظائف کی عدم فراہمی ہے وہاں دوسری جانب صرف مرضی کے شعبوں میں تخصص کرنے پر ڈاکٹروں کا بضد ہونا بھی بتایا جاتا ہے کہ تقریباً تین سو پچاس کے قریب ماہر ڈاکٹروں کی آسامیاں اس لئے خالی پڑی ہیں کہ ان شعبوں میں سپیشلائزیشن پر ڈاکٹر تیار ہی نہیں ہوتے۔صوبے میں من پسند شعبوں میں سپیشلائشین کے مواقع کم ہونے پر اب ڈاکٹروں کی جانب سے مطالبات کئے جارہے ہیں کہ ایف سی پی ایس ون پاس کرنیوالے ڈاکٹروں کو ٹی ایم او تربیت کیلئے مختلف ہسپتالوں میں کھپانے کیلئے اقدامات کئے جائیں جبکہ دیگر صوبوں میں اس تربیت کیلئے این اوسی دی جائے۔ڈاکٹروں کے نمائندوں کے مطابق سی پی ایس پی کے زیر اہتمام منعقدہ ایف سی پی ایس ون ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 1335 کامیاب طلبہ نے انڈکشن کیلئے پی جی ایم آئی میں داخلے کیلئے اپلائی کیا لیکن پی جی ایم آئی نے اعلامیہ جاری کر دیا کہ اس پر صرف ضرورت کے مطابق انڈکشن ہوگی جس کے تحت 423 طلبہ کو کھپایا جائیگا۔صوبے کے سرکاری ونجی میڈیکل کالجز ڈاکٹروں کی جو کھیپ تیار کر رہے ہیں اب تک تو بغیر کسی منصوبہ بندی اور ضرورت کے مطابق تخصص کی اجازت کی بجائے عام اجازت سے جو صورتحال بنی ہے اس پر محکمہ صحت اور ڈاکٹروں کے نمائندوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے علاوہ ازیں حکومت نے نئی پالیسی کے تحت اضلاع کے ہسپتالوں سے بھی ڈاکٹروں کو سپیشلائزیشن کے مواقع کی فراہمی کا جو عندیہ دیا تھا اس پر بھی پیشرفت ہونی چاہیئے۔ہمارے تئیں اس کے باوجود ڈاکٹروں پر تخصص کے دروازے بند نہیں ہوئے اگر وہ سرکاری وظیفے اور سرکاری ملازمت کے ساتھ ہی مزید تعلیم کی بجائے آزادانہ طور پر ایسا کرنا چاہیں تو مواقع کی کمی نہیں۔نجی میڈیکل کالجوں کے طلبہ کو آخر میں ہی موقع فراہم کیا جانا چاہیئے ایسا لگتا ہے کہ صوبے میں ڈاکٹروں کی اسامیوں کے مقابلے میں اب ڈاکٹروں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے اس کی بھی منصوبہ بندی ہونی چاہیئے سب سے اہم بات یہ کہ حکومت کشش سے محروم شعبوں میں تخصص کی حوصلہ افزائی کرے جبکہ ڈاکٹروں کو بھی صرف منافع بخش شعبوں ہی کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے گنجائش کے حامل شعبوں کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں