Daily Mashriq


نام نہاد دعوے اور حقیقت

نام نہاد دعوے اور حقیقت

ہم عجیب اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں۔ نیب ایک شخص کو بدعنوانی میں ملوث پا کر گرفتار کر لیتی ہے اور ہم اسے سیاسی انتقام کا نام دے کر تمام ہمدردیاں اس کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ نیب نے پانچ وجوہات بیان کر دیں جن کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے رہنما قمرالاسلام کو گرفتار کیا گیا۔ کیا ان وجوہات سے مضر ممکن ہے اور کیا ہم نہیں جانتے کہ پنجاب حکومت کی قائم کردہ متنازعہ 56کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ’’صاف پانی کمپنی‘‘ تھی اور قمرالاسلام اس کے پروکیورمنٹ کمیٹی کے کنوینئر تھے۔ ان 56کمپنیوں میں 80ارب روپے کی بدعنوانی کا مقدمہ گزشتہ سال سے نیب میں ہے۔ 22نومبر 2017ء کو نیب ہدایات کے مطابق پنجاب حکومت نے ان کمپنیوں کا ریکارڈ نیب اتھارٹیز کے حوالے کرنا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی 80ارب روپے کی کرپشن کیس کی سماعت کرتے رہے۔ ایڈوکیٹ ثانیہ کنول نے پنجاب صاف پانی میں مبینہ کرپشن کیخلاف رٹ پٹیشن کی جس کے جواب میں یہ پنڈورا باکس کھلا۔ پٹیشنر ثانیہ کنول کے مطابق قومی خزانے سے اربوں روپے صاف پانی کمپنی کے افسران کے بیرون ملک دوروں پر لگائے گئے‘ جو رقم عوام کو صاف پانی پینے کی فراہمی کیلئے مختص کی گئی تھی اس سے بلٹ پروف گاڑیاں امارات میں خریدی گئیں‘ عدالت نے یہ دلائل سننے کے بعد استفسار کیا کہ یہ کس قسم کا پراجیکٹ تھا جس کیلئے متحدہ عرب امارات میں انٹرویوز کا اہتمام کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں یہ اللّے تللّے صاف پانی کمپنی کی چھتر چھایا تلے ہو رہے تھے۔ قارئین یہ بھی جان لیں کہ صاف پانی کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر صاحب ماہانہ 14لاکھ روپے کی تنخواہ بھی وصول کر رہے تھے۔ ان معروضات کو بیان کرنے کا مقصد دو باتیں واضح کرنا ہے۔ اول‘ انجینئر قمرالاسلام کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ لیگی رہنما کی گرفت صاف پانی کمپنی کی بدعنوانی کیخلاف جاری اس پراسس کے تحت ہوئی جو گزشتہ سال کے وسط سے جاری تھا۔ مقدمہ ہائی کورٹ میں بھی رہا اور بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے اس کو ٹیک اپ کیا۔ دوم‘ سیاسی وابستگی کے تحت لوگ اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں اور حقائق جانے بغیر الزام لگا کر اپنے اداروں کی ساکھ جہاں مجروح کرتے ہیں وہیں غلط لوگوں کا ساتھ دیکر اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیتے ہیں۔ معاشرے اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر چل کر ترقی اور عروج حاصل کرتے ہیں۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی روایت جس معاشرے میں ناپید ہونے لگے اس کا وجود بتدریج مٹنے لگتا ہے۔ انجینئر قمرالاسلام کے کم سن بیٹے اور بیٹی سے تمام تر ہمدردی کا مؤجب یہ سوچ ہے کہ ان کے والد کیساتھ زیادتی ہوئی۔ کیا درج بالا حقائق جاننے کے بعد یہ سوچ اور اپروچ درست قرار دی جا سکتی ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مر مٹنے کا مقام ہے لیکن بدعنوانی کے جرائم میں ملوث لوگ جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو وہ بھی وکٹری کا نشان بناتے ہیں‘ اس سے زیادہ کسی معاشرے کی اخلاقی پستی کا عالم اور کیا ہوگا۔

پنجاب حکومت نے برسوں ڈھنڈورا پیٹا کہ انہوں نے صاف وشفاف حکومت کی اور غیر ملکی کمپنیوں سے اچھے ریٹ پر معاہدے کر کے قومی خزانے کے اربوں روپے کی بچت کی۔ 2017ء کے وسط تک شکوک وشبہات تو موجود تھے لیکن اس دعوے کو جھٹلانے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ میں نہ تھا۔ تاآنکہ 56کمپنیوں کی وجہ سے خادم اعلیٰ کی گڈگورننس کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھٹ گئی۔ کیا قارئین اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ سات آٹھ ماہ تک نام نہاد خادم اعلیٰ صاحب کی حکومت ان کمپنیوں کے متعلق ریکارڈ پیش کرنے سے گریزاں رہی۔ نیب حکام کے مسلسل اصرار اور لاہور ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود پنجاب حکومت نے اپنی قائم کردہ 56کمپنیوں کے افسروں اور ان کی تنخواہوں کی بابت معلومات دینے سے اجتناب کیا۔ بعدازاں عدالت عظمیٰ نے جب ازخود نوٹس لیا تب بھی ریکارڈ پیش کرنے کی بجائے ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن عدالت سے مزید وقت دینے کی درخواست کرتے رہے۔قارئین! 80ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام جن کمپنیوں کے بارے میں تھا ان کی بابت سات آٹھ ماہ تک ریکارڈ پیش نہ کرنا کس قسم کی طرز حکمرانی کی جانب اشارہ ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ’’خادم اعلیٰ‘‘ صاحب ہر پریس کانفرنس میں یہ ارشاد عالیہ سناتے پائے گئے کہ اگر ہمارے پراجیکٹس میں ایک ’’دھیلے‘‘ کی کرپشن پائی جائے تو میرا گریبان ہوگا اور آپ کا ہاتھ ہوگا۔ یہ خادم اعلیٰ اگر اپنی قائم کردہ کمپنیوں کا ریکارڈ ہی پیش نہیں کرتے تو کوئی ادارہ ان کی شفافیت کو کیسے جانچ سکتا ہے۔ شہباز شریف کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ جھٹ سے یہ ریکارڈ نیب کے حوالے کرتے اور میڈیا میں بھی اسے عام کر دیتے تاکہ عوام کو جاننے کا موقع ملتا کہ وہ شہباز حکومت کے ’’عہدِ فاروقی‘‘ میں جی رہے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہماری روایت حقائق چھپانا نہیں بلکہ انہیں عام کرنا ہے۔ کوئی ہمارے خلیفہ سے پوچھنے سے جسارت کرے کہ دو چادریں آپ کے پاس کیسے آئی ہیں، تو ہم اس شخص کو جھڑکتے نہیں ہیں بلکہ اسے بتاتے ہیں اور اپنے عمل کی وضاحت پیش کرتے ہیں۔قارئین کرام! میں نے ایک مثال آپ کے سامنے پیش کر دی ہے‘ اس کی روشنی میں آپ فیصلہ کریں کہ پنجاب پر حکومت کرنے والوں کے نام نہاد دعوؤں میں حقیقت کتنی ہے۔

متعلقہ خبریں