Daily Mashriq


خوشامد کی وراثت

خوشامد کی وراثت

برصغیر پاک وہند میں انگریز کی آمد سے مغلیہ سلطنت کے آخری ادوار میں طوائف الملوکی کے سبب خوشامد اور چاپلوسی وغیرہ اپنی انتہاؤں کو چھو رہی تھی۔ دہلی اور لکھنؤ میں بادشاہ نواب اور شہزادوں کے مصاحبین دن رات ایسی سوچ وفکر میں غلطاں رہتے تھے کہ ’’جان عالم‘‘ کو کیسے خوش کیا جائے۔ اس زمانے میں قصیدہ گوئی ہجو، لطیفہ گوئی، طنز ومزاح بہت پست معیار کا مسخرا پن اور مذاق پھکڑپن کی حد تک پہنچ چکا تھا۔ بادشاہوں کے دربار میں غالب، ابراہیم ذوق اور انشاء اللہ خان انشا جیسے اساتذہ روزانہ نیا قصیدہ پیش کر کے نقد داد وصول کرتے لیکن پھر ایک وقت آیا کہ قصیدہ گوئی کیلئے موضوعات اور الفاظ کم پڑنے لگے۔ انشاء کے ممدوح تو روزانہ نئے لطائف سننے کے عادی تھے۔ آپ بے چارے کئی مہینوں تک سوچ سوچ کر نت نئے لطائف بناتے اور پیش کرتے رہے لیکن تابہ کے؟ ایک دن اسی غم میں جنون کا شکار ہو کر دربار سے بے دخل ہوئے۔ یہ مشہور زمانہ شعر اسی انشاء کا ہے۔

برباد گلستاں کرنے کو ایک ہی اُلو کافی ہے

ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

کیا پیش گوئی کی تھی جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔ اسی زمانے میں ایک صاحب تو تھک ہار کر درباروں سے الگ ہوئے اور اعلان کیا کہ

روز ایک نیا قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ

رزق برحق یہ محنت نہیں ہوگی ہم سے

خیر آخرکار انجام گلستان یہی ہوا کہ مغلیہ سلطنت کا آخری چشم وچراغ بہادر شاہ ظفر رنگون میں ایک انگریز کپتان (شاید ولسن نام تھا) کے گاڑی کے گیراج میں آخری دن گزار کر اس دنیا سے بہت بے بسی کے عالم میں رخصت ہوئے۔

حضرت حسین ابن علیؓ نے امت کو امریت اور بادشاہت کی اسی لعنت کہ قوم مطلق العنان حکومتوں اور امریتوں میں خوشامدی بن کر کسی تعمیری کام کی قابل نہیں رہتی، سے بچانے کیلئے اتنی عظیم قربانی دینے پر آمادہ ہوئے لیکن وائے ناکامی کہ وہ سلسلہ اب مسلمانوں کے ہر ملک میں سکہ رائج الوقت بن کر کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اُمید تو یہ تھی کہ یہاں اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل ہوگی اور ہر فرد کی عزت نفس کی حفاظت کیساتھ باہمی احترام پر مبنی نظام رائج ہوگا لیکن ہماری بدقسمتی اور بدبختی کا اندازہ لگایئے کہ پاکستان میں اقتدار ان کے ہاتھوں میں آیا جو خود خاشامد کے طفیل انگریز سرکار سے جاگیریں اور مناصب حاصل کر چکے تھے اور اب وہ انگریز کی جگہ نئے آقا بن کر عوام پاکستان کو گزشتہ ستر برسوں میں گروپوں اور جماعتوں اور پارٹیوں میں تقسیم کر کر کے اپنی بے جا نفرتوں اور خوشامد پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کی چوٹی کی تین چار بڑی سیاسی پارٹیوں نے اپنے ووٹروں بے چاروں کو جس طرح روٹی، کپڑا مکان اور زندگی کی معمولی بنیادی ضروریات کیلئے ترسا کر رکھا ہے۔ اس کے نتائج اب اس صورت میں سامنے آرہے ہیں کہ ووٹ مانگنے کیلئے آنے والوں وڈیروں، خوانین، سرداروں، جاگیرداروں اور صنعتکاروں کو ووٹرز آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بہت بے باکانہ اور نڈر انداز اور لہجے میں پوچھ رہے ہیں کہ ابے! آپ گزشتہ دس پندرہ برسوں سے کبھی اس برباد اور مصیبت زدہ دیہاتوں میں نظر آئے ہیں؟۔ آخر اب کیوں آئیں ہیں آپ؟ آپ نے ایم این اے اور ایم پی اے کی حیثیت سے اب تک کیا کیا ہے؟۔ اس قسم کے تھیکے سوالوں کا جواب ان بے چاروں کے پاس کہاں ہے۔ آئیں بائیں شائیں کر کے رفوچکر ہو جاتے ہیں۔ اب شاید وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ان ’’سیاسی رہنماؤں‘‘ کی بے جا تعریفوں سے چھٹکارا پاسکیں جن کے ہاتھوں پاکستانی عوام کے قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے ہیں لیکن۔ بقول شاعر

قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے

رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے اور یہ جادو اس حد تک سر چڑھ کر بولنے لگا ہے کہ خود بنی گالہ اور ملتان میں شاہ صاحب کے گھروں کے سامنے دھرنے دیئے ہوئے کارکن پوچھ رہے ہیں کہ ٹکٹ کی تقسیم ناانصافی نامنظور!۔۔ یہی وہ کریڈٹ بلکہ کمال ہے کہ عوام کو قوت گویائی دے چکا۔ البتہ بے جا تنقید سے گریز لازمی ہے۔

جیسا کہ پچھلے دنوں پاکپتن میں فریدؒ شکر گنج کی زیارت کے چوکھٹ پر واقعے سے بے جا تنقید پیدا کرنے کی کوشش ہوئی۔ عمران خان وہاں نہ جھکتے تو اچھا ہوتا لیکن اگر احتراماً چوکھٹ کو بوسا دیا ہے تو کوئی اتنی بڑی بات نہیںکہ تصوف کی وارفتگی میں بعض اوقات ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ تنقید کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ عمران خان کسی زیارت ودرگاہ کی سنگ در کو بوسہ دے یا امام بارگاہ میں داخل ہو جائے۔ دعوت وتبلیغ والوں کیساتھ سہہ روزہ اور چلے پر چلا جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عمران خان کا اصل کارنامہ جس کی وجہ سے نوجوانان پاکستان آپ سے عشق کرتے ہیں یہی ہے کہ آپ نے لوگوں کو بے جا تعریف سے نجات دلانے کی رسم ڈال دی۔ البتہ عمران خان خود اگر لوگوں پر بے جا تنقید بند کر دے تو پاکستان اور عوام کا بہت فائدہ ہوگا۔ باقی اس وقت موجودہ لاٹ میں عمران خان کا ثانی کوئی نہیں۔ رہے نام اللہ کا۔

متعلقہ خبریں