Daily Mashriq


مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت

مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت

لنڈیکوتل میں غیرت کے نام پر لڑکی کے قتل کا گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد ارکان جرگہ کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اس سے قطع نظر اس فیصلے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس واقعے میں لڑکی کی مرضی شامل نہیں تھی بلکہ اسے نشہ دے کر غائب کیا گیا تھا۔ ارکان جرگہ سے استفسار کیا جانا چاہئے کہ جب مذکورہ لڑکی معاشی مجبوریوں کی بناء پر لڑکوں کا لباس پہن کر باپ کے ساتھ کنڈیکٹر کے فرائض انجام دیتی تھی اس وقت معاشرے نے اس کی مدد کیوں نہیں کی اور مقامی عمائدین نے اس وقت کردار ادا کیوں نہیں کیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ معصوم لڑکی کی زندگی تو چھینی جاچکی ہے مگر فعل بد کے مرتکبین جرگہ کی پہنچ سے دور ہیں معلوم نہیں کہ جرگہ نے کس بنیاد پر لڑکی کے قتل کا فیصلہ صادر کیا اس فیصلے کے وقت اور فیصلے پر عملدرآمد کے وقت پولیٹیکل انتظامیہ کہاں تھی اس امر کا بھی علم نہ ہوسکا کہ اس واقعے کے بعد اراکین جرگہ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی یا گورنر کے نوٹس لینے کا انتظار تھا۔ بہر حال ان تمام امور سے قطع نظر اگر دین اسلام اور شریعت کے احکامات اور طریقہ کار کی رو سے جائزہ لیا جائے تو اسلام میں کسی پر الزام لگانے کیلئے چار معتبر گواہوں کی ضرورت ہے وگرنہ الزام لگانے والے کی تعزیر ہوتی ہے اراکین جرگہ کا فیصلہ نہ تواز روئے اسلام و شریعت مطہرہ درست تھا اور نہ ہی ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی رو سے اس کی گنجائش تھی۔ ہمارے معاشرے میں جہالت اورنام نہاد غیرت کے سبب کئی انسانی زندگیاں آئے روز بھینٹ چڑھ جاتی ہیں جنکی روک تھام کیلئے نہ تو علمائے کرام زحمت فرماتے ہیں نہ ملکی قوانین اور حکام حرکت میں آتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ ان عناصر کے سدباب میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح کے واقعات پر این جی اوز کا واویلا بھی محض پروپیگنڈے اور مقاصد کے حصول کی حد تک ہی ہوتا ہے۔ ہمارے تئیں اگر ہم اسلامی تعلیمات اور شریعت مطہرہ کے اصولوں کا مطالعہ کریں تو کسی کی زندگی چھین لینے کی نوبت تو درکنار کسی پر انگلی اٹھانے کی بھی نوبت نہیں آئے گی الا یہ کہ اس ڈھٹائی سے فعل بدکا ارتکاب نہ ہو جو ہمارے معاشرے میں کیا یورپ کے مادرپدر آزاد معاشرے میں بھی نہیں ہوتا۔گورنر خیبر پختونخوا نے معاملے کا نوٹس لیکر احسن اقدام اٹھایا ہے۔ ان کو صرف اراکین جرگہ ہی کو نہیں بلکہ پولیٹیکل انتظامیہ کو بھی واقع کی روک تھام میں ناکامی کا قصور وار ٹھہرا کر سزا دینی چاہیے۔علمائے کرام اور مقامی عمائدین کو جہالت پرمبنی فیصلوں کے خلاف شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے قبائلی طرز معاشرت میں تبدیلی لانے کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کرنے میں ہر فریق اپنے حصے کا کام خوش اسلوبی سے انجام دینے میں بخل کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور انتظامیہ بھی سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اس قسم کے غیر قانونی جرگوں کے انعقاد اور انفرادی یا گروہی فیصلوں کے نفاذ کی صورت میں قانون کی جگ ہنسائی کا موقع فراہم نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں