Daily Mashriq

اے شہر پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں

اے شہر پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں

پشاور کا تورا بورا کرنے والے منصوبے بی آر ٹی پر حال ہی میں بعض سنجیدہ سوالات کے بعد جن میں منصوبے کے سربراہ پر الزامات لگا کر رخصت ہونے والے چیف منسٹر نے ناراضی کا اظہار کیا تھا اور جس کے بعد منصوبے کے ساتھ تعلق رکھنے والے تین اہم اہلکاروں نے بطور احتجاج استعفیٰ دے کر حکومتی اقدام کو بڑی حد تک ’’برہنہ‘‘ کردیا تھا اور حکومت کو انہیں منانے کے لئے پاپڑ بیلنے پر مجبور کردیا تھا‘ ایک بار پھر اس منصوبے پر بی آر ٹی کے انجینئر گوہر محمد خان نے تحریک انصاف کی رخصت ہونے والی حکومت کے عین آخری دنوں میں سنگین الزامات لگا کر اس منصوبے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ موصوف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ساتھ ہی چیف سیکرٹری کو ایک خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جو الزامات لگائے ہیں وہ بہت ہی سنگین نوعیت کے ہیں کیونکہ ان کے بقول کنٹریکٹرز نے منصوبے میں نان کوالیفائیڈ افراد کو شامل کیا جنہیں تعمیراتی کام کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں جس کے نتیجے میں منصوبے میں ناقص میٹریل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے کچھ ستون انتہائی ناقص ہیں جو کسی بھی وقت منہدم ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے محولہ انجینئر سے متعلق کہا ہے کہ مذکورہ انجینئر سرکاری عہدے پرکام نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ ایک جونیئر انجینئر کے عہدے پر پرائیویٹ کنسلٹنٹ کے ساتھ کام کر رہا تھا جسے 28مئی کو ہی اپنے عہدے سے فارغ کردیاگیا۔ اسے غیر سنجیدہ رویہ اور کام میں دلچسپی نہ لینے پر فارغ کیاگیا۔ حکومتی بیان کے مطابق منصوبہ تمام بین الاقوامی سٹینڈرڈز کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے اور جس خط کو چیف سیکرٹری کو ارسال کیاگیا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اس منصوبے کی مانیٹرنگ ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک خود کر رہا ہے۔اسحاق وردگ نے کہا تھا

مشکل ہے تجھے آگ کے دریا سے بچا لوں

اے شہر پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں

حکومت نے اور تو جو بھی ’’کارنامے‘‘ انجام دئیے ان پر ابھی حقائق سامنے آتے رہیں گے تاہم اپنے اقتدار کے آخری سال میں جو منصوبے صوبائی دارالحکومت پر اس نے تھوپ دئیے تھے ان میں سب سے ’’عظیم منصوبہ‘‘ بی آر ٹی کا ہے۔ اس کے علاوہ بازار کلاں کے مقام پر ہیری ٹیج اور ثقافتی ورثہ بچانے کے لئے جو کھدائی کی گئی وہ بھی تادم تحریر تکمیل کی راہ تک رہا ہے اور عوام جو اس علاقے اور ملحقہ محلوں میں رہتے ہیں ان کی حالت دیدنی ہے جبکہ تیسری جانب گلبہار میں بڑے نالے کی تعمیر بھی گزشتہ سال رمضان سے بہت پہلے شروع کی گئی جس کی وجہ سے گلبہار‘ اعجاز آباد‘ آفریدی گڑھی وغیرہ کے رہنے والے ابھی تک عذاب سے دوچار ہیں۔ اگرچہ اب اس حلقے کے سابق ایم پی اے نے جو تحریک انصاف حکومت کے ترجمان بھی ہیں فرما دیا ہے کہ سڑک کی تعمیر پر چند روز میں کام شروع ہو جائے گا۔ تو توقع رکھنی چاہئے کہ اللہ کرے ایسا ہو جائے تاہم جہاں تک بی آر ٹی منصوبے سے مستعفی یا بقول تحریک انصاف حکومت نکالے گئے انجینئر کے چیف سیکرٹری کو خط لکھنے کا معاملہ ہے تو اس پر سابق حکومت کے موقف کے باوجود یعنی مذکورہ انجینئر کو نکالاگیا کیا منصوبے پر سنجیدہ سوال اٹھتے دکھائی نہیں دیتے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکاری موقف کے مطابق مذکورہ انجینئر پرائیویٹ کنسلٹنٹ کے ساتھ کام کر رہا تھا تو حکومت نے اسے کیوں اور کس قانون کے تحت برخواست کیا کیونکہ ناقص کارکردگی پر تو موصوف کو متعلقہ کنسلٹنٹ ہی ملازمت سے فارغ کرنے کا اہل ہے نہ کہ صوبائی حکومت۔ یعنی اس کی برطرفی کا پروانہ متعلقہ کنسلٹنٹ کی جانب سے سامنے آنا چاہئے تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر مذکورہ انجینئر نے ناقص میٹریل کے استعمال کی نشاندہی کی ہے اور مستقبل میں کسی بھی حادثے کے خدشات ظاہر کئے ہیں توباوجود اس کے کہ موصوف کو ’’برخواست‘‘ کردیاگیا ہے ان خدشات کی سنگینی کو اتنی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جتنی سہولت سے ایسا سرکاری بیان میں کردیاگیا ہے کیونکہ اگر بعض ستونوں بقول مذکورہ انجینئر کے انتہائی ناقص ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حادثے کا باعث بن سکتے ہیں تو اس خدشے کا تدارک کرنے کے لئے ماہرین سے رائے لینی ضروری ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ حیات آباد کے قریب جو ملٹی فلائی اوور حکومت نے اپنے ابتدائی ایام میں تعمیر کرکے اس پر ایک عرصہ تک فخر کرنے کے ناتے اشتہارات اور سوشل میڈیا پر دھوم مچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی اس میں پڑنے والی دراڑوں کی تصویریں بھی فیس بک‘ ٹویٹر اور پھر اخبارات کے علاوہ مختلف چینلز پر متعلقہ منصوبے کے نقصان کی قلعی کھولتی رہیں جسے سرکاری سطح پر معمولی قرار دے کر جان چھڑائی گئی۔ اب یہاں بی آر ٹی پر بھاری بسیں جن میں سینکڑوں کی تعداد میں انسان ہی سفر کریں گے اگر خدانخواستہ ان ستونوں میں مبینہ طور پر موجود نقصان کی وجہ سے کسی حادثے کا شکار ہوگئیں تو نہ صرف قیمتی انسانوں کی زندگیاں حادثات کا شکار ہوں گی بلکہ ان ستونوں کے (خدانخواستہ) گرنے سے منصوبہ ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا اور گرے ہوئے حصے کی تعمیر نو کے دوران اس پر سفر ہی بند ہو جائے گا۔ اس لئے مذکورہ انجینئر کے الزامات کو معمولی سمجھ کر ہوا میں اڑانے کی غلطی نہ کی جائے بلکہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے ماہر انجینئرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دے کر عوام کے سامنے حقائق پیش کئے جائیں بصورت دیگر اگر عوام کے ذہنوں میں خوف موجود رہے گا تو شاید بقول الیاس بلور ’’ مہنگی بسوں‘‘ کے باوجود کوئی بھی ان میں بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہوگا کیونکہ زندگی ہر کسی کو پیاری ہے۔

ہمدردیاں‘ خلوص‘ دلاسے‘ تسلیاں

دل ٹوٹنے کے بعد تماشے بہت ہوئے

متعلقہ خبریں