Daily Mashriq

کشمیر !!بھارت کی عالمی رسوائی کا نشان

کشمیر !!بھارت کی عالمی رسوائی کا نشان

ہانگ کانگ کے معروف اخبار ایشیا ٹائمز نے کشمیر کی صورت حال پر ایک اہم رپورٹ شائع کی ہے۔ ''شہریت کے نئے قانون نے بھارت کے عالمی قد کو چھوٹا کر دیا '' کے عنوان سے بھارتی صحافی سیکیٹ دتا کی چشم کشا رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مودی کی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر کھوکھلا کر دیا ہے۔ بھارت کو کئی دہائیوں سے جاری سفارتی فتوحات کے بعداب عالمی سطح پر غیر معمولی شکوک وشبہات اوربے توقیری کا سامنا ہے۔بھارتی حیثیت کو عالمی سطح پر کھوکھلا کرنے میںنریندر مودی کی تین اہم پالیسیوں مذہب کی بنیاد پر شہریت کے قانون،کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور نوٹ بندی نے اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال اپریل مئی میں ہونے والے انتخابات میںنریندر مودی نے دوسری بار حکومت کے لئے بھاری کامیابی حاصل کی لیکن ابتدائی چند مہینوں میں ہی پالیسیوں کی بڑی تبدیلیوں نے اب ان کی حکومت کو عالمی سطح پر مشکلات میں ڈال دیا ہے۔شہریت بل کے حوالے سے بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ شہریوں کا قومی اندراج ہونے کے بعدمسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کردیا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے سٹریٹجک پارٹنر امریکہ کے دو صدارتی امیدوار کشمیر کے موجودہ حالات پر ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکی کانگریس کی رکن پامیلا جے پال نے کشمیر کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ تیار کی ہے ۔اس رپورٹ نے دو پلس دو یعنی بھارت اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور دفاع کی ملاقات پر بھی منفی اثر ڈالا جہا ں اہم سٹریٹجک معاملات پر بات ہونا تھی ۔نہ صرف ایشیا ٹائمز کی یہ رپورٹ بلکہ بھارت میں تشکیل پانے والے نیا منظر نامہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ طاقت دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اور صداقت کا نام نہیں ۔زمینی اور انسانی طاقت بہت کچھ تو ہو سکتی ہے مگر سب کچھ نہیں ایشیا ٹائمز کا کشمیر کو بھارت کی عالمی رسوائی کا سامان اور شرمندگی کی بنیاد تسلیم کرنا اس حقیقت کا اعتراف ہے ۔کشمیر کو بھارت کے قومی اور جغرافیائی وجود میں رکھ کر دیکھیں تو یہ ایک وسیع و عریض دیوہیکل ملک میں ایک نقطے کی مانند ہے اور ڈیڑھ ارب انسانوں میں اسی لاکھ افراد کی حیثیت اور وقعت ہی کیا ؟اس سے زیادہ آبادی تو بھارت کے کسی چھوٹے سے شہر کی بھی ہو سکتی ہے ۔وسائل ،قوت اور آبادی کے اسی عدم تناسب کی بنا پر بھارت نے کشمیر کو ترنوالہ سمجھ کو ہضم او رہڑپ کرنے کا راستہ اپنایا تھا۔قدرت کو اس چیونٹی کے ہاتھوں ہاتھی کی موت مطلوب تھی کہ پانچ اگست کوطاقت کے نشے میں چور نریندر مودی کا پائوں کشمیر نام کی ایک دلدل میں پڑ گیا اس کے بعد سے نریندر مودی حماقتوں کی ایک وسیع دلدل میں دھنستاہوا ''نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں'' کی عملی تصویر بن کر رہ گیا ہے ۔جس کشمیر میں ''آزادی آزادی ''کے نعروں کو دبانے اور یہ نعرے بلند کرتی زبانوں کو خاموش کرانے کے لئے بھارت نے لاکھوں فوج مسلط کر رکھی ہے اور یہ فوج کشمیرکو ایک بڑی جیل اور قتل گاہ بنائے ہوئے ہے''ہم چھین کے لیں آزادی ''کے وہ نعرے آج دہلی سے آسام تک گونج رہے ہیں ۔جن نعروں کو کشمیر میں سن کر بھارتیوں کے کان کھڑے ہو جاتے اور بھنویں تن جاتی تھیں آج بھارت کے کروڑوں افراد میں یہ نعرے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اور آسام جیسی کئی ریاستیںبالکل کشمیریوں کی طرح ہی ان نعروں کے پس منظر میں حق خود ارادیت کے مطالبات کرنے لگی ہیں۔امریکہ جہاں بھارت کے حکمرانوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا ۔پاکستان کی مخالفت میں امریکی بھارت کو جمہوری ،لبرل ،سیکولر ملک جان کر اس پر صدقے واری جارہے تھے اب بھارت ایک نئے امیج کے ساتھ متعارف ہو رہا ہے۔ اب واشنگٹن میں بھارت کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر چھلک جانے کو ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے مودی کو ہٹلر کا نیا جنم قرار دینے اور باور کرانے کا جو عمل شروع کیا تھا کشمیر کے بعد شہریت قانون نے مغربی دنیا میں اس تاثر کو مزید گہرا کر دیا ہے اور مغربی میڈیا بھی دبے لفظوں میں مودی کی شکل میں ایک ہٹلر اُبھرنے کے تصور کی حمایت کرتانظر آرہا ہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نریندر مودی کو عمارت سے باہر جس خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس نے بیرونی دنیا میں بسنے والے بھارتیوں کے سر شرم سے جھکا دئیے تھے ۔لندن سے نیویارک تک برلن سے پیرس تک پاکستان اور کشمیری عوام نے بھارتی حکمرانوں کا جس پامردی اور جرات سے تعاقب کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔انہوں نے اپنے منفرد مظاہروں سے مغربی دنیا کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھولنے میں اہم کردار ادا کیا ۔بھارتی ایجنسیوں نے بیرون ملک بسنے والوں کے اس بے ساختہ اور فطری احتجاج کے جواب میں بھارتی باشندوں کو لاکھڑا کرنے کی کوشش کی مگر بھارتیوں کے اجتماعی ضمیر نے اس سیلِ رواں کے آگے کھڑا ہونے سے معذوری ظاہر کی کیونکہ مغرب کے کھلے معاشروں میں رہنے والے ان بھارتی باشندوں کے پاس اسی لاکھ آبادی کو یرغمال بنانے ،ان سے موبائل اور انٹرنیٹ جیسی سہولت چھیننے اور مسجدوں کو تالے ڈال کر عبادت جیسے فرض کی ادائیگی سے روکنے اور سکولوں کو بند رکھ کر تعلیم کا حق چھیننے کا دفاع کرنے کو دلائل تھے نہ الفاظ اس سے بھی بڑھ کر کشمیر کے پرجوش حامیوں کے مقابل کرائے کے مظاہرین کا کھڑا رہنا کئی مقامات پر ناممکن ہو کر رہ گیا۔اب حالت یہ ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر دورہ امریکہ میں امریکی کانگریس کے ارکان کا سامنا نہ کر سکے اور کشمیر کے حوالے سے کانگریس کے ارکان کے متوقع سوالوں سے گھبرا کر طے شدہ ملاقات منسوخ کرنے پر مجبورہو گئے ۔من موہن سنگھ کے شائننگ انڈیا کا بھانڈہ مودی نے بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے اوربھارت کا سار امیک اپ چند فیصلوں سے دھل کر رہ گیا ہے۔کشمیر بھارت کا سیاسی ''واٹر لو'' ثابت ہوگیا ہے ۔

متعلقہ خبریں