Daily Mashriq

اک بد نصیب شہر نے گویائی بیچ دی

اک بد نصیب شہر نے گویائی بیچ دی

کئی کہانیاں یاد آرہی ہیں،چالاک لومڑی اور بلبل کی کہانی،اہل مغرب کی بے بسی کی وہ داستانیں جو بعض فلموں میںبیان کی گئی ہیں،بادشاہ کے اناروالے باغ میں ایک انار کا رس پی کرباغ کے مالک پرٹیکس لگانے کی داستان جو سکول کے زمانے میںتدریسی کتب کے توسط سے ہمیں پڑھائی گئی تھی،ان سب کا اطلاق اس خبر کے مندرجات پر آسانی سے کیا جا سکتا ہے جو گزشتہ روزہی روزنامہ مشرق نے دوکالمی سرخی کے ساتھ پہلے صفحے پر نمایاںطور پر یعنی باکس میں چھاپ کر عوام کی توجہ دلائی تھی،تاہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے باوجود کہ شہر کے دوسرے بڑے اخبارات میں اگلے روز اس پر کوئی شذرہ یا کالم سامنے آجائے گا،مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔خبر کیا تھی اس کا تذکرہ کرنے سے پہلے اوپر دی گئی کہانیوں یا واقعات کا مختصر سا ذکر ضروری بنتا ہے تاکہ کالم کے جواز کو واضح کیا جاسکے اور یہ جو باتیں کہانیاں یا د آرہی ہیں تو داغ دہلوی نے اسی حوالے سے تو کہا تھا کہ

آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد

کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

بلبل کے منہ میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا کسی پھل وغیرہ کا دیکھ کر درخت کے نیچے سے گزرنے والی چالاک لومڑی نے بلبل کے نغمہ سرائی کی تعریف کرتے اور منہ میں پانی بھرتے ہوئے کہا اے بلبل تجھے اللہ نے کتنی خوبصورت اور شیریں آوازدی ہے کہ سارا جنگل تیرے نغموں سے گونج اٹھتا ہے،ذرا گاکر مجھے بھی محظوظ کر،لومڑی کی چکنی چیڑی باتوں میں آکر جوں ہی بلبل نے گانے کی کوشش کی ،اس کے منہ سے پکڑا ہوا خوراک کا ٹکڑا نیچے گر گیا اور لومڑی اسے اچک کریہ جاوہ جا

بلبل جو ہوا نغمہ سرا کنج چمن میں

دل جھوم اٹھا میرا بھی امکان میںگل کے

تاہم یہاں''امکان''کو لومڑی کے نقطہ سے پرکھنے کی ضرورت ہے،اب ان مغربی ممالک میں ہونے والے واقعات کا مختصر سا ذکر جو ہالی وڈ کی بعض فلموں کے ذریعے ہم تک پہنچتے رہے ہیں،قدیم دور میں بعض مغربی ممالک کے اندر بے چارے عوام کی حالت زار کاان فلمی کہانیوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح اس زمانے کے حکمران غریب عوام پر ٹیکسوں کا ظالمانہ نظام رائج کر کے زبردستی ان سے وصولیاں کرتے تھے اور ان کی فصلوں کا غالب حصہ وصول کرنے کے باوجود جب شاہی درباروں کے عیاشانہ اخراجات کم پڑ جاتے تو سپاہی مختلف کائونٹیز (Counties) کی جانب روانہ کر کے عوام کے پاس جو کچھ بچا کھچا ہوتا وہ بھی زبردستی''لوٹ کر'' انہیں بھوک اور افلاس کے حوالے کر دیتے۔اسی طرح انار کے دانوں سے ایک پیالہ میٹھا رس پی کر شکاری کے بھیس میں بادشاہ باغ پر ٹیکس لگانے کی سوچ لیتا ہے ،تو دوسرا پیالہ ترش رس اور کم مقدار ہونے پر حیرت کا اظہار کرنے کے بعد باغ کے غریب مالک کے جواب سے دل ہی دل میں شرمندہ ہو جاتا ہے،یعنی دوسرا پیالہ اس لئے ترش اور مقدار میں بھی کم تھاکہ شاید یا تو میرے دل میں کھوٹ آگیا ہے یا بادشاہ کی نیت خراب ہوگئی ہے چونکہ میرا دل صاف ہے اس لئے ممکن ہے بادشاہ کی نیت کھوٹی ہو چکی ہے،حبیب جالب نے کہا تھا

لاکھ کہتے رہے ،ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا

ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

اب اس خبر کی جانب آتے ہیں،جس نے آج کا کالم لکھنے پر اکسایا،اور خبر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے5مرلے کے مکانات پر پراپرٹی ٹیکس عاید کرنے کی تجاویز تیار کر لی ہیں یعنی یہ جو غریبوں کو ایم ایم اے دور میں ایک سہولت دی گئی تھی اب اسے بھی واپس لینے کی سوچ اپنائی جارہی ہے ،ملک کے عوام پر بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار سے شاید حکمرانوں کا دل نہیں بھرا،اور آئی ایم ایف کے ذریعے یوٹیلیٹی بلز میں مسلسل اضافے سے جس طرح عوام کی چیخیں نکالی جارہی ہیں،اقتدار میں آنے سے پہلے جو وعدے کئے گئے تھے،ان سے ایک ایک کر کے یوٹرن لیا جارہا ہے وہ کیا کم تھا کہ اب غریب لوگوں کے بہ مشکل بنائے ہوئے چار اور پانچ مرلے کے مکانات کو بھی ٹیکس کے نفاذ کے ذریعے عوام کیلئے عذاب بنایا جارہا ہے یعنی اب یہ سوچ اپنائی جارہی ہے کہ صرف تین مرلے کے مکانات ہی کو ٹیکس فری کیا جائے اور دیگر تمام گھروں یعنی تین مرلے سے زیادہ کے رہائشی مکانات پر بھی ٹیکس عائد کر کے قدیم دور کی مغربی دنیا کی تقلید کی جائے،اگرچہ جو لوگ پانچ مرلے کے مکانات میں رہائش پذیر ہیں ان کی حیثیت اتنی ہر گز نہیں کہ وہ اس زیادتی کو برداشت کرسکیں،کیونکہ بے روزگاری،غربت اوپر سے بے پناہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے کراہتے ہوئے وہ مزید کوئی ٹیکس ادا کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتے،تو پھر اس''سوچ''کو انار والے بادشاہ کی بد نیتی سے تعبیر کیا جائے،قدیم مغربی مونارکس کی سفاکانہ پالیسیوں کے آئینے میں دیکھا جائے ،یا پھر بڑی مشکل سے بلبل کے منہ میں خوراک کے ایک ٹکڑے کی مانند غریب عوام کے پاس ٹیکسوں کی بھر مار سے بچا ہوا حصہ قرار دیکر چالاک لومڑی کی حریصانہ نظروں کے طفیل یہ بھی چھیننے کی کوشش سمجھا جائے ، ایم ایم اے کے دور میں صرف راقم ہی ایک ایسا قلم کار تھا جس نے مسلسل اس مسئلے پر کالموں میں تسلسل کے ساتھ اس مسئلے کو اجا گر کیا اور تب ایم ایم اے حکومت نے5مرلے تک کے مکانات کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا قانون پاس کیاتھا،اس لیئے جو لوگ بھی یہ عوام دشمن سوچ اپنارہے ہیں انہیں اس سوچ کو تج دینا چاہیئے کیونکہ عوام پر پہلے ہی اتنے ٹیکس لاگو کئے گئے ہیں کہ وہ مزید کی تاب نہیں رکھ سکتے۔اراکین صوبائی اسمبلی کب اس پر احتجاج کریں گے کہ بقول یوسف عزیز زاہد

بے نطق ہوگیا ہے ہر آواز کا بدن

اک بد نصیب شہر نے گویائی بیچ دی

متعلقہ خبریں