Daily Mashriq


قرضوں کی واپسی اور ڈیموں کی تعمیر

قرضوں کی واپسی اور ڈیموں کی تعمیر

چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے قرضے معاف کروانے والوں سے 54ارب روپے واپس ہونے کی خوشخبری سناتے ہوئے ایک اور خوشخبری سنانے کا وعدہ کیا ہے کہ وہ چند ایک روز میں دو ڈیم بنانے کی خوشخبری سنائیں گے۔ چیف جسٹس نے گزشتہ روز جو اعلان کیا تھا کہ قرضے معاف کروانے والے 75فیصد رقم واپس کر دیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا اور ان میں سے جن لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھایا تو ان کے خلاف بنکاری عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد قرضے معاف کروانے والی 222کمپنیوں میں سے متعدد نے 75فیصد قرضے واپس کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرضے معاف کروانے کے بارے میں ایک خبر کی بنا پر ایک ازخود نوٹس لیا تھا جس کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان قرضے لینے والوں کے ذمے واجب الادا 54ارب روپے معاف کرنے والا ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اعلان کیا تھا کہ 75فیصد قرضہ ادا کر دیا جائے تو قرض دار کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ تاحال یہ کارروائی اس مرحلے تک نہیں پہنچی کہ 75فیصد رقم واپس کرنے کی حامی کتنی کمپنیوں نے بھری ہے‘ یہ معلوم ہو سکے۔ قرض داروں کی تعداد 222 ہے‘ ان کے ذمے 54ارب روپے واجب الادا بتائے جا رہے ہیں‘ اس میں کتنی رقم کب تک واپس ہونے کا امکان ہے۔ تاہم قرض داروں کے وکلاء کے روئیے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کل رقم یا اس میں سے بڑا حصہ وصول ہو جائے گا۔ چیف جسٹس نے ملک میں پانی کے بحران اور اس میں روز بروز شدت کے خدشات کے پیشِ نظر کہا ہے کہ قرض معاف کروانے والوں سے جو رقم وصول ہو گی وہ ملک میں ڈیم تعمیر کرنے پر صرف کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے گزشتہ روز ڈیموں کی تعمیر کے ماہرین سے مشاورت بھی کی ہے اور اس مشاورت کی روشنی میں کہا ہے کہ قرض داروں سے وصول ہونے والی رقم سے ملک میں دو ڈیم تعمیر کئے جائیں گے۔ اس بیان کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کون سے دو ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں مہم جاری ہے اور اخبارات میں اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ کیونکہ متنازعہ ہے اس لئے اس پر کام نہ کیا جائے۔ کالا باغ ڈیم منصوبے کیخلاف تین صوبوں کی اسمبلیاں قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں اس کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کا مقصد سیاسی تنازعہ کو ہوا دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم یا کوئی بھی اور ڈیم بنیادی طور پر ٹیکنیکل معاملہ ہے، اس کی فزیبلٹی کیا ہے‘ اس پر کتنا خرچ آئے گا‘ اس کی عمر کتنی ہوگی‘ اس سے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ کالا باغ ڈیم ایک قدرتی ڈیم ہے۔ اس کے تین طرف پہاڑ ہیں اور محض ایک طرف تعمیراتی کام کی ضرورت ہوگی۔ اس پر خیبر پختونخوا سے آنے والے اعتراضات کی نوعیت یہ تھی کہ اس صوبے کی زرعی زمین زیرِ آب آجائے گی۔ نوشہرہ شہر کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ سندھ سے آنے والے اعتراضات کی نوعیت یہ تھی کہ پانی کی تقسیم پر پنجاب کا قبضہ ہو جائے گا اور دریائے سندھ میں گرنے والا پانی اس قدر کم ہو جائے گا کہ سمندر کا پانی خشکی پر چڑھ آئے گا۔ ان اعتراضات کے سیر حاصل جواب متعدد ماہرین نے دئیے تھے جن میں پاکستان کے مایہ ناز انجینئر شمس الملک کا نام نمایاں ہے۔ وہ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو 190ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ سندھ کے اعتراض کے جواب میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم کے پانی کی تقسیم کیلئے ایک بین الاصوبائی کمیٹی بنادی جائے۔ ایک تجویز یہ بھی آئی ہے کہ ڈیم کا کنٹرول سندھ اور خیبر پختونخوا کو دیدیا جائے۔ ملک میں پانی کے بحران اور اس میں شدت کے امکانات نے ڈیموں کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے کہ ان سے نہ صرف زراعت کیلئے پانی میسر آنے کی امید ہے بلکہ سستی پن بجلی حاصل ہونے کی بھی توجہ ہے۔ جبکہ تھرمل بجلی کے منصوبوں نے مصنوعات کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے کہ ہماری مصنوعات بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ سے قاصر ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے پانیوں میں ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت کی اہمیت اتنی ہے کہ پہلے کبھی نہ تھی۔ لیکن قومی اتحاد کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے۔ کالا باغ ڈیم پر اعتراضات کتنے ہی کمزور ہوں ان پر بحث ہونی چاہئے اور اتفاقِ رائے پیدا کیا جانا چاہئے جو آج کے پانی کے بحران کے باعث آسانی سے پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر کسی اور ڈیم کے منصوبے پر غور کیا جائے گا تو اس میں بھی بہت سے سوال ابھریں گے کہ اس سے کس صوبے کو فائدہ پہنچے گا اور کون سا علاقہ محروم ہو جائے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈیم پانیوں کی گزرگاہوں پر ہی بنائے جا سکتے ہیں خواہ وہ کسی بھی صوبے میں ہوں۔ جن ڈیموں کی تعمیر کی طرف چیف جسٹس صاحب اشارہ کر رہے ہیں ان کے بارے میں خبر ہے کہ انہوں نے ماہرین سے رائے بھی لی ہے تاہم ایوان ہائے صنعت وزراعت، پانیوں کی گزرگاہوں اور ذخائر کے ماہرین اور یونیورسٹیوں کے متعلقہ شعبوں کے اہلِ علم کی رائے لی جانی چاہئے۔ ایک مہینے کے بعد نئی اسمبلیاں وجود میں آ جائیں گی‘ تب تک یہ ٹیکنیکل مشاورت مکمل ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد یہ منصوبے اسمبلیوں اور سینیٹ میں پیش کئے جا سکتے ہیں تاکہ ان پر قومی اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے۔ امید ہے کہ جن 222کمپنیوں کے ذمے قرض واجب الادا ہیں وہ تمام یہ قرضے بمع مارک اپ واپس کر دیں گی۔ تاہم 1999ء میں بھی ایسی ہی مشق کی گئی تھی اور قرض داروں کی ایک فہرست گورنر سٹیٹ بینک نے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔ وہ فہرست بھی حاصل کی جانی چاہئے اور وہ قرضے بھی وصول کئے جانے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں