Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

اللہ تعالیٰ نے حالات کو(خواہ اچھے ہوں یا برے) انسانی اعمال سے جوڑا اور وابستہ فرمایاہے،چنانچہ انسان کے نیک وبد اعمال کی نوعیت کے اعتبار سے احوال مرتب ہوتے ہیں،صحت ومرض،نفع ونقصان، کامیابی وناکامی،خوشی وغمی،بارش وخشک سالی،مہنگائی وارزانی، بدامنی ودہشت گردی،وبائی امراض، زلزلہ، طوفان، سیلاب وغیرہ،یہ سب ہمارے نیک وبداعمال کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔باالفاظ دیگر ان سب احوال کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہوںمگر حقیقی اسباب ہمارے نیک وبد اعمال ہوتے ہیں۔اس طرح کے خوفناک اورعبرت انگیز واقعات (خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی) دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے''الارم'' اور''تنبیہ'' ہوتے ہیں، تاکہ انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور کوئی تنبیہ اس کے غفلت شعاردل کو جنبش دینے میں کامیاب ہوجائے: جب بھی میں کہتا ہوں:اے اللہ! میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ دنیا میں پیش آمدہ اچھے یا برے واقعات سے حاصل ہونے والا انسانی تجربہ بھی اسی پر شاہد ہے کہ بہت سارے لوگوں اور قوموں پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے دنیا میں ہی مختلف قسم کے عذاب آئے ہیں،مثلاً:کوئی مسخ کیا گیا ،کوئی زمین میں دھنسایا گیا،کوئی دریا میں غرق کیا گیا،کوئی طوفان کی نذر ہوا۔ ان تباہ شدہ اقوام کی بستیوں کے کھنڈرات آج بھی اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ نافرمانی سبب پریشانی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور حضورۖ نے احادیث مبارکہ میں اعمال کی حسب نوعیت تاثرات کو(جیسی کرنی ویسی بھرنی کے بہ مصداق) مختلف پہلوئوں اور طریقوں سے بیان فرمایا ہے،امت کو بد عملیوں کے برے نتائج سے آگاہ فرما کر اعمال کی اصلاح کا حکم دیا ہے،چنانچہ یہ مضمون قرآن کریم کی دسیوں آیات اور حضورۖ کی سینکڑوں احادیث سے صراحاً ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:ترجمہ: ''جوکوئی نیک کام کرے گا،خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ صاحب ایمان ہو،تو ہم اُسے پاکیزہ(یعنی عمدہ) زندگی دیں گے''۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی پرُسکون زندگی کا سبب ہے ،چنانچہ دو چیزوں(ایمان اور اعمال صالح)کے موجود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے''حیات طیبہ''یعنی پر لطف اور پرسکون زندگی عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ عام آدمی بھی یہ آیت پڑھ کر یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ایمان اور اعمال صالح نہ ہوں یا کوئی ایک ہو تو''حیات طیبہ'' یعنی ''پُرسکون زندگی''نصیب نہ ہوگی، بلکہ ''پریشان زندگی'' نصیب ہوگی۔ دوسری جگہ ارشاد ہے ترجمہ:''اور جو شخص میری نصیحت سے اعراض کرے گا تو اس کے لئے (دنیا اور آخرت میں)تنگی کا جینا ہوگا'۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہ کی،بلکہ نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ اس پر دنیا کی زندگی تنگ کر دیں گے، ظاہری طور پر مال ودولت،منصب وعزت مل بھی جائے تو قلب میں سکون نہیں آنے دیں گے،اس طور پر کہ ہر وقت دنیا کی حرص،ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بے آرام رہے گا۔

متعلقہ خبریں