Daily Mashriq


گلوبل ٹیررسٹ؟

گلوبل ٹیررسٹ؟

گلوبل ٹیررسٹ کا اُردو ترجمہ عالمی دہشت گرد بنتا ہے۔ یہ وہ تمغہ ہے جو بھارت نے ایک ایسے کشمیری کے سینے پر سجا دیا ہے جس کی ساری دنیا کشمیر کی وادیوں کے اندر تک محدود ہے ۔جس نے کشمیر کی حدود سے باہر کسی چڑیا کا شکار بھی نہیں کیا اور نہ اپنی دنیاسے باہر بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت محسوس کی ہے ۔اس کا گلوب جموں کے ایک کونے سے وادی کشمیر کے دوسرے سرے پر جا کر ختم ہوتا ہے ۔ جب سے امریکہ نے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ کی ہے امریکہ کا تصور گلوب تل ابیب سے شروع ہو کر دہلی پر ختم ہوتا ہے۔اس کے سوا سید صلاح الدین پر گلوبل ٹیرر سٹ کی اصطلاح کسی طور فٹ نہیں بیٹھتی۔ یہ وہ شخص ہے جو عالمی قوانین کو برملا مانتا ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارے اور نظام کے آگے سرتسلیم خم کرتا ہے اور مدت سے امریکہ سے ثالثی کی درخواست کرتا چلا آرہا ہے۔جس طرح امریکیوں کو افغانستان میں اپنی حماقتوں کے لئے صدر ریگن کو دس بار پھانسی دینی چاہئے اسی طرح کشمیر اور خطے میں اپنی قسمت کا ماتم کرنے کے لئے بھی اسی شخص کی قبر پر کوڑے برسانے چاہئیں۔یہی وہ زمانہ تھا جب کشمیر میں مسلح تحریک کا تانا بانا بُنا جا رہا تھا اور پھر یہ لاوہ پھٹ پڑا تھا۔ امریکہ نے آئو دیکھانہ تائو دوڑے دوڑے پاکستان اور بھارت آئے اور سوویت یونین کے دوست بھارت کی کلائی مروڑنے پر بغلیں بجانے لگے۔ان کا خیال تھا کہ خطے کی اتھل پتھل کے لمحوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان خود مختار کشمیر کی صورت میں ایک قطعہ زمین حاصل ہوجائے تو چین پر نظر رکھنے اور بھارت کا دماغ درست کرنے کے لئے اس سے مناسب کوئی طریقہ نہیں۔سی آئی اے کے اہلکاروں کا خطے میں آنا جانا بڑھ گیا اور ایک مشہور امریکی یہودی سینیٹر سٹیفن سولارز تو اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقاتی ہوئے اور فرمائش کی اگر پاکستان خودمختار کشمیر کی حمایت کرے تو امریکہ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ۔بے نظیر بھٹو کا جواب تھا کہ چین کو یہ قبول نہیں۔یادش بخیرایک تھی امریکی نائب سیکرٹری آف سٹیٹ مس رابن رافیل جو آئے روز کشمیریوں کی حمایت میں ایک بیان دیتی اور یہ وہ وقت تھا جب صلاح الدین کشمیر کے سب سے طاقتور مسلح گروپ کے سربراہ بن چکے تھے اور کنٹرول لائن کے آر پار جانا ان کا معمول تھا ۔یہی وہ زمانہ تھا جب پامیلا کانسٹیبل امریکہ کی ایک بااثر صحافی کے طور پر اُبھر رہی تھیں اور وہ پاکستان اور بھارت کے معاملات میں بطور صحافی دلچسپی لے رہی تھیں ۔انہیں پنٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ تک رسائی تھی ۔کشمیر میں مسلح جدوجہد کی آگ بھڑک اُٹھی اور پامیلا نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل یہ ہے کہ مزید خوں ریزی سے بچنے کے لئے پاکستان اور بھارت اسے آزاد چھوڑ دیں۔1992ء میں جب کشمیریوں کی مسلح مزاحمت کو شروع ہوئے تین سال ہوئے تھے نیویارک ٹائمز نے اس صورت حال پر پہلا اداریہ لکھا جس میں کہا گیا کہ ''اگر بھارت سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے تو وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیاردے ۔بدلتی دنیا میں تنازعہ کشمیر ایجنڈا میں سرفہرست مسائل میں آگیا ہے''1998میں امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر اظہا رتشویش کیا گیا اور اس تنازعے کو جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی سب سے بڑی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ سیدصلاح الدین اس پوری تاریخ میں ایک مرکزی اہمیت کے حامل شخص کے طور پر منظر پر موجود رہے ہیں ۔یہیں یہ سوال پید اہوتا ہے کہ آخر اب کیا ہواکہ سیاسیات کی ماسٹر ڈگری کا حامل ایک ایسا شخص جو 1987ء کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بطور امیدوا ر شریک تھا اب اچانک اور بیٹھے بٹھائے ''گلوبل ٹیررسٹ '' کے لیبل کا مستحق قرار پایا؟۔بظاہر اس کی دو وجوہات ہیں ۔اول امریکہ بھارت سٹریٹجک شراکت داری ۔دوئم چین امریکہ بڑھتی ہوئی مخاصمت۔دنیا میں امریکہ کے صرف دو اعلانیہ سٹریٹجک شراکت دار ہیں ۔اسرائیل ایک مدت تک تنہا اس مقام کے مزے لوٹتا رہا اور اب گزشتہ دہائی سے بھارت کو یہ مقام حاصل ہوگیا ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دونوں شراکت داروں کے دائیں بائیں مسلمان ملک ہیں اور سب کا حال بگڑا ہوا ہے ۔سٹریٹجک شراکت داری کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے دوست اور دشمن ایک ہیں ،نفع ونقصان یکساں ہے ۔جب سے امریکہ اور بھارت اس رشتے میں بندھے ہیں امریکہ سے بھارت کے مفاد کو تحفظ دینے والے کسی بھی انتہائی قدم کی توقع کی جا سکتی ہے ۔بھارت اور امریکہ کی شراکت داری پاکستان سے زیادہ چین سنٹرک ہے ۔یہ کشمیر سے آگے جنوبی چین کے پانیوں اور جزیروں پر بالادستی کی جنگ ہے ۔اس کھیل میں د ونوںفریقین کا ہردائو جائز ہے۔پاکستان چونکہ بھارت کا ضمیمہ بننے کی بجائے چین کی شراکت دار ی کا فیصلہ کرچکا ہے اس لئے امریکہ اسے اپنی کتاب زیست کا ناپسندیدہ باب سمجھ کر فراموش کررہا ہے اور پاکستان امریکہ کو لاعلاج جان کر بھولتا جا رہا ہے۔اب وہ زمانہ لدگیا جب سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے فرمان پاکستان کا اسلوب اور اصول بنتے تھے کیونکہ اب'' نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زُلف ِایاز میں ''کے مصداق نہ دنیا یونی پولر رہی نہ پاکستان امریکہ کا مزارع۔اب امریکہ کا بیانیہ فقط امریکہ کا بیانیہ ہے اور چین ہر فورم پر اس کی مزاحمت پر آمادہ وکمربستہ ہے۔

متعلقہ خبریں