Daily Mashriq

جمہوریت کا ایک اور سنگ میل

جمہوریت کا ایک اور سنگ میل

سال جمہوریت کے تسلسل اورایک اور جمہوری حکومت کی مدت اقتدار کی تکمیل صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کی جانب سفر کا ایک نیا سنگ میل ہے۔ وطن عزیز میں جمہوری حکومتوں کی قبل از وقت رخصتی اور مارشل لائوں کے باعث ملک میں غیر یقینی اور بیرون ملک پاکستان کے بارے میں جو منفی تاثرات پائے جاتے تھے جمہوریت کے ایک عشرے کی تکمیل سے ان میں کمی آنی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گوکہ وطن عزیز میں اب بھی حکومتوں کو عدم استحکام سے دو چار کرنے والی قوتوں کو سیاسی جماعتوں کی صفوں ہی سے اتحادی مل جاتے ہیں لیکن دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت اب اتنی سنجیدہ ضرور ہو چکی ہے کہ وہ جمہوریت کے استحکام کو اقتدار کی کرسی پر عملی طور پر فوقیت دینے لگی ہے۔ ہر دو جماعتوں نے مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر جمہوریت کے استحکام میں جو عملی کردار ادا کیا ایک اور جمہوری حکومت کی مدت اقتدار کی تکمیل اس کا بین ثبوت ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ پی پی پی حکومت کے قیام میں وزارتیں لے کر جمہوری استحکام کی راہ ہموار کی تو پیپلز پارٹی نے اقتدار کے آخری سال سے قبل سیاست نہ کرنے اور حکومت کو کام کرنے دینے کا برموقع اعلان کرکے اس پر عملدرآمد کرکے دکھا کر جمہوریت کو پروان چڑھانے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ تمام تر سیاسی اختلاف کے باوجود ان دونوں جماعتوں بالخصوص اور دیگر قابل ذکر سیاسی جماعتوں نے بالعموم اپنا جمہوری کردار بخوبی نبھا کر ملک میں سنجیدہ سیاست کے فروغ اور کسی کے بہکاوے میں نہ آنے کا عملی اظہار کرتے ہوئے ایک اور جمہوری حکومت کے مدت اقتدار کی تکمیل کی راہ ہموار کی۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اختتام پذیر حکومت کو کئی بار سخت سیاسی چیلنجوں سے دو چار کیاگیا مگر یہ سیاسی جماعتوں کی بالغ نظری ہی تھی کہ انہوں نے سازشی عناصر کے جال میں آنے کے سابقہ تجربات کی غلطی نہ کی۔ اب جبکہ آج سے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کا آغاز ہونا ہے تو بجا طورپر اس امر کی توقع ہے کہ دستور پاکستان کے مطابق ایک اور عام انتخابات منعقد ہوں گے اور جمہوریت کا تسلسل ٹوٹے بغیر انتقال اقتدار کا مرحلہ بحسن و خوبی مکمل ہوگا۔ وطن عزیز میں جہاں ایک طرف راست طریقے سے انتخابی عمل جاری ہے ہاں دوسری جانب بعض عناصر کی اب بھی کوشش دکھائی دیتی ہے کہ کسی طرح انتخابات ملتوی کرکے جمہوری عمل میں رخنہ ڈال کر مقاصد حاصل کئے جائیں لیکن ہر بار کے شناوروں کے اس مرتبہ ڈوبنے کا خطرہ زیادہ دکھائی دیتا ہے جو وطن عزیز میں جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ کردار کا ایک اور ثبوت ہوگا۔ اس سب کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر اور شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ الیکشن کمیشن ان انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں منعقد کرنے کی ذمہ داری پوری کرے گا۔ جمہوریت کے استحکام میں ہر پانچ سالہ مدت اقتدار کی بلا رکاوٹ تکمیل کی اہمیت ہی یہ ہے کہ پانچ سال قبل جس جماعت یا جن جماعتوں نے عوام کو اپنا منشور بنا کر اور وعدہ کرکے عوام کی جو حمایت حاصل کی تھی اس پر وہ کس حد تک پورے اترے اور عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اس کا آنے والے عام انتخابات میں حساب اور احتساب ہو تا ہے۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ تسلسل کے ساتھ مدت اقتدار پوری کر نے والی حکومتوں میں عوامی مسائل کے حل اور پارٹی منشور پر عملدرآمد میں کامیابی کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے البتہ ہر آنے والی حکومت اس طرف کوشاں ضرور ہوتی ہے۔ اگر ہم رخصت شدہ حکومت کی مشکلات اور کاموں کاجائزہ لیں تو رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود حکومت کی کارکردگی سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں بہتر رہی۔ اگر مدت اقتدار کے آخری سال حکومت طوفانوں میں نہ گھری ہوتی اور قبل ازیں ان کو دیگر معاملات سے بے پرواہ ہو کر حکومت کا موقع مل جاتا تو شاید حالات اس سے کافی بہتر اور مختلف ہوتے۔ بہر حال رخصت ہونے والی حکومت عوام کی توقعات پر کس حد تک پورا اتر سکی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کیا رہی اس کا فیصلہ 2018ء کے عام انتخابات میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے دیں گے اور یہی اصولی اور جمہوری طریقہ ہے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ انتخابات کو بروقت اور صاف و شفاف انداز میں ہونے کو یقینی بنائے۔ عام انتخابات کا بروقت اور شفاف انتخاب اور جمہوری طریقے سے منتقلی اقتدار وطن عزیز میں جمہوریعت کے استحکام کے لئے ایک اور سنگ میل ہوگا جسے یقینی بنانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ اس ضمن میں عوام کا کردار و عمل بھی اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ وہ انتخابات میں صحیح اور دیانتدار قیادت کا انتخاب کریں اور ملک کی باگ ڈور اہل افراد کو سونپنے کی ذمہ داری نبھائیں۔

متعلقہ خبریں