Daily Mashriq

ہم برے ہیں

ہم برے ہیں

میں سوچتی ہوں یہ کون لوگ ہیں جنہیں ہم اپنا نمائندہ تصور کرتے ہیں۔ وہ جوایک بات کرکے مکر جاتے ہیں جنہیں خود اپنے ہی کئے فیصلوں سے اختلاف ہونے لگتا ہے‘ جو اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی کرنے کے بجائے یکا یک ہی ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں اور انہیں اپنی اس حرکت پر کبھی ذرہ برابر ملال نہیں ہوتا۔ یہ لوگ جو چوریاں کرتے ہیں اور پھر دھڑلے سے سینہ ٹھونک کر کہتے ہیں کہ آخر کون چوری نہیں کرتا۔ وہ جنہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ بائیس کروڑ لوگوں کی آنکھیں ان پر لگی ہیں اور کبھی ان کے وہم و گمان میں نہیں رہا کہ ان لوگوں کا مستقبل بھی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بدعنوانیوں کو ایس آر او کے لبادے میں چھپاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہی سائے سے لڑنے کی اداکاری کرسکتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ رکھ سکیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو کسی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر طمانچہ بھی مار سکتے ہیں اور اس ڈھٹائی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں کہ معافی نہیں مانگیں گے۔ یہ وہ عجب لوگ ہیں جن کی بد عنوانی عفریت بن کر لوگوں کے دل و دماغ کو اپنے قابو میں کر چکی ہے۔ ہماری حالت وہی ہے جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ’’شیطان نے چھو کر بائولا کر دیا ہو‘‘ ہم لوگ سدھرتے نہیں اور اسی لئے ہمارے نمائندگان میں کوئی بہتری جنم نہیں لیتی۔ ہم بہتر ہوں گے‘ اپنی ترجیحات بہتر کریں گے تبھی تو ہم اپنی پسند بدل سکتے ہیں۔ پھر کہیں سے آواز آتی ہے کہ کیا تمہیں قرآن کا فیصلہ یاد نہیں‘ لوگ اپنے حکمرانوں کے دین کے ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے ناراض ہو جاتا ہے تو اس پر برے حکمران نافذ کردیتا ہے۔

ہم برے ہیں تبھی تو ہمارے درمیان ننھی بچیاں محفوظ نہیں رہتیں۔ ہم برے ہیں تبھی تو ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کے فیصلے کرتے ہیں۔ برے لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ ہم برے ہیں تبھی تو لوگ ہمیں لوٹتے ہیں‘ نوچتے کھسوٹتے ہیں لیکن ہمارے ماتھے پر شکن نہیں آتی۔ ہمیں کوئی احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ احتجاج بھی کرنا چاہئے۔ کچھ پریشانی کا اظہار بھی ہونا چاہئے۔ کم از کم کسی سیاستدان کا کبھی گریبان ہی پکڑ لینا چاہئے کہ ہمارے لئے تم نے اپنی حکومت میں صرف نقصان کے سودے کئے ۔ ہم کمال لوگ ہیں برے ہیں تبھی تو برائی ہی ہمارا رستہ تکتی ہے‘ نہ ہم اپنے گھروں میں محفوظ ہیں نہ ہماری زندگیوں میں کسی بھی قسم کا کوئی تحفظ باقی رہا ہے۔ پڑھ لکھ جائیں تو روزگار نہیں ملتا۔ اگر کسی کے جبر کا شکار ہو جائیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وحشیانہ رویوں سے خوف اس جبر میں شامل ہو کر اسے اور بھی گھنائونا کر دیتا ہے۔ ہم برے ہی ہونگے تبھی تو ہمیں کہیں سے کوئی خیرکی خبر نہیں آتی۔ تحقیق کرنے والے ادارے ہمیں بار بار بتاتے ہیں کہ ہم قحط سالی اور خشک سالی سے بہت دور نہیں ۔ ہمارے دریائوں کا پانی بھی ضائع ہو رہا ہے‘ ہماری ہوا بھی آلودہ ہو رہی ہے‘ ہماری زمینوں کی یافت بھی کم ہو رہی ہے۔ ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں‘ ہماری زندگیوں میں ضروریات کی کمی سانس نہیں لینے دیتی۔ شہروں میں لوگ پانی کی کمی سے بھی بلک رہے ہیں اور درجہ حرارت کی زیادتی سے بھی۔ ملک میں افراط زر اور بین الاقوامی قرضے یوں آناً فاناً بڑھے ہیں جیسے شام کو سائے لمبے ہو جاتے ہیں اور اس سب کے باوجود ہماری جمہوریت نے اپنے پانچ سال بہت اطمینان اور سکون سے پورے کرلئے ہیں۔ اور ہم انہیں با عزت رخصت کر رہے ہیں۔ ہمارا دکھ بڑا گنجلک دکھ ہے ہمیں بھی معلوم نہیں کہ خود ہمیں کس بات کا افسوس ہے۔ جمہوریت نے تو دوسری بار اپنی عمر پوری دیکھ لی لیکن ہمارے لوگ اس جمہوریت کی آلودگی کی موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ملک میں آلودگی کے باعث بیس ہزار لوگ اپنی اوسطاً عمر سے پہلے ہی مر جاتے ہیں لیکن سیاست دانوں کو اس کی کیا پرواہ۔ چلچلاتی دھوپ میں نذر محمد اپنی مزدوری لگنے کے انتظار میں بیٹھا رہے یہ ایک انتہائی یخ بستہ اسمبلی کو الوداع کہہ کر اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھے اور اپنے گھروں کی طرف سدھار گئے۔ وہ گھر جہاں کے میٹر ان کے اشارہ ابرو کے عین مطابق چلتے ہیں‘ ان کے گھروں کے درجہ حرارت بھی کبھی ان کے مزاج سے گستاخی کی جرأت نہیں کرسکتے۔

ہم جمہوریت کی فتح کے علمبردار ہیں اسی لئے لوڈشیڈنگ گزار رہے ہیں۔ دھوپ اور گرمی برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے درخت کاٹ کر سڑکیں بنوائی ہیں‘ ان سڑکوں میں عوام کا مستقبل اور صحت دونوں ہی تارکول کے ساتھ پگھلا کر ڈال دئیے ہیں۔ ہمیں کوئی گلہ نہیں‘ ہم برے ہی ہیں تبھی تو ان طمانچوں کی آواز نہیں سن سکے جو اس جمہوریت نے ہمارے منہ پر مارے ہیں۔

متعلقہ خبریں