Daily Mashriq

پنجاب کے محکمہ صحت پر پیر خانوں کا راج

پنجاب کے محکمہ صحت پر پیر خانوں کا راج

پنجاب میں سیدھے سادھے معصوم وسیم اکرم پلس سردار عثمان علی خان بزدار کی حکومت ہے۔ ظاہر ہے وسیم ا کرم بھی کھیل کے میدان میں اترتے ہی وسیم اکرم نہیں بن گئے تھے چند برسوں کی محنت مشقت اور لگن نے ان کا نام روشن کیا اور اب وہ دنیائے کرکٹ کا قابل فخر حوالہ ہیں۔ ہمارے وسیم اکرم پلس بھی سیکھ جائیں گے ابھی اتنی جلدی کیا ہے ماضی میں وہ تحصیل ناظم تونسہ شریف رہے ہیں اچھا خاصا تجربہ ہے ناظمی کا۔ یہ الگ بات ہے کہ خود ہمارے بزدار کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ حکومت چل کیسے رہی ہے اور چلا کون رہا ہے۔ ان کے لئے وزیر ا عظم نے تین بار بیورو کریسی کی بھل صفائی کی۔ شہباز گل سے نجات دی لیکن ہمارے بزدار کو ان آستانوں سے کون بچائے گا جو تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے دفتر سے زیادہ با اختیار ہیں۔ مثال کے طور پر سندر شریف کے آستانے کو ہی لے لیں کچھ عرصہ قبل ان پیر صاحب کی سفارش پر ساہیوال میڈیکل کالج کے پرنسپل بننے والے ڈاکٹرجن پر الزام ہے کہ وہ ہفتہ میں پانچ دن اب بھی ایک نجی ہسپتال میں مریض دیکھتے اور آستانہ شریف میں پیر خانہ کی خدمت کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے پیر کو کالج کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور دو کلو میٹر کے فاصلے پر 6لاکھ روپے کے پھول برسائے یہ رقم کالج فنڈ سے خرچ ہوئی۔ اب جنت کس کی پکی ہوئی ڈاکٹر صاحب کی یا کالج کی؟۔ پرنسپل جن پانچ دنوں میں لاہور ہوتے ہیں ان پانچ دنوں میں ان کے پیر بھائی جوکہ ساہیوال کے ایک مقامی تھانہ کے اہلکار ہیں قائم مقام پرنسپل کے فرائض ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ہی درجہ چہارم کے ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کی بھرتی کا ریٹ نکالا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے وسیم اکرم پلس کے دور میں ہی یہ ہوا کہ میڈیکل بورڈ سے باقاعدہ نابینا قرار پانے والے ڈاکٹر کو سرجری کے شعبہ کا ہیڈ بنا دیاگیا یہ بھی آستانہ عالیہ کی برکت نظر آتی ہے۔ عجیب کرامت ہے کہ ا یک نا بینا ریٹائرڈ شخص کو سرجری کے شعبہ کا سربراہ بنا دیاگیا تو دوسری طرف دو ڈاکٹرز کو بحال کرکے پھر سے خدمت خلق پر مامور کر دیاگیا حالانکہ قانون کے مطابق برطرف کرنے والا افسر بحالی کے احکامات نہیں دے سکتا۔ راوی کہتا ہے کہ پنجاب (خصوصاً وسطی پنجاب) میں وائی ڈی اے کی سیاست بھی پیر خانے سے کنٹرول ہوتی ہے۔ اس لئے 5کروڑ کے گھپلے میں ملوث مرید خاص سے معاملہ طے کروایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں صحت کے شعبہ کو جہاں پیر خانوں نے برباد کیا وہیں وائی ڈی اے نامی ڈاکٹرز کی تنظیم کا کردار بھی روز روشن کی طرح نمایاں ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کی اس تنظیم میں اکثریت چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے پڑھ کر آئے ڈاکٹر کی ہے۔ ترقی کے لئے اہلیت کی بجائے مضبوط گروپ رکھنے اور دھونس کا مظاہرہ بھی پیر خانوں کی طرح موثرہے جیسے ایک ڈاکٹر پانچ بار ایسوسی ایٹ پروفیسر کے امتحان میں ناکام ہوئے لیکن پھر دھونس اورجعلی سند کی بدولت پچھلے سال ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے۔ دوسری مثال ایک اورڈاکٹر کی ہے جن کی ابھی تک 641 نمبروں والی میٹرک اور 688 نمبروں والی ایف ایس سی کی تصدیق متعلقہ بورڈ نے نہیں کی ان کے پاس چین کی جس یونیورسٹی کی سند ہے۔ وہ قائم تو 2000ء میں ہوئی لیکن اپنے قیام سے قبل ہی اس نے انہیں ڈگری عطا کردی اس عظیم ڈاکٹر نے 100نمبروں والے مضمون کے امتحان میں 120نمبر لئے۔ یہ چند مثالیں ہیں مگر پنجاب خصوصاً وسطی پنجاب کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں حالات اس سے بھی برے ہیں۔ وائی ڈی اے اور کچھ آستانے جس طرح وزارت صحت کو نکیل ڈالے ہوئے ہیں اس سے روز تماشے لگتے ہیں آج کل چونکہ دھند بہت زیادہ ہے اس لئے بہت سارے معاملات دھند میں گم ہو جاتے ہیں۔ اب تو خیر سے صورت یہ ہے کہ ملتان کے ایک پیر خانے کی خوشنودی کے لئے کرپشن میں گردن تک دھنسے ایک ڈاکٹر کو جن کی خصوصی مہارت کی ڈگری سپریم کورٹ جعلی قرار دے چکی ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت دینے کی فائل وزیر اعلیٰ کی میز پر پڑی ہے۔ اب پنجاب کے کسی ہسپتال میں چلے جائیں سینئر ڈاکٹرز کی اکثریت ہسپتالوں کی بجائے اپنے کلینکس میں ملے گی اور ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں آپ کو ٹائوٹ ملیں گے جو ہر قسم کے علاج اور آپریشن کے لئے گھیر گھار کر لے جاتے ہیں۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی بے بسی کی تین وجوہات ہیں اولاً وہ خود ڈاکٹرز کی ایک ملک گیر تنظیم سے منسلک ہیں ان کی تنظیم پی ایم اے کو اصل چیلنج وائی ڈی اے سے ہے۔ ثانیاً ق لیگ کے ایک وزیر کی ان کی وزارت میں سپیکر کی سربراہی میں مداخلت' ثالثاً وزیر اعلیٰ کے دفتر پر آستانوں کی بالا دستی۔ ایک اکیلی یاسمین راشد کیا کرے بس وہ بیان دیتی ہیں وعدے کرتی ہیں اور آگے جو ہوتا ہے وہ آستانوں کی برکت سے ہوتا ہے۔ ان حالات میں ہمارے سادہ بھلے مانس بزدار سے کسی کو شکوہ کرنے کا حق نہیں۔ فقیر راحموں پچھلے چند دن سے کہہ رہا ہے شاہ جی اگر تم نے بھی کوئی آستانہ عالیہ بنا لیا ہوتا تو آج کم از کم ایک آدھ میڈیکل کالج میں پرنسپل ہی لگوالیتے اس جملہ معترضہ کو رہنے دیجئے سوچئے یہ کہ ساڑھے 9یا 10کروڑ کی آبادی والے صوبے کو آستانے مزید کتنی دیر چلا پائیں گے؟ اور کتنی دیر ہمارے وسیم اکرم پلس کا بس نام استعمال ہوگا۔

متعلقہ خبریں