Daily Mashriq


ن لیگ، انتخابی سیاست بھی‘ احتجاجی سیاست بھی

ن لیگ، انتخابی سیاست بھی‘ احتجاجی سیاست بھی

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو اگر انتخابات میں اکثریت حاصل ہو گئی تو بھی وہ قومی حکومت بنائیں گے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ قوم کو اس وقت گمبھیر مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فیصلے پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے ہونے چاہئے۔ یہ سنگین مسائل کیا ہیں ان کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا تاہم وہی مسائل ہیں جو ان کی پارٹی کی طویل حکومت نے ملک کیلئے چھوڑے ہیں‘ جنہیں ان کی پارٹی کی حکومت نے نظرانداز کیا ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کے صدر قومی سیاسی اتفاقِ رائے کی بات کر رہے ہیں‘ دوسری طرف ان کی پارٹی کے قائد میاں نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں جو سقوط مشرقی پاکستان سے پہلے تھے حالانکہ آج جو حالات ہیں وہ خود مسلم لیگ ن کے طویل دورِ حکومت کا نتیجہ ہیں۔ اگر ان کے قول کے مطابق یہ حالات ملک کو 1970ء کے بحران کی طرف لے جا رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری ان کی اپنی پارٹی کی کارکردگی پر ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے لیڈروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ پارٹی ٹکٹ واپس کر دیں۔ اس حوالے سے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے گیارہ لیگی امیدواروں کے پارٹی ٹکٹ واپس کرنے کو شہادت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن راجن پور اور ڈیرہ غازی خان گزشتہ پانچ سال تک لیگی حکومت ہونے کے باوجود محروم ترین علاقے شمار ہوتے ہیں اور ان علاقوں میں ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینا عوام کے سامنے کڑی جوابدہی کو دعوت دینا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے امیدواروں کو الیکشن کمیشن جیپ کا نشان الاٹ کر رہا ہے اور ’’آپ جانتے ہیں کہ جیپ کس کی علامت ہے‘‘۔ اس طرح انہوں نے الیکشن کمیشن کے ادارے کو بھی لیگ مخالف قرار دے دیا ہے۔ رہی علامت کی بات تو جیپ آج کل ہر زمیندار گھرانے کے پاس بھی ہے اور اگر علامت ہی سے اندازہ کیا جانا ہی معیار ہے تو مسلم لیگ ن کا شیر کا نشان بھی تو جنگل کے قانون کی علامت ہے۔ شیر بلاشرکت غیرے جنگل کا بادشاہ ہے۔ جنگل کے قانون میں کہاں جمہوریت ہوتی ہے۔ جنگل میں شیر کی قوت کو کوئی دوسرا چیلنج نہیں کر سکتا۔ تیر مطلق العنان قوت کی علامت ہے۔ شیر دور سے حملہ کرنے کی علامت ہے۔ کتاب پڑھنے لکھنے کی علامت ہے جس کا حکمرانی سے کوئی تعلق نہیں‘ قلم دوات اور پنسل ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے مراحل میں کام آنے والی اشیاء ہیں لیکن میاں نواز شریف نے جیپ کی علامت سے اپنی ڈھب کے معنی نکال لئے ہیں۔ وہ جب قبل ازانتخابات دھاندلی کی بات کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں شاید بعداز انتخابات احتجاج بھی ہو لیکن میاں شہباز شریف قبل از انتخابات دھاندلی کے الزام کی ہاں میں ہاں بھی ملاتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ انتخابات میں اگر ان کی پارٹی کو اکثریت ملی تو بھی وہ ملک میں قومی حکومت بنائیں گے۔ اس صلح کل روئیے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو اکثریت نہ بھی حاصل ہوئی تو وہ حکومت میں شامل ہونے یا اس کیساتھ تعاون کرنے کو تیار ہوں گے۔ اس صلح جوئی اور سقوط مشرقی پاکستان ایسے حالات کے انتباہ سے ظاہر ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور صدر دونوں آپشن اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، انتخابی سیاست کا بھی اور احتجاجی سیاست کا بھی۔

متعلقہ خبریں