Daily Mashriq


موثر خارجہ پالیسی کے تقاضے

موثر خارجہ پالیسی کے تقاضے

وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیر صدارت دفتر خارجہ میں اجلاس اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے وقت اور حالات کے تناظر میں ضروری امور بن گئے تھے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہر دور میں حزب اختلاف اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر مختلف قوتوں اور عناصر کی جانب سے تحفظات کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ اس ضمن میں تقریباً اجماع کی کیفیت یہ رہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزادانہ اور قومی امنگوں کے مطابق اور ہم آہنگ نہیں اس سے اگر مکمل اتفاق نہ بھی کیا جائے تو ان تاثرات کی اصابت سے انکار کی بھی بہرحال گنجائش نہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں پارلیمنٹ کا کردار اتنا واضح اور پراثر نہیں جتنا ہونا چاہیے اس کے مظاہر اکثر وبیشتر اس وقت سامنے آتے رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کی سفارشات کو خارجہ پالیسی میں اس طرح سے سمویا نہیں جاتا رہا جس طرح کی ضرورت تھی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں فوج کے کردار کو زیادہ موثر اور اس کی ترجیحات کو موثر گردانا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مقبوضہ کشمیر ،بھارت،افغانستان امریکہ سے تعلقات جیسے معاملات کی اکثر وبیشتر مثالیں بھی دی جاتی رہی ہیں اس کے باوجود اس حقیقت کو بہرحال تسلیم کئے جانے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں کہ خواہ جس قسم کے بھی تحفظات پائے جائیں ان معاملات میں بہرحال ہم آہنگی ہی ملکی مفاد کا تقاضا ہے۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر مشکلات کا باعث دکھائی دیتے ہیں لیکن بادی النظر میں اس حوالے سے پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد ہی وسیع تر ملکی مفاد کا تقاضا ٹھہرتا ہے لیکن بہرحال وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ جوں جوں دیگر معاملات میں تبدیلی اور سویلین قیادت کی ذمہ داریاں بڑھتی اور موثر ہوتی جارہی ہیں اس میں خارجہ پالیسی کی آزادانہ تشکیل کی جانب بھی پیشرفت فطری امر ہوگا۔ گزشتہ روز کے اجلاس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بدلتی نوعیت کے تناظر میں ایک مکمل اور جامع ملکی پالیسی کی تشکیل اور حالات کا سفارتی مقابلے کی حکمت عملی کی تشکیل واضح اور ضروری تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی سلامتی اور تحفظ ہماری خارجہ پالیسی کا وہ بنیادی اور اہم نکتہ ہے جس سے کسی کو انکار نہیں اور اس ضمن میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔ پاکستان کا علاقائی اور عالمی امن کیلئے کردار بھی کسی سے پوشیدہ امر نہیں علاوہ ازیں متنازعہ معاملات کی بات چیت کے ذریعے حل نکالنا بھی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔ تنازعہ کشمیر کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں بھارت سے نرمی کا اختیار کردہ رویہ بھی صرف لاحاصل نہیں ٹھہرا بلکہ بھارت نے اس موقع کا ناجائزہ فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں حالات خراب کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھایا جبکہ دوسری جانب افغانستان میں بھارت کا اثر ونفوذ بڑھ گیا۔ یہ سب کچھ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان نے کشمیر تنازعے پر نسبتاً خاموشی اختیار کرلی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور کشمیریوں کی سفارتی واخلاقی حمایت میں گرمجوشی کا مظاہرہ نہ کیا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت اوراونچ نیچ بھی حالات کے مطابق ہوتے رہے مگر ہر مدوجزر امریکہ ہی کی جانب سے سامنے آیا اس وقت امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت پہلے کے مقابلے میں بہتر نوعیت کے ہوگئے ہیں۔ امریکہ بھارت کو اسلحے کی منڈی اور خریدار کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر جو جانبداری پر مبنی موقف اپنانے کا عندیہ دیا ہے اور کشمیر میں حریت پسندی کی تحریک کے اہم لیڈر کی جدوجہد کو آزادی کی جدوجہد ماننے کی بجائے جو دوسری نوعیت دے دی ہے اس کے عملی طور پر اثرات سامنے لانے کے اگر مظاہر سامنے آئیں تو پاکستان اور امریکہ کے اعتماد اور سفارتی تعلقات کی نوعیت میں بڑی تبدیلی غیر متوقع نہیں پاکستان نے برملا طور پر اس بارے میں اپنا موقف واضح کردیا ہے۔ امریکہ اگر بھارت کو اسلحہ بیچنے کی خاطر جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے کی غلطی کرے تو دنیا میں جدوجہد آزادی کے معنی تبدیل ہوجائیں گے اور اخلاقی وسفارتی طور پر بھی اگر جدوجہد آزادی کے مواقع کے راستوں کو بند کیا گیا تو دنیا میں انتہا پسندی کی ایک نئی صورت سامنے آئے گی جس کا مقابلہ کرنے کیلئے شاید دنیا کے ممالک کی صفوں کی ترتیب ہی الٹ جائے۔ امریکہ اور بھارت کا سی پیک کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں اپنے مفادات کے تحفظ کا حق ضرور حاصل ہے لیکن سازش پر مبنی مساعی سے دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ پاکستان کی امریکہ سے شراکت داری اور تعلقات کی اہمیت بہرحال مسلم حقیقت ہیں۔ امریکہ بھارت کی خوشنودی کیلئے کبھی کبھار بھارتی زبان ضرور بولتا رہا ہے لیکن اس کی خارجہ پالیسی اور پاکستان سے تعلقات میں کوئی ایسی بڑی تبدیلی کبھی سامنے نہیں آئی جسے پاکستان کی خطے میں اہمیت کو خطرات لاحق ہوں ۔محولہ تمام تر حالات کے باوجود توقع ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ میں اس قدر آگے نہیں جائے گا کہ پاکستان کو روس اور چین سے تعلقات موجودہ نوعیت کو دوسری ہیئت دینے کی ضرورت پیش آئے۔پاکستان کے پاس محولہ دونوں ممالک سے تعلقات اور خاص طور پر روس سے تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی کے بعد خطے میں دو اہم ممالک کے تعاون کی صورت میں جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ اطمینان کا پہلو ہے سعودی عرب قطر اور ایران سے تعلقات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور اسلامی اخوت بھائی چارہ اور ملکی مفادات کو مقدم رکھ کر ہر برادرملک سے تعلقات میں توازن اور اعتماد کا مظاہرہ کیا جائے تو کسی کو شکوے کی نوبت نہیں آئے گی۔ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کی بجائے ثالثی اور اخلاص کے ساتھ ان ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالے میں اپنا کردار ادا کرے۔ہمیں اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ دنیا میں کوئی ملک تنہا نہیں رہ سکتا اور ہر ملک کو دوسرے ملک پر انحصار کرنا ہی پڑتا ہے اور خاص طور پر پڑوسی ممالک کے مفادات اور علاقائی استحکام کیلئے تعاون اور اعتماد زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں اپنی باعزت بقاء کیلئے پڑوسی و علاقائی ممالک سے بالخصوص اور دنیا سے بالعموم تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور اپنے مفادات کے تحفظ پر مزید توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ دنیا سے اسی طرح سے تعلقات کو آگے بڑھایا جائے کہ ہمارے دوستوں کی تعداد میں اضافہ اور دشمنوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئے۔دنیا کے ممالک کے مفادات ٹکرانے کے باعث اختلافات اور ٹکرائو کی نوبت ضرور آتی ہے اس ضمن میں جس قدر بچائو اور تحفظ پر مبنی پالیسی اختیار کی جائے ملکی مفاد میں ہوگا۔دنیا اور خطے میں ظہور پذیر مسائل اور حالات کا جائزہ اور دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے دوستوں کا تعاون اور تحرک پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے حالات سے ایک فعال اور متحرک وزارت خارجہ ہی بہتر انداز سے نمٹ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں