Daily Mashriq

حکومت اپنے اندر کالی بھیڑیں تلاش کرے

حکومت اپنے اندر کالی بھیڑیں تلاش کرے

ویسے تو پاکستان کبھی آسان دور سے نہیں گزرا لیکن آج کل جن مشکل حالات کا شکار ہے وہ ماضی میں کبھی نہیں رہے لیکن سوال یہ ہے کہ حالات کی یہ مشکلات لائی ہوئی کس کی ہیں؟۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے ثبوت و شواہد یا بڑی بڑی دلیلوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ جس طرح رات رات ہی ہوتی ہے اور دن دن ہی ہوا کرتا ہے بالکل اسی طرح موجودہ حکومت نہ تو عوامی نمائدہ ہے اور نہ ہی کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ عوام پر عذاب کی صورت مسلط کی گئی ایک قہر ہے جس کی تباہی و ہلاکت سے اللہ ہی بچا سکتا ہے یا پھر ان شہید روحوں کی دعائیں جنہوں نے پاکستان بنانے کی جد وجہد میں صرف اور صرف اس لیے قربانیاں دی تھیں کہ یہاں اللہ اور اس کے رسول کا نظام نافذ کیا جائے گا۔جو قیادتیں حقیقی جد وجہد اور عوامی طاقت و قوت سے اپنی منزل مراد پایا کرتی ہیں صرف ان ہی کو اپنی قربانیوں کی قدر ہوتی ہے۔ جن کو اقتدار کی منزل بغیر کسی قربانی کے حاصل ہوتی ہے انہیں کبھی اس بات کی پروا ہو ہی نہیں سکتی کہ منزل ہاتھ سے جاتی ہے یا رہتی ہے۔ جو عوامی تائید کے بغیر آئے ہوں ان کو عوام کی بھلا کیا فکر ہو سکتی ہے اسی لیے پاکستان میں موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت کی نظروں میں عوام کی نہ تو فلاح کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اس کی بہبود کا خیال۔ اسے اگر کوئی فکر ہے تو ان بڑی اور مخالف جماعتوں کی جو کسی بھی وقت اس کے اقتدار کا سورج غروب کر سکتی ہیں یا پھر ان قوتوں کے ہاتھ پائوں مضبوط کرنے کی جو اسے اقتدار کی کرسی تک لے کر آئی ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم جو عمل یہ سوچ کر کررہے ہوں کہ اس سے ہمارے مخالفین کی شہرت مجروح ہوگی یا ان کے حوصلے پست سے پست تر ہوجائیں گے یا ہم جن کی مہربانیوں سے عزت و جاہ کے مالک بنے ہیں ان کی عزت و وقار میں ہمارے عمل سے اضافہ ہو جائے گا تو بعض اوقات ہمارے ہر عمل کا نتیجہ ہماری سوچ کے بر عکس ہمارے سامنے آتا ہے اور ہماری ساری تدابیر الٹ کر رہ جاتی ہیں۔ یہی کچھ موجودہ حکومت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ایک جانب تو موجودہ حکومت جن دعوئوں اور وعدوں کا سہارا لیکر میدان عمل میں اتری تھی، وہ سب تو ریت کی دیوار یا سوکھے پتے ثابت ہوئے جو مشکلات کی ہوا کے ایک ہلکے سے جھونکے میں بکھر کے رہ گئے۔ ایک کروڑ نوکریاں،50لاکھ گھر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی، بجلی، گیس اور پٹرول کا سستا ہونا اور ڈالر کی قدر گرجانا جیسے دعوے ہوا میں تحلیل ہوگئے اور اس کے برعکس عوام کی مشکلات میں اضافہ در اضافہ ہوتا گیا۔ آخر میں میں نہیں چھوڑونگا کا نعرہ بھی اب کافی عرصے سے اس لیے سنائی نہیں دے رہا کہ خود اب ان تمام نہیں چھوڑوں گا کی مدد اور اعانت کی ضرورت شدت کے ساتھ پڑتی محسوس ہو رہی ہے، اس لیے کہ بہت سارے قانونی معاملات ایسے درپیش ہیں جن کو میں نہیں چھوڑوں گا کی شراکت اور امداد کے بغیر حل کیا ہی نہیں جا سکتا۔اس حکومت کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ اپوزیشن اور محسنوں کے درمیان شٹل کاک بن کر رہ گئی ہے۔ یہ جب جب عوامی انداز میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اپوزیشن سے کسی سمجھوتے کی جانب بڑھتی ہے تو محسنین اس کو دوبارہ اپوزیشن کے مد مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔حکومت کی قانونی ٹیم کے روح رواں ایک ایسے سرخیل ہیں جن کی مسحور کن شخصیت نے نہ صرف حکومت کے سب سے بڑے عہدیدار کو اپنا اسیر بنایا ہوا ہے بلکہ محسنین بھی ان ہی پر اعتماد کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ممبر کا اخلاص بھی دیکھیں کہ وہ بھی وزارت چھوڑ کر ایک وکیل بن جانے کو ترجیح دینا قبول کر لیتا ہے۔ دوسری جانب ممنون کا بھی یہ حال ہے کہ اس پر اس بری طرح مر مٹا ہے کہ ایکسٹینشن کا کیس حل ہوتے ہی دوبارہ اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے امانت کے طور پر واپس لی گئی وزارت اسی کو بصد شکریہ واپس کر دیتا ہے۔اس بات کو کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ موجودہ حکومت میں ایک بھاری تعداد ان افراد کی موجود ہے جو سابق جنرل مشرف کی بنائی ہوئی حکومت میں موجود تھی۔ قانونی ٹیم میں شامل اہم اور مقبول ترین قانون دان بھی وہ صاحب ہیں جو سابق جنرل مشرف کا مقدمہ لڑتے رہے ہیں اور جنرل مشرف کو پاکستان سے باہر بھیجنے کے تنہا ذمے دار بھی وہی رہے ہیں۔ موجودہ حکومت میں مشرف کے اتنے ہمدرد موجود ہونے کے باوجود بھی اگر مشرف صاحب کو سنگین غداری کیس میں سزا سنادی جاتی ہے تو پھر مقتدرہ کو بھی چاہیے کہ وہ سارے معاملات کا از سر نو جائزہ لے اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کرے کہ کہیں اس کے اپنے لائے ہوئے لوگ ہی ادارے کی جڑیں تو نہیں کاٹ رہے ہیں اور وہ اندرونِ خانہ خود اس سے کوئی کھیل تو نہیں کھیل رہے ہیں؟۔یہاں اس پہلو کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے کہ قانونی ٹیم کے اس اہم ممبر کو متعارف کرانے والی کون سی شخصیت تھی اور پھر اسی شخصیت کے خلاف پاکستان میں100سے بھی کہیں زیادہ قائم ہونے والے غداری کے مقدمات کی وکالت کون کر رہا تھا؟۔ جس شخص کو پاکستان میں کوئی پہچانتا تک نہیں تھا وہ اچانک چمکتا دمکتا ستارہ کیسے بن گیا؟۔ کیا اس کے دل میں کوئی ہلکی سی رمق بھی اپنے لانے والے کے لیے ہونے کا امکان نہیں۔ یہ وہ ساری باتیں ہیں جن پر محسنین اور ممنونوں کو نہایت سنجید گی سے غور کرنا ہوگا اس لیے کہ دونوں میزبان اور مہمان کو آمنے سامنے کھڑا کرنے والی حکومت کی قانونی ٹیم کی سنگین غلطیاں ہیں جو ضروری نہیں کہ محض اتفاقا ہوئی ہوں۔

متعلقہ خبریں