Daily Mashriq


اخلاقی اقدار کے بگا ڑمیں موبائل فون کا کردار

اخلاقی اقدار کے بگا ڑمیں موبائل فون کا کردار

میں عصر کی نماز کے بعد ایک گھنٹے واک کے لئے قریبی پارک یا کمر شل ما رکیٹ چلا جاتا ہوں اور میری کو شش ہو تی ہے کہ مغرب کی نماز تک با و ضو رہوں اور مغرب کی نماز کے بعد گھر واپس آئوں ۔ میں مغرب کی نمازیاتو قریبی مسجد میں اور یا اُسی پا رک میں پڑھتا ہوں جہاں میں واک کرتا ہوں ۔ یہ روٹین میرے اور میرے دوست شوکت علی کی گزشتہ دس سال یا اس سے زیادہ عرصے کی ہے۔ آج سے دس سال پہلے یہاں کے دوپارکس میں 200 افرادجس میں مرد عورتیں ، بچے بچیاں اور بو ڑھی عورتیں شامل ہو ا کرتی تھیں ان میں سے 60 اور 70 کے قریب نماز پڑ ھتے تھے۔ مگر بد قسمتی سے اب یہ حال ہے کہ جب مسجدوں میں اذان ہوتی ہے تو کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا ، کسی کے ذہن ، سوچ ، فکر اور گمان میں نہیں ہوتاکہ ہم مسلمان اور ایک اسلامی مملکت کے شہری ہیں اور جلدی یا بدیر ہم نے اللہ کو جان دینی اور اسکے حضور حا ضرہونا ہے۔ نماز کے اوقات میں، میں70 سے 80 فی صد بچے، بچیاں مرد اور عورتوں کو یا تو موبائل کے ساتھ یا پھر لیپ ٹاپ کے ساتھ کھیلتے دیکھتا ہوں۔ جس ملک میں 70 فی صد لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں وہاں رعایا اور عوام کے مسائل موبائل فون، انٹر نیٹ ، کیبل اور میڈیا نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی، سر چھپانے کی جگہ ، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات ہوتی ہیں۔ اس یلغا رنے نہ صرف ہما ری اسلامی اور مشرقی روایات کا ستیا ناس کر دیا ہے بلکہ بچے اور بچیاںمثبت سر گر میوں کی بجائے غیر ضروری اور منفی سرگرمیوںمیں اپنی توانائی صرف کر رہے ہو تے ہیں۔ نواز شریف کی حکومت نے موبائل پر جو ٹیکس لگا یا ہے میرے خیال میں اس ٹیکس کو 50 فی صد یا اس سے بھی زیادہ ہو نا چاہئے تھا کیونکہ اس سے اُن فضول اور منفی سر گر میوں کے کم ہونے میں مدد ملے گی جس میں من حیث القوم پاکستانی اور بالخصوص کم عقل ،کم شعور اور کم ذہنیت کے بچے اور بچیاں ملوث ہوتے ہیں۔ میں پاکستان مسلم (ن) کے سینئر رہنماء رانا ثنا اللہ کی بات سے اتفاق کر تا ہوں کہ لوگ موبائل پر لمبی لمبی باتیں کیوں کرتے ہیں اور انکو اس کا ٹیکس بھی دینا چاہئے۔ ایک زمانہ تھا جب پی ٹی سی ایل کے فون سے کام چلتا تھا ۔ وہ فون کسی گھر میں مر کزی جگہ پڑا ہو تا اور پورے گھر کے افرادایک دوسرے کی موجودگی میں ایک دوسرے کی کال سُنتے تھے۔ سائنسی ایجادات ،تخلیقات اور تجربات کا مخالف نہیں ہوں مگر اس بات کا مخالف ہوں کہ لوگوں کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں حاکم وقت اس پر کیوں توجہ نہیں دیتے۔ کچھ عرصہ پہلے بلقیس ایدھی کا انٹر ویو سُن رہا تھا ، کہتی تھی کہ میں نے نہ کوئی موبائل فون رکھا ہے اور نہ میں اپنے ہسپتالوں میں کسی نرس یا ڈا کٹر کو اجازت دیتی ہوں کہ وہ ڈیوٹی کے دوران موبائل سُنے یا اس پر بات کرے۔ اُنکا کہنا ہے کہ میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے اور بنفس نفیس میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ نوجوان بچوں اور بچیوں میں جنسی بے راہ روی اور طلاق کی شرح میں موبائل فون کا بڑا کر دار ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موبائل فون کی وجہ سے ہم اپنا قیمتی وقت فضول باتوں اور فضول سر گر میوںمیں صرف کرتے ہیں ۔ زیادہ تر روڈ ایکسیڈنٹ دوران ڈرائیونگ موبائل فون سُننے کی وجہ سے ہو تے ہیں۔ اگر ہم نے اور ہماری نئی نسل نے موبائل فون کے ساتھ اتنا لگائو اور وابستگی جا ری رکھی تو مُجھے ڈر ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ جائینگے۔ میں سیٹلائٹ ٹائون میں رہتا ہوں اور گزشتہ کئی سال سے میں دو مو ذّنوں کی غلط اذانوں کو سُن رہا ہوں مگر اب تک کسی نے ان کو نہیں بتا یاکہ وہ غلط اذان دے رہے ہیں، کیونکہ کسی کو خود اذان کا پتہ ہو اور مذہبی کاموں کے لئے وقت ہو تو وہ مو ذّن کی تصحیح کرے گا۔ میرا یہ بھی تجربہ ہے کہ 90فی صد مسلمانوں کو نماز جنازہ نہیں آتی۔2013ء کے الیکشن میں جب ہمارے صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اُمیدواروں سے ریٹر ننگ آفیسرز نے جو سولات کئے اور اُنہوں نے جو اُوٹ پٹانگ جوابات دئیے وہ سب کے سامنے ہیں۔ اس سے ایک مسلم ملک کے معا شرے کی عکاسی ہو تی ہے۔ کسی نے تیمم کو جغرافیہ کا سوال اور کسی نے دعائے قنوت کو نماز جنازہ کہا۔ ہم اپنے ذاتی و دنیاوی معاملات کو ہر رُخ اور ہر اینگل سے دیکھتے ہیں اور ہر زاوئیے پر ہماری یہ کو شش ہوتی ہے کہ ہمیں کوئی مادی نُقصان نہ ہو۔ مگر جہاں ہمارے پیارے مذہب اسلام کی بات آتی ہے تو پھر وہاں ہم کم عقل ، بے وقوف اور کم علم ہو جاتے ہیں اور قصداً عمداً اصل بات سمجھنے کی کو شش نہیں کرتے ۔ اگر ہم نے بچے کو سکول میں داخل کرنا ہو تو ہم چھان بین کر کے بچے کو داخل کرتے ہیں اگر ہم نے زندگی کا کوئی مالی معاملہ حل کر نا ہو تو اس میں ہمیں نہ تو کوئی دھوکہ دے سکتا ہے اور نہ اس میں کبھی ہمارا نُقصان ہو تا ہے مگر جب نماز اور عبادت کی بات آتی ہے تو پھر وہاں ہم کچھ بھی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میںاپنی اطاعت اور بند گی کے لئے بھیجا ہے اور یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر ہم مال ودولت اور شہرت کے لئے سب کچھ کر سکتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی طر ف بھی متوجہ ہونا چاہئے جنکے قبضے میں ہماری جان ہے۔ ایک امریکی سکالر نے کیا خواب کہا ہے کہ امریکہ کی نئی نسل کو تین چیزوں نے خراب کیا 1۔موبائل فون 2۔ سگریٹ 3۔ میڈیا ۔

متعلقہ خبریں