Daily Mashriq


کس کے روئیے کا ماتم کروں؟

کس کے روئیے کا ماتم کروں؟

میں نے آج تک ایک صوبے کا وزیر اعظم نہیں دیکھا تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ ا حساس ہونے لگا ہے' ہمارے ملک کے وزیر اعظم ایک ایسے کمال وزیر اعظم ہیں جنہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس ملک میں پنجاب کے علاوہ بھی چار صوبے ہیں۔ انہیں نہ کسی اور صوبے کی کوئی پریشانی اپنی پریشانی محسوس ہوتی ہے نہ کسی اور صوبے کا دکھ اپنا دکھ محسوس ہوتا ہے۔ شاید یہ باتیں اتنی وضاحت سے دکھائی نہ دیتیں اور نہ ہی ان کے حوالے سے حقائق ایسے روز روشن کی طرح عیاں ہوتے اگر انہی دنوں میں اوپر تلے ایسے واقعات نہ ہوئے ہوتے۔ پاڑہ چنار کا حادثہ ہوا' بہاولپور میں ایک وقوعہ ہوا اور ہمارے ملک کے وزیر اعظم ابھی تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے سحر سے آزاد نہیں ہوسکے۔ یہ خیال بار بار ذہن کے دروازے پر دستک دیتا رہا لیکن ہر بار اس کو جھٹک دیا جاتا رہا کیونکہ وہ وزیر اعظم تو کبھی ایک صوبے کا نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعظم کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہوتا ہے۔ وہ ملک کے لئے' تمام صوبوں کے لئے ایک باپ کی مانند ہوتا ہے کیونکہ وہ کبھی اپنی اولاد کے مفاد کے بر خلاف فیصلے نہیں کرتا۔ وہ سب میں برابر انصاف روا رکھتا ہے۔ اس کے لئے اپنی ساری اولاد کا دکھ یکساں تکلیف دہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے تو کمال ہی کردیا۔ ملک میں ایک بہت بڑا سانحہ ہوا۔ پاڑہ چنار میں بم دھماکے ہوئے اور بے شمار لوگ مارے گئے۔ وزیر اعظم اپنے تمام تر تاسف کے ساتھ لندن میں عید مناتے رہے اور پھر بہاولپور میں احمد پور شرقیہ سے 6کلو میٹر کے فاصلے پر ایک آئل ٹینکر الٹ گیا' لوگ اس سے بہنے والا تیل اکٹھا کرنے کے لئے پہنچنے لگے۔ وہاں آگ لگ گئی۔ پہلے پہل تو اموات کی تعداد ایک سو پچیس بتائی گئی اور اب بڑھتے بڑھتے یہ تعداد ایک سو ستر سے بڑھ چکی ہے۔ میاں صاحب کو پاڑہ چنار میں ہوئے حادثے پر افسوس تو ہوا لیکن احمد پور شرقیہ کے حادثے کے نتیجے میں تو وہ خود وہاں جا پہنچے ۔ لواحقین سے اظہار ہمدردی کے ساتھ ساتھ جن جن لوگوں کی شناخت ہوگئی تھی ان کے لواحقین میں بیس بیس لاکھ کے چیک بھی تقسیم کردئیے۔ زخمی ہونے والوں کے لئے نوکریوں اور دس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کردیا۔ حادثے کے چھ روز بعد وزیر اعظم نے حادثے کا شکار ہونے والوں کے لئے امداد کا اعلان تو کردیا لیکن اس کی رقم بہاولپور حادثے سے کہیں کم ہے۔ پاڑہ چنار حادثے میں جان سے ہاتھ دھونے والوں کے لئے دس لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا اور زخمی ہونے والوں کو پانچ لاکھ روپے کی امداد دئیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاقے کے معززین نے اس امدادی پیکج کو رد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پہلے انہیں انسان تسلیم کیا جائے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ بہاولپور حادثے کا شکار ہونے والوں کی طرح اس حادثے کا شکار لوگوں کے لئے بھی نوکریوں کا اعلان کیا جائے۔

کئی باتیں ایسی ہیں جو کہنے کو دل نہیں چاہتا جو اس موقع پر کہی بھی نہیں جانی چاہئیں لیکن کیا ہم دیکھ نہیں سکتے' سوچ نہیں سکتے۔ وہ لوگ جو بہاولپور حادثے کا شکار ہوئے کیا ان میں اکثریت ان لوگوں کی نہیں تھی جو وہاں اس تیل کی چوری کے لئے آئے تھے۔ ان لوگوں کا حادثے کا شکار ہوجانا کیا ان کے اس فعل کو درست ثابت کردیتا ہے۔ وہ لوگ یقینا فاقوں کاشکار نہیں تھے کہ چوری کی سزا ساقط تصور کی جاتی۔ تین گاڑیاں اور کئی موٹر سائیکلیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔ اس لئے ان کے لئے پیکج کا اعلان کردیاگیا۔ لیکن پاڑہ چنار کے حادثے کا شکار لوگ وزیر اعظم کو ابتداء میں اپنی ذمہ داری کیوں محسوس نہیں ہوئی؟ کیا بہاولپور حادثے کا شکار لوگوں کی بے بسی وزیر اعظم کو اس لئے زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور اب انتخابات میں تھوڑا ہی عرصہ باقی ہے۔ ہر حادثہ' ہر الم' ہر وقوعے کی ایک قیمت ہے اور اس قیمت سے ووٹ خریدے جا سکتے ہیں۔ پاڑہ چنار میں ووٹ خریدے جانے کی ضرورت نہیں وہاں تو یہ اعلان کسی فائدے کی یقین دہانی نہیں کروائے گا یا پھر شاید چوری کسی اور جانب ' کوئی اور تار چھیڑ دیتی ہے اس لئے ان متوفیان اور زخمیوں کی امداد ضروری محسوس ہوئی۔

وزیر اعظم کا یہ رویہ صرف حادثات تک ہی کہاں محدود ہے۔ وزیر اعظم ہیلتھ سکیم میں جو پیسے غریبوں کی صحت کے لئے مختص کئے گئے اور صحت کارڈ متعارف کروانے کی سکیم کا آغاز کیاگیا ان کو پنجاب کی وزیر اعلیٰ صحت کارڈ سکیم کے ساتھ نتھی کردیاگیا۔ گویا غربت بھی پنجاب میں ہی بہتر ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے وفاق کے مختص کئے ہوئے پیسے پنجاب میں بنائی اس کمپنی کے حوالے کئے جائیں گے جو پنجاب کے اضلاع میں اس ہیلتھ کارڈ سکیم کے اجراء کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ سب باتیں صرف اسی حد تک کہاں محدود ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم جانے کیوں ابھی تک پنجاب کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے۔ انہیں نہ تو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے عہدے کی حساسیت کا۔ اس ملک میں جس تفاوت اور نفرت کی فضا کو ان کا یہ عمل جنم دے گا اس کا سد باب کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔ سوچتی ہوں کہ آخر میاں صاحب کبھی سیاست سے الگ ہو کر اس ملک و قوم کے حوالے سے بھی کچھ سوچ سکتے ہیں یا ان کی سوچ محض ذاتی مفاد کی حد سے آگے نہیں بڑھتی۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ سیاست دانوں میں سے کوئی بھی دوسرے سے کہاں مختلف ہیں۔

متعلقہ خبریں