Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ام ابراہیم ہاشمیہ بصرہ کی ایک عبادت گزار خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ رومی عیسائیوں نے بصرہ پر چڑھائی کردی۔ بصرہ کے سرکردہ افراد لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینے لگے۔ امیر لشکر عبدالواحد بن زید ایک دن کھڑے ہوئے اور جہاد کی ترغیب کے لئے اتنی موثر تقریر فرمائی کہ لوگوں کی نظروں میں دنیاوی آرائش و زیبائش حقیر ہوگئی اور وہ دنیا کے اس عارضی ٹھکانے کو خیر باد کہنے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اب دو ہی مقاصد تھے کہ یا تو اپنے دشمن کو شکست دے کر پسپا ہونے پر مجبور کیاجائے یا شہید ہو کر اپنے رب کے حضور سرخرو ہو کرجنت کی نعمتوں سے لطف اندوزہوا جائے۔ حاضرین کے درمیان سے ام ابراہیم آگے آئیں اور عبدالواحد سے کہا: ابو عبید! ( یہ ان کی کنیت ہے) آپ میرے بیٹے ابراہیم کو جانتے ہیں۔ بصرہ کے اونچے اونچے گھرانوں سے اس کے لئے رشتے آئے ہیں لیکن اب میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں اپنے بیٹے کی شادی جنت کی اس حور سے کروں گی جس کی صفات آپ نے اپنی تقریر میں بیان فرمائی ہیں۔ کیا آپ میرے بیٹے کی شادی اس حور سے کروا سکتے ہیں؟ میرا بیٹا آپ کے ساتھ میدان جہاد میں جائے گا۔ ممکن ہے رب تعالیٰ اسے شہادت عطا فرمائے اور قیامت کے دن اپنے والدین کا سفارشی بن جائے۔عبدالواحد بن زید نے جواب دیا:اے محترم خاتون! اگر آپ نے ایسا کیاتو یہ آپ کی' آپ کے خاوند اور بیٹے کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ بیٹا جو یہ مکالمہ سن رہا تھا حاضرین کے درمیان سے بولا: اماں جان! مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ ماں نے پھر پوچھا: کیا تو خدا کی رضا کے لئے جہاد کرکے جنت کی اس حور سے شادی کے لئے تیار ہے اوراس کے حصول کے لئے دل و جان سے خدا کی راہ میںاپنی توانائیاں صرف کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے کے لئے پر عزم ہے؟ بیٹے نے جواب دیا: اماں جان! خدا کی قسم ! میں راضی ہوں۔ پھر اس خاتون نے رب تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا: ترجمہ:۔ یا الٰہی! میں تجھے گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی جنت کی ایک حور سے کردی ہے۔ اس کے حصول کے لئے یہ تیری راہ میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر دے گا اور گناہوں کی طرف کبھی نہیں لوٹے گا۔ اے ارحم الراحمین! مجھ سے بیٹا قبول فرمالے''۔ پھر وہ خاتون اپنے گھر گئی اور دس ہزار دینار لا کر ابو عبید کے حوالے کئے اور کہا: یہ میرے بیٹے کا حق مہر ہے۔ اس کو آپ جہاد میں خرچ کریں۔ پھر اس نے اپنے بیٹے کے لئے انتہائی عمدہ گھوڑا اور قیمتی ہتھیار خریدے۔ لشکر اپنی پوری تیاری اور عزم صمیم کے ساتھ نکلا اور سب کی زبانوں پر قرآن کریم کی یہ آیت تھی۔ ترجمہ'' خدا تعالیٰ نے جنت کے بدلے میں مومنین سے ان کی جانوں اور مالوںکاسودا کرلیا ہے کہ وہ خدا کے راستے میںجہاد کریںگے''۔ (التوبہ 111)جب ام ابراہیم کے اپنے بیٹے سے علیحدہ ہونے کاوقت آیا تو اس عظیم ماں نے کفن اور خوشبو اپنے عزیز از جان بیٹے کے حوالے کی۔

متعلقہ خبریں