Daily Mashriq


ایک تجزیہ

ایک تجزیہ

ہم میں سے ہر شخص یہ تجزیہ چاہتا ہے کہ اگلی حکومت کونسی ہوگی، کس کی ہوگی حالانکہ کسی کی بھی حکومت آئے یقین مانئے اس سے ایک عام آدمی کی زندگی پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں۔ ہمارے لئے صورتحال پر حکومتوں کی پالیسیاں بھی کوئی خاص اثر نہیں ڈالتیں۔ اگر کوئی اثر ہونا ہوتا تو بھلا ایک نگران حکومت کبھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی۔ دراصل تیسری دنیا کے ممالک میں حکومتوں کی پالیسیاں، مرضی اور ترجیحات آپس میں متصل نہیں ہوتے۔ کئی بار کوئی حکومت فیصلہ کرنا چاہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہوں تب بھی بین الاقوامی ترجیحات کے دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پڑتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کی نیت میں کھوٹ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں لیکن انہی کے درمیان کئی لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے نہایت دلجمعی اور ایمانداری سے کام کیا۔ یہ اور بات ہے کہ سیاست کی اس دھینگا مشتی میں وہ منحنی اور کمزور وجود رکھتے تھے اس لئے منظرعام پر دکھائی بھی نہ دیئے اور اگر کبھی ان پر کسی کی نظر بھی پڑی تو ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے بلند وبانگ پکار میںدب کر رہ گئی۔ہم بحیثیت قوم بڑا ہی عام سا مزاج رکھتے ہیں۔ ہماری طبیعت کے زیروبم کو بہت جلدی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہماری طبیعت اور ردعمل کے حوالے سے میں نے کئی امریکی کتابوں میں مصنفوں کو بڑے شش وپنج میں مبتلا دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ پاکستانیوں کے مزاج کو سمجھنا بہت ہی مشکل ہے۔ یہ کب کس بات پر کیا ردعمل دینگے، اس کا کچھ پتا نہیں چلتا حالانکہ میں سمجھتی ہوں کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ وہ ہمارے مزاجوں کو، ہمارے متوقع ردعمل کو ہم سے کہیں زیادہ سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمیں کیا بات بتانی چاہئے اور اس کے ہم پر ہماری سوچ پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں چنانچہ ان کا میڈیا انہی باتوں کو لوگوں کے سامنے لے کر آتا ہے جن سے انہیں اپنے مقاصد کے حصول میں آسانی ہوتی ہے۔ ایک کتاب ’’معیشتی قاتل کا اقرار نامہ‘‘ ایسی کئی باتوں کی جانب بہت واضح اشارہ کرتی ہے۔ کس طرح پاکستان جیسے غریب ملکوں کو ترقی کا جھانسا دے کر سمندر کا پانی پلایا جاتا ہے کہ اس کے بعد ترقی کی خواہش کی پیاس بھجتی ہی نہیں، ظاہر ہے لوگ زندگی میں آسانی چاہتے ہیں۔ قناعت تو یوں بھی ہمارے رویوں سے، ہماری معاشرت سے بہت دور ہو چکی ہے ایسے میں تعیش کی خواہش میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں میں حسرتوں کی طرح پیدا کی جاتی ہے۔ کم سوچنے سمجھنے والے لوگ، معمول کی طرح ان خواہشات کے پیچھے چل پڑتے ہیں جن کے حصول کے مثبت منفی اثرات کا کبھی انہوں نے جائزہ ہی نہیں لیا ہوتا، جب ایک خوبصورت، چمکتے دانتوں والی ماڈل کسی مہنگی سی ٹوتھ پیسٹ خریدنے کی خواہش لوگوں میں پیدا کر رہی ہوتی ہے اس وقت لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس سے بہتر کام ان کیلئے مسواک کیا کرتی تھی۔ وہ نہ صرف صفات میں ٹوتھ پیسٹ سے کہیں بہتر تھی بلکہ اس سے کم قیمت بھی تھی۔

برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کیساتھ ہی لوگوں کا رجحان یورپ سے متاثر ہونے کی جانب ہوگیا۔ شاید تاریخ کی یہ حقیقت درست ہو لیکن اس میں محدود سچائی ہمارے سامنے آتی ہے۔ یورپ کی جانب بے شک ہمارا رجحان ہوا لیکن اس سے پہلے بھی برصغیر میں رجحانات کی کمی نہ تھی۔ یہ لوگ چونکہ ایک عرصے سے بیرونی آقاؤں اور فاتحین کو برداشت کرتے چلے آرہے تھے اس لئے ان میں آقاؤں سے متاثر ہونے اور ان کی تقلید میں مبتلا ہو جانے کا رجحان صدیوں پرانا تھا۔ ایران سے، وسط ایشیاء سے، افغانستان سے، جہاں جہاں سے حکمران ان پر وارد ہوئے، انہوں نے ان سے متاثر ہونے میں ان کی تقلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی یہاں تک کہ سکندر اعظم جس کے بارے میں بڑے تفاخر سے یہ پورس کی لڑائی کا ذکر کرتے ہیں، جہاں سکندر اعظم کو شکست ہوئی، اس کی یہاں آمد کے آثار آج بھی برتنوں سے لے کر زبان تک اور معیشت سے لے کر لوگوں کے ناموں تک سب پر ملتے ہیں۔ یہ اس خطے کے لوگوں کی خاصیت تھی کہ وہ ہر ایک کی تقلید کرتے، اس کا رنگ اپناتے اور اس کے چلے جانے کے بعد آنے والوں کیلئے اسی طرح بانہیں وا کئے رکھتے۔ مسلسل فاتحین کی آمد نے اس علاقے میں لوگوں کے کردار کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا۔ جہاں یہ لوگ جنگجو ہیں وہیں یکدم ہتھیار پھینک کر حکومت کرنے والوں پر نثار ہو جانے والے شاہ پرست بھی ہیں اور اپنا کوئی واضح تشخص یا کردار نہیں رکھتے اور یہ ان کے اپنے کردار کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ برطانیہ کی حکومت تو یہاں ختم ہوگئی لیکن ان کے دلوں سے محبت اور عقیدت ختم نہ ہوئی اور جب برطانیہ کا رخ امریکہ کی جانب ہوا تو انہوں نے بھی اپنا قبلہ سیدھا کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت سے نہ تو کبھی برطانیہ کو انکار رہا، نہ ہی امریکہ کو کبھی اس حوالے سے کوئی شک وشبہ ہوا۔ ہم جن باتوں پر غور نہیں کرتے اور ماضی کے جو اسباق ہم نہایت فراخدلی سے فراموش کر دیتے ہیں، وہ انہیں کبھی نظرانداز نہیں کرتے ہیں اور فراموش کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں