Daily Mashriq


خرابی کہاں ہے؟

خرابی کہاں ہے؟

پاکستان اور جمہوریت دو لازم و ملزوم نظریوں کا نام ہے۔ لیکن افسوس کہ جمہور کی حکومت کو یا تو موقع نہیں دیا گیا اور یا پھر اس کے آمرانہ انداز نے اس کی اصل وقعت کو آشکار ہی نہیں ہونے دیا۔ برطانیہ کے مشہور اخبار دی اکانومسٹ کا ذیلی ادارہ اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ ہر سال 167ملکوں کے جمہوری طرزعمل پر مبنی ڈیموکریسی انڈیکس نامی دستاویزمرتب کرتا ہے جس میں تمام ملکوں کی چار حکومتی اقسام میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔ مثلاً مکمل جمہوریتیں، ناقص جمہوریتیں، ہائبرڈ حکومتیں اور آمرانہ حکومتیں۔ 2016 میں جاری ہونے والے اس انڈیکس میں پاکستان کو چالس ہائبرڈ حکومتوں کی فہرست میں پینتالیسواں نمبر ملا ہے۔

انڈیکس کہ مطابق اس درجہ بندی والے ممالک میں شفاف انتخابات نہیں ہوتے، سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، عدلیہ آزاد نہیں ہے، کھلے عام کرپشن ہے، میڈیا پوری طرح آزاد نہیں اور عوام کی کم تعداد سیاست یا حکومت سازی میں شراکت دار ہے۔ اس انڈیکس کے مطابق مکمل جمہوریت تو درکنار پاکستان تو ابھی ناقص جمہوریت کے درجے میں بھی داخل نہیں ہوا۔ لیکن اسی انڈیکس میں بہت سارے ایشیائی اورافریکی ممالک پاکستان سے بہتر درجہ بندی پر موجود ہیں جس کا مطلب جمہوریت بطور نظریہ صرف ترقی یافتہ اور مغربی ملکوں کی ہی میراث نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ دس سال سے زیادہ جمہوری تسلسل کے باوجود ہم دنیا کی جمہوری درجہ بندی میں پچھلی صفوں میں ہی کھڑے ہیں۔ کیا یہ جمہوریت کی بطور ایک نظریہ کمزوری و ناکامی ہے یا اس کے علم برداروں کی کوتاہی؟

آئیے! آج ہم ان پہلوئوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم جمہوریت کے اصل ثمرات سے محروم ہیں۔ ہم پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ، شیعہ، سنی اور نہ جانے کیا کیا پہلے ہیں اور پاکستانی بعد میں۔ اس طرح کی کمزور قومی پہچان کمزور قومی ریاست کی شکل اختیار کرتی جاتی ہے اور کمزور قومی ریاست قومی طاقت کو کمزور کرتی جاتی ہے۔ نتیجتاًعوام غیر یقینی، بے چینی اور عجلت کا شکار ہوکر راتوں رات تبدیلی کے خواہشمند بن جاتے ہیں۔

جمہوریت کے ثمرات سے محرومی کا دوسرا پہلو قانون و انصاف کی بلاتفریق فراہمی سے منسلک ہے۔ جمہوریت دراصل ہمارے قومی رویوں کا عکس ہوتی ہے۔ ہمارے رویے جتنے انصاف پسند ہوںگے ہماری جمہوریت اتنی ہی کارگر ہوگی۔ بلا تفریق اور بروقت انصاف ہی ان رویوں کو درست سمت دے گا۔ قانون کی لاٹھی جب عوام اور عوامی نمائندگان کو ایک ہی طریقے سے درست سمت میں ہانکے گی تو لوگ شخصیات کی بجائے اصولوں کی پیروی کرینگے اور جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والے فرسودہ فلسفے کو خیرباد کہہ دیںگے۔ اسی پہلو سے وابستہ کرپشن کا مرض بھی ہے، جو جمہوریت تو کیا کسی بھی نظام حکومت کیلئے زہر قاتل ہے۔ بہترین عدل و انصاف ہی کرپشن جیسے مرض سے نجات دلا سکتا ہے اور لوگوں کو ان کے جائز حقوق تک رسائی دلا سکتا ہے۔ لیکن کمزور اداروں کے سائے تلے وسائل کی منصفانہ تقسیم ایک خواہش کے علاوہ کچھ نہیں اس لئے اداروں کی مضبوطی جمہوریت کا اہم ستون ہے۔ان عناصر کے ساتھ جب مضبوط میڈیا کی آواز ہو تو غلطی کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ لیکن اوپر تذکرہ کئے گئے تمام پہلو ؤں کا اگر بغور جائزہ لیں تو ان سب کا محور لیڈر اور ووٹر ہیں۔ایک پڑھا لکھا اور با شعور ووٹر ہی ایک بہتر لیڈر کا انتخاب کرے گا۔ جمہوریت کا معیار اس جمہور پر ہے جو اس کو ووٹ دیتی ہے۔ کیا ہمارا نظام تعلیم اس قابل ہے کہ وہ ایک مضبوط پاکستان کو یقینی بنائے؟ کیا ہماری پالیسیوں اور بجٹس میں تعلیم کو وہ اہمیت دی جاتی ہے کہ جس سے محسوس ہو کہ ہم پاکستان کے روشن مستقبل میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا ضرب عضب یا ردالفساد کی طرح ہمیں ''ضرب علم'' یا ''ردالجہال'' کی ضرورت نہیں؟ ہماری قیادت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قوم کا سوفٹ ویئر(سوچ) ٹھیک کرنے میں ہی اس ملک کے دیرینہ مسائل کا حل چھپا ہے۔ مسئلہ جمہوریت کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے علم برداروں کے ساتھ ہے۔ جمہور اور جمہوریت سے سچا پیار کرنے والے ہمارے لیڈران اگر واقعی اس ملک کو ایک جمہوری مملکت بنانا چاہتے ہیں تو پھر کھوکھلے نعروں کی بجائے قوم سازی، ادارہ سازی اور بہترین عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لیکر آئیں۔ اس ملک میں ایک ہی طرز تعلیم متعارف کرائیں جو بہترین پاکستانی پیدا کرے۔

ایسے پاکستانی کہ جو اس ملک اور خطہ میں تو کیا گلوبل اکانومی میں اپنا کردار ادا کریں۔ہمارا سارا زور معاشی موازنے پر رہتا ہے کبھی ہم نے ترقی یافتہ اقوام کے تعلیمی سسٹم کا جائزہ لینے کی کوشش بھی کی؟ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان اقوام نے اپنے تعلیمی سسٹم کو کیسے درست کیا؟اپنے عوام کو باشعور قوم بنانے کے لئے انہوں نے کیا راستہ اپنایا ؟مذکورہ بالا سوالات کے تناظر میں ،میں سوچتا ہوں تو مجھے ایک انجانا سا خوف دکھائی دیتا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے جمہوری علمبردار عوام کو باشعور بنانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اگر عوام کو شعور آگیا تو یہ اپنا حق مانگنا شروع کر دیں گے ،اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا شروع کر دیں گے اور اپنے حق کے حصول کے لئے لڑنا شروع کر دیں گے جو ہمارے جمہوری علمبرداروں کو کسی صورت قبول نہیں ہو گا ۔

متعلقہ خبریں