Daily Mashriq


آسودگی اور زندگی

آسودگی اور زندگی

زندگی یوں تو گزر ہی جاتی ہے، وقت کا پہیہ کب رکنے کا نام لیتا ہے۔ انسانی دل کی دھڑکن وقت کے گزرنے کے سب سے بڑی اور سامنے کی چیز ہے۔ دھک دھک کرتا یہ دل گھڑی کی سوئیوں کی طرح وقت کے آگے بڑھنے کا اذن دے رہا ہوتا ہے۔ انسان ناموجود سے موجود کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور شیر خوارگی سے لیکر بڑھاپے تک سانس کی ڈور ساتھ چلتی ہے اور ہست سے نیست تک کا یہ سارا سفر اسی سانس کی ڈور تک منسلک رہتا ہے۔ انسان نے کیا کھویا اور کیا پایا ہوتا ہے خود انسان بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا کیونکہ انسان زندگی کے سود وزیاں کو اپنی پرسیپشن یا نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک ٹرانسپورٹر یہ سوچے کہ اگر وہ صحیح فیصلے کرتا تو آج سڑکوں پر اس کے دوسو ٹرک زیادہ دوڑ رہے ہوتے یا کوئی سیاستدان اپنی زندگی کے نشیب وفراز پر نظر دوڑائے تو اسے اپنی زندگی کے چند ایک ایسے دوراہے نظر آجائیں کہ جہاں اسے لگے کہ وہ درست فیصلے کرتا تو آج پاکستان کا صدر ہوتا ہی۔ کوئی کاروباری بھی اپنے کسی فیصلے کو کوس سکتا ہے کہ جس فیصلے کی وجہ سے اس نے کروڑوں کے فائدے کو خود ہی ٹھوکر لگا دی تھی۔ چاہے ٹرانسپورٹر ہو، سیاستدان ہو یا کاروباری شخصیت سب اس موقع پر اپنی پروفیشنل زندگی کے تناظر میں ہی اپنی پرسیپشن کے مطابق سوچیں گے اور اپنی گزشتہ زندگی کا محاسبہ کریں گے، کیونکہ ان سب کے نزدیک زندگی کی اپنی تشریح موجود ہوگی اور زندگی کی اسی تشریح کے تناظر میں ہی وہ زندگی کا مواخذہ یا احتساب کریں گے۔ زندگی کو اگر ایک سفر تصور کیا جائے تو یہ ہر کسی کیلئے اپنی اپنی معنویت رکھے گا۔ جیسا جس کی زندگی کا سفر گزرے گا وہ ویسا ہی زندگی کوسمجھے گا۔ دو لوگ ایک ساتھ پشاور سے کراچی کے سفر پر نکلتے ہیں، ایک کو کوئی حادثہ پیش نہیں آتا اور وہ بڑی سہولت کیساتھ کراچی تک پہنچ جاتا ہے جبکہ دوسرا کراچی تک کے سفر میں مختلف پریشانیوں، حادثوں، مصیبتوں اور سختیوں کیساتھ پہنچتا ہے۔ پہلے والے سے آپ پوچھیں کہ سفر کیسا تھا تو جواب یہی ہوگا کہ بہت اچھا سفر تھا بلکہ وہ آپ کو راستے کے خوشگوار واقعات، تاثرات اور مناظر بھی بتا دے گا۔ اس کے برعکس دوسرے مسافر سے پوچھیں گے تو وہ اس سفر کی ساری مصیبتیں اور پریشانیاں اور مصائب آپ کے سامنے پیش کر دے گا۔ زندگی بھی ایسا ہی ایک سفر ہے کہ جس میں انسان اپنی سرگزشت کے تناظر میں زندگی کو سمجھتا ہے، اپنے تجربات، مشاہدات سے زندگی کو سمجھتا ہے اور ایسا ہے بھی، کوئی قارون کے خزانے لئے دنیا میں گھومتا پھرتا ہے کہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے خزانے کی تفصیل کیا ہے اور کسی کو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی، کوئی ساری زندگی خوف اور غم کی کیفیت میں گزار دیتا ہے تو کسی کو غم اور دکھ کا سرے سے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ کس چڑیا کے نام ہیں۔ ان ساری بحث سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ ہر انسان اس دنیا میں ایک الگ سی زندگی گزارتا ہے لیکن اس الگ زندگی کے اندر بھی بہت سی مشترک قدریں ایسی ہیں کہ ہر انسان ان کیفیات کو ایک ساتھ ہی محسوس کرتا ہے۔ انسانی جذبے اور احساس اپنی شدتوں کیساتھ آفاقی حوالے رکھتے ہیں۔ امریکہ کا آسودہ انسان اور پاکستان کا ناآسودہ انسان محبت، نفرت، تعصب، خوف، موت وغیرہ کو ایک جیسا ہی محسوس کریں گے کیونکہ یہ جذبے جب احساس بنتے ہیں تو ان کا ارتکاز ایک جیسا ہی ہوتا ہے، شدت بہرحال کم یا زیادہ ہو سکتی ہے اور اس کا تعلق بھی انسان کے ذاتی نفسیاتی حوالے کیساتھ ہوتا ہے۔ ہر درجے کا انسان کہ اس کی زندگی جیسی بھی ہو وہ اس زندگی سے آسودگی کا طلبگار ہوتا ہے۔ دنیا کا امیر ترین انسان بل گیٹس کہ جس کے اثاثے اتنے زیادہ ہیں کہ وہ پچاس زندگیوں میں بھی انہیں ختم نہیں کر سکتا، وہ بھی اپنی آسودگی کیلئے دکھی انسانیت کی مدد میں اپنے پیسے کو استعمال کر رہا ہے۔ مغل بادشاہوں کی اکثریت اپنی آسودگی کیلئے طاؤس ورباب کی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے اور ایسا بھی ہے کہ آسودگی کے متلاشی شب بیدار، رات کی تاریکی میں اپنے رب کے سامنے سر بسجود ہوکر آسودگی پا لیتا ہے اور کوئی اسی رات کو گناہوں کی نذر کرکے آسودہ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقی آسودگی البتہ چیز دیگر ہے۔ دنیاوی تعیش سے حاصل کردہ آسودگی بہرحال مصنوعی سی ہوتی ہے، اور جب اس میں تصور گناہ بھی شامل ہو جائے تو وہ آسودگی اپنے اثر منفی صورت میں ظاہر کر دیتی ہے اور وہی آسودگی بجائے خود ناآسودگی کے اثر کو بڑھا دیتی ہے۔ آسودگی دراصل خوف واندیشوں سے ماوراء ہونے کا نام ہے اور خوف واندیشے انسان کے باطن سے پھوٹتے ہیں۔ خوف ایک ایسا داخلی انفکشن ہے کہ جس کیلئے خارجی انٹی بائیوٹک کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ انٹی بائیوٹک نیکی ہے۔ نیکی کا تصور انسان کے داخل کی بہت سی دریدہ کیفیتوں کی رفوگری کر دیتی ہے۔ نیکی انسان کو انسان کے قریب لاتی ہے اور جب انسان دوسرے انسان کے قریب تر آتا ہے تو اسے اپنے دکھ درد بھول جاتے ہیں، یہی زندگی کی سب سے حسین کیفیت ہے۔ جب آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں، کسی بے لباس کو لباس دے دیتے ہیں، کسی طالب علم کی تعلیمی ضررتوں کو اپنی جیب سے پورا کر دیتے ہیں، کسی ضعیف کا سہارا بن جاتے ہیں، کسی کمزور کا بازو بن جاتے ہیں، کسی کمزور کا دل بڑھا دیتے ہیں تو یہ سب نیکیاں داخلی سطح پر خود آپ کو ایک سرخوشی کی کیفیت عطا کر دیتی ہیں۔ آپ کو اپنے ہونے پر داخلی سطح پر تفاخر کا ایک احساس ہوتا ہے اور یہی احساس وہ انٹی بائیوٹک بن جاتا ہے جو آپ کو ناآسودہ رکھنے والے جراثیموں کو آپ کے اندر سے بھگا دیتے ہیں۔ خوشی مادی اشیاء میں تلاش کرنے کی بجائے اگر نیکی میں تلاش کی جائے تو انسان دوسروں کیلئے افادی حیثیت اختیار کرکے ایک بہتر معاشرے کی ساخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زندگی کی کتنی تفسیریں ہو سکتی ہیں جو میں نے عرض کیا شاید وہ ان میں سے ایک ہو۔

متعلقہ خبریں