Daily Mashriq


ایک مرتبہ پھر مکالمے کی بحث

ایک مرتبہ پھر مکالمے کی بحث

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایوان بالا سے اپنے الوداعی خطاب میں اس امر کا پھر اعادہ کیا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شرکت کریں۔ اس مکالمے میں سول و فوجی تعلقات، پارلیمنٹ و عدلیہ اور پارلیمنٹ و حکومت کے باہمی تعلقات اور حدود کی وضاحت کی جائے۔شاہد خاقان عباسی نے دم رخصت یہ کہہ کر اس تجویز کا اعادہ کیا ہے جب تک یہ ضروری کام نہیں ہوگا سول حکومت الجھاؤ کا شکار رہے گی خواہ جس کی بھی حکومت آئے۔ دستور پاکستان میں ہر ادارے ومحکمے ریاست وحکومت بارے صراحت سے فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین موجود ہے، کیا ایک مرتبہ پھر بیٹھ کر اس امر پر بات کی جائے کہ سارے راہگزر اپنے اپنے راستے چلیں ایک دوسرے کی راہ نہ کاٹنے لگیں اور اپنی اپنی ذمہ داریاں احسن طریق سے ادا کریں۔ یہ سب کچھ تو آئین میں طے ہے پھر وہ معاملات وہ رکاوٹیں وہ دباؤ کہاں ہے جس کا شور مچتا ہے اور اداروں کے درمیان مکالمہ کی تجاویز بار بار دی جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں اولاً سیاستدانوں کو اپنی سمت درست اپنے تعلقات وعمل کی اصلاح پر توجہ دینا ہوگی۔ سب سے پہلے تو سیاستدانوں کے اپنے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے اگر سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین ہر کام مشاورت، آئین ودستور کی پاسدار ی، دیانتداری، خلوص نیت اور شفافیت سے کرنے لگیں تو دوسرے فریقوں کیلئے مواقع ہی باقی نہیں بچیں گے کہ وہ مداخلت بے جا کے مرتکب ہوں، غیر سیاسی عناصر کے پاس براہ راست مداخلت کا کوئی فارمولہ نہیں ۔ بہتر یہی ہوگا کہ سیاستدان آپس میں مفاہمت کرلیں سیاسی تنازعات اور سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے طے کیا جائے اور حصول اقتدار کی سیڑھی مقتدریں کی بجائے عوام کی حمایت واکثریت کا چنیں۔ جہاں تک ایک کثیر الفریقی مفاہمانہ مذاکرات کا تعلق ہے اولاً اس کی گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہنے دینی چاہئے اور پھر بھی اگر سیاستدان اس کی ضرورت محسوس کریں تو جتھوں اور تتر بتر ہو کر خفیہ طور طریقے اختیار کرنے کی بجائے باقاعدہ اور منظم طور پر ایسا کرنے میں حرج نہیں۔ یہ مذاکرات اسی وقت ہی ممکن اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں جب سیاسی اتحاد ویگانگت کی فضا قائم ہو، بصورت دیگر اپنی اپنی بولیاں بولنے والوں کی بولی صدا بصحرا ہی ثابت ہوگی۔ 2018ء کے انتخابات میں سیاستدانوں کو سیاسی اکھاڑے میں خود کو سلجھا ہوا ثابت کرنا ہوگا اور بعداز انتخابات حکومت سازی میں بھی اسی کردار کا اعادہ کرنے ہی سے آئندہ کی حکومت مضبوط، طاقتور اور بالادست بن سکتی ہے۔ایک مضبوط جمہوری نظام ہی مستحکم جمہوری حکومت کے قیام اور اس کو جاری رکھنے کا ضامن ہوگا دیگر عناصر اپنی جگہ لیکن اگر سیاستدان ہی سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کریں تو دوران اقتدار اور اختتام اقتدار ان کو مکالمے کی درخواستیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

بی آر ٹی انجینئر کے الزامات کی تحقیقات کی ضرورت

پشاورکے ریپڈ بس منصوبے کے اسسٹنٹ ریذیڈنٹ انجینئر کا اپنے عہدے سے استعفیٰ کوئی انوکھی بات نہیں لیکن انہوں نے چیف سیکرٹری کے نام خط میں جن تحفظات کا اظہار کیا وہ قابل توجہ بھی ہیں اور سنجیدہ معاملہ بھی ہے ۔مستعفی ہونیوالے انجینئر نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخواکو خط لکھ کر تحفظات سے آگاہ کر کیا۔منصوبے میں ناقص میٹریل کااستعمال کیاجارہاہے منصوبے کے کچھ ستون انتہائی ناقص کھڑے کئے گئے ہیں جو کسی بھی وقت منہدم ہوسکتے ہیں جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے سے متعلق اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اس وقت منصوبہ تمام بین الاقوامی سٹینڈرڈز کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے ۔ اس منصوبے کی مانیٹرنگ ایشین ڈویلپمنٹ بینک خود کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں تمام امور پی ڈی اے کی نگرانی میں انجام پا رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی حساس اور نازک معاملہ ہے جس میں غفلت کی گنجائش نہیں۔ ایک ذمہ دار شخص کی طرف سے جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے بجائے اس کے کہ اس کو مسترد کیاجائے ان الزامات کی تحقیق و تفتیش میں کوئی حرج نہیں۔ یقینا اتنے بڑے منصوبے میں غفلت کا ارتکاب نہیں ہوا ہوگا لیکن الزام لگانے والا بھی کوئی سیاسی شخصیت نہیں بلکہ گھر کا بھیدی ہے۔ پشاور کے شہریوں کو باب پشاور فلائی اوور میں دراڑیں پڑنے کا نہ صرف علم ہے بلکہ اسے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں جن کو چھپانے کے لئے لوہے کی لگی پلیٹیں اب بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ بی آر ٹی اربوں روپے کی لاگت سے نسلوں کے لئے تعمیر ہونے والا اہم منصوبہ ہے۔ اس روٹ سے روزانہ سفر کرنے والے پانچ لاکھ افراد کی زندگی وابستہ ہے۔ ممکن ہے ان کے الزامات درست نہ ہوں لیکن ان کی تحقیقات میں حرج نہیں۔ نیب خیبر پختونخوا کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہئے اور نہ صرف متعلقہ کمپنیوں اور حکومتی عہدیداروں سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے بلکہ الزام لگانے والے سے الزامات کی تفصیلات اور حقائق معلوم کرکے عوام کی تسلی کی جائے۔

متعلقہ خبریں