Daily Mashriq


ٹرمپ مودی معانقہ

ٹرمپ مودی معانقہ

کہتے ہیں تصویر ہزاروں لفظوںپر بھاری ہوتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی واشنگٹن میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گلے لگنے کی تصویرکئی ہزار لفظوں پر بھاری ہے۔ مودی کی خوشی اور وارفتگی پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کے اس تبصرے سے مزید واضح ہو جاتی ہے کہ ٹرمپ بھی مودی کی زبان بولنے لگے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی زبان میں پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست تو نہیں کہا تاہم بھارتی اور امریکی لیڈروں نے کہا ہے پاکستان اپنی سرزمین دہشت گرد ی کیلئے استعمال ہونے سے روکے اور مودی تصویر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے واری صدقے ہوکر لپٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کے منصوبہ سازوں کو بھارت کے حوالے کرے۔ تاریخ شاید کبھی گواہی دے کہ ان حملوں کے منصوبہ ساز نہ پاکستانی ہیں نہ پاکستان میں ہیں۔ یہ تاریخ کے طالبعلم شاید کبھی اس حقیقت کے سراغ تک پہنچانے میں مدد کرے کہ ممبئی اور پٹھانکوٹ دونوں حملوں کے نتیجے میں سیاسی نقصان پاکستان کا ہوا۔ ممبئی حملے کے دوسرے روز پاک بھارت جامع مذاکرات کا آخری رائونڈ ہونے والا تھا جس میں کشمیر کے مسئلے پر بھی بات چیت ہونی تھی اسی طرح پٹھانکوٹ حملے کے دنوں میں بھی بھارت پاکستان کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات پر مذاکرات کیلئے حامی بھر چکا تھا اور بھات نے ان دونوں حملوں کی آڑ ہی میں مذاکرات منسوخ کر دیئے تھے جس طرح آگرہ میں صدر جنرل مشرف اور بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان طے پا جانے والے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے کچھ دیر پہلے ہی واجپائی اچانک غائب ہوگئے تھے اور ایک ہفتہ تک غائب رہے تھے اور آگرہ کی بجائے چنائی میں برآمد ہوئے تھے۔

رہی بات ان دونوں واقعات میں ہلاکتوں کی تومودی اور بھارت کے حکمران مائنڈ سیٹ کے نزدیک انسانی جان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔یہ بوچرہونے کی بنا پر امریکہ میں داخلہ ممنوع تھا اور ایک اخبار نویس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں مسلمانوں کے مارے جانے کا اتنا ہی افسوس ہوتا ہے جتنا موٹر کے پہئے کے نیچے آکر مر جانے والے کتے کے پلے کا۔ اس دورے کے دوران بھارت نے امریکہ کے ساتھ تجارت بڑھانے اور نیو کلیئر مواد کی تجارت میں داخل ہونے کے معاہدے بھی کیے ہیں۔ امریکی لاک سیڈ اور بھارتی ٹاٹا سٹیل کے درمیان جنگی طیارے بنانے کا معاہدہ بھی ہوا ہے۔ اس سودا بازی میں بھارت کو اسلحہ اور گولہ بارود کے گودام ملیں گے اور امریکہ کو بھارتی محنت کشوں کا پیدا کیا ہوا سریا ' جس سے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے کارکنوں کو تنخواہیں ملیں گی اور سرمایہ کاروںکو منافع۔ کون فائدے میں رہا امریکی یا بھارتی لیڈر یہ بھارتی تاجروں کو شاید کچھ عرصہ کے بعد معلوم ہوگا۔ ایک بڑا اعلان یہ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے کشمیریوں کے حزب المجاہدین کے لیڈر سید صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دے دیاہے۔ سید صلاح الدین خالص کشمیری ہیں اور ان کا ایجنڈا بھی کشمیری آزادی کے ایک نکتہ پر مرکوز۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس اعلان کی تائید کرکے بھات نے خود ہی شملہ معاہدے کی نفی کر دی ہے جس کی آڑ لیکر وہ ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر پہنچانے کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنے مسائل دوطرفہ بنیادوں پر طے کرنے کے پابند ہیں اس اعلان اور اس کی تائید کے ساتھ بھارت نے کشمیریوں کو تیسرا فریق تسلیم کرلیا ہے۔

نریندر مودی کا دورہ امریکہ اچانک نہیں ہوگیا اور امریکہ اور بھارت کے درمیان محبت کی پینگیں اچانک نہیں بڑھنے لگی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ان کے دعوئوں اور اطلاعات نے ان کے ارادے ظاہر تھے۔ ان کے اقتدار میںآنے کے بعد یہ ارادے اور کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ بھی واضح ہیں۔ ٹرمپ یورپ سے علیحدگی اختیار کرنے جارہے ہیں' مشرق وسطیٰ کی دولت پر ان کی نظر ہے جس کیلئے ٹرمپ کے امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں خلفشار اور انتشار کی پالیسی نظر آنے لگی ہے۔ اس بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کو اپنا کردار نبھانے کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی خالص سفاک آمرانہ سیاست دنیا پر عنقریب واضح ہو جائے گی کہ دنیا نے گزشتہ دو سال کے دوران جمہوریت کے نام پر کیسی سیاست دی ہے اس نے عالمی رائے عامہ کو افوا پر مبنی سیاست کے قریب کیا ہے۔

پاکستان نے ایک عرصہ سے مضبوط دفتر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی تعلقات میں پسپائی کی طرف مراجعت کی ہے۔ اس صورت حال پر فوری طور پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ دنیا پر کشمیر کے انصاف پر مبنی کاز کو اجاگر کرنے کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ پاکستان کسی صورت کشمیر کے حق خودارادیت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا بلکہ اس کے برعکس زیادہ جتنا اس کاز کو آگے بڑھائے گا اتنا ہی اپنی آزادی اور خودمختاری کو مضبوط بنائے گا۔ بھارت کے پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام کا ' جو ا س دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارکردگی اور قربانیوں کی صورت میں دنیا پر واضح ہے۔ دنیا پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ اپنی سرزمین پر لڑی ہے اور کلبھوشن یادیو کی صورت میں ایک زندہ گواہی موجود ہے جو بتاتی ہے کہ دہشت گردی کا اصل سرپرست بھارت ہے۔

کشمیریوں پر مظالم بھی بھارت کے دہشت گرد ہونے کے ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کا مضبوط دفتر خارجہ سفارت کاری کی طرف راغب ہو۔

متعلقہ خبریں