Daily Mashriq

بد عنوانی سے پاک پاکستان کے دعوے

بد عنوانی سے پاک پاکستان کے دعوے

سابق صدر پاکستان آصف زرداری کی میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین کیس میں ضمانت منظور کر لی گئی ضمانت پر رہائی کے بعد سابق صدر آصف زرداری کراچی پہنچے جہاں ان کو خرابی صحت کے سبب ایک نجی اسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے میاں صاحب کی رہائی اور بیرون ملک علاج کے لیے جانے اور زرداری صاحب کی رہائی پر موجودہ حکومت میں بے چینی پائی جاتی ہے ان تمام معاملات کو خان صاحب کے کرپشن کے بیانیہ کی ناکامی سے جوڑا جارہا ہے اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ میاں صاحب کے بیرون ملک جانے سے تحریک انصاف کے ووٹروں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے جس کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر ڈیڑھ سال سے گرفتاریاں کی جارہی ہیں مگر کرپشن ثابت نہیں ہورہی اور کرپشن کے الزامات میں ملوث اپوزیشن کے رہنماء کئی کئی ماہ نیب کی حراست میں رہنے کے بعد عدالتوں سے ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر ضمانتوں پر رہا ہورہے ہیں جس سے تحریک انصاف کے بیانیہ کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے کوئی دو رائے نہیں کہ کرپشن کی تحقیقات کرنے والے ادارے اس وقت تک کسی بھی سیاسی رہنماء پر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کرپشن ثابت نہیں کر سکے ہیں اپوزیشن کے بہت سے سینئر رہنماء جن میں حمزہ شہباز سعد رفیق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان مفتاح اسماعیل سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سمیت کئی رہنمائ نیب کی حراست میں ہیں تو مریم بی بی شہباز شریف اور آصف زرداری کئی ماہ نیب کی حراست میں رہنے کے بعد ضمانت پر باہر ہیں مگر ان میں سے کسی پر بھی نئے پاکستان میں کرپشن ثابت نہیںہوسکی ہے۔

ہماری نظر میں موجودہ حکومت کر پشن کے خاتمے پر سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہی ایک طرف کرپشن کے خاتمے کی گونج سنائی دیتی ہے تو دوسری جانب ملک کی جڑوں کو کرپشن کے ذریعے کمزور کرنے والوں کو پلی بار گینگ کے قانون کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جارہا ہے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے سے ان کے ناجائز اثاثوں کو جائز بنایا جارہا ہے کالے دھن کو سفید میں تبدیل کیا جارہا ہے یعنی ان کو اشرافیہ ہونے کی ہر سہولت فراہم کی جارہی ہے جو خان صاحب کے بیانیہ کی شکست ہے۔ پلی بارگینگ ایمنسٹی اسکیم ہی وہ ہتھیار تھے جن کو استعمال کر کے ماضی کی حکومتیں اپنی جماعت کے اندر اور مخالف جماعت کے کرپٹ افراد کو قومی خزانہ لوٹنے کا مزید موقع فراہم کرتی تھیں جس کی وجہ سے کرپشن کا خاتمہ ہر دور میں ناممکن رہا کرپشن کرنے والوں اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو ہم نے کبھی مثال بنا کر سزا نہیں دی جس کی وجہ سے کرپشن کا جن ہمیشہ بے قابو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں آصف زرداری کی رہائی کے بعد وفاقی وزیر شیخ رشید کا یہ کہنا کہ آصف زردای نے پلی بارگین نہیں کی تو بلاول بھٹو کا مستقبل ختم ہوجائے گا۔ پلی بارگین کو سیاسی مستقبل سے جوڑنا سمجھ سے بالا ہے اس طرح کے بیانات سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ کرپشن کرنے والوں کو ایک موقع فراہم کرنا چاہتی ہے کہ وہ ماضی کا لوٹا مال واپس کر دیں اور نیا ڈاکا مارنے کی تیاری کریں یعنی چور کو سزا نہیں بلکہ مزید چوری کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ہماری نظر میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے پلی بار گینگ کا قانون ہی سب سے بڑا این آر او ہے پلی بار گینگ کا مقصد کریمنل اور استغاثہ کے درمیان معاہدہ ہے نیب کے آرڈینس کی دفعہ ٥٢ کے تحت کوئی بھی شخص جس نے قومی خزانہ لوٹا ہو وہ رضاکارانہ طور پر نیب کو پلی بارگین کی درخواست دے سکتا ہے اور نیب اس درخواست کو قبول کر سکتا ہے جس کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت کا دس فی صد واپس کرکے قومی خزانے میں جمع کرایا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پلی بار گینگ ایک کالا قانون ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص برسوں کرپشن کرتا ہے اس ملک کے غریب عوام کے حقو ق پر ڈاکا ڈالتا رہتا ہے اس کو اگر نیب کی جانب سے گرفتار کر بھی لیا جاتا ہے تو کرپشن کی پوری رقم پر چند فی صد پلی بارگین کی صورت میں ادا کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سینیٹ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے نیب سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا ہے اس بل کا بغور مطالعہ کریں تو نیب قوانین میں ترمیم کا یہ بل صرف بدعنوان عناصر کرپٹ سیاستدانوں کو خوش اور مزید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ یقینا نیب قوانین میں اصلاحات بہت ضروری ہیں مگر صرف اپنی ذات کو محفوظ بنانے کے لیے اصلاحات لانا ہی اداروں کی تباہی کا سبب بنتا رہا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ درست سمت بہتر تحقیقات غیر جانبدار احتساب کے ذریعے ہر صورت ہونا چاہیے مگر اس سے پہلے انصاف اور تحقیقات کے اداروں میں موثر مضبوط اصلاحات کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ ساتھ ہی نیب کے آرڈینس کی دفعہ ٥٢ پلی بارگینگ کا خاتمہ بھی کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں