Daily Mashriq

متحدہ مجلس عمل کے لئے چیلنجز

متحدہ مجلس عمل کے لئے چیلنجز

سیاسی پا رٹیوں نے 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات میں حصہ لیا ۔ متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختون خوا اور بلو چستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کافی نشستیں جیتی تھیں۔ قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل نے 63 ، پاکستان پیپلز پا رٹی نے 94 سیٹیں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے 124 سیٹیں جیتی تھیں۔ اُس وقت ایم ایم اے میں جو مذہبی سیاسی پا رٹیاں شامل تھیں اُن میں جمعیت العلمائے پاکستان، جمعیت لعلمائے اسلام فضل الرحمن گروپ، جماعت اسلامی ، تحریک جعفریہ پاکستان ،جمعیت اہلحدیث اورجمعیت لعلمائے اسلام سمیع الحق گروپ شامل تھیں۔ متحدہ مجلس عمل کی خیبر پختون خوا میں انفرادی طور پریعنی بغیر کسی اتحادکے حکومت بنی۔ اور بلو چستان میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مخلوط صوبائی حکومت بنائی۔ اب سوال یہ ہے کہ اُس وقت ایم ایم اے کیوں ٹو ٹی ۔ 2008 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔کیونکہ اُس دور میں ایمر جنسی جیسی صورت حال تھی چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر مکمل طور پر فعال نہیں تھے تو اُس وقت نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ عمران خان اور اچکزئی نے2008کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جبکہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات میں انفرادی طور پر حصہ لیا ۔اسی طرح 2008 کے انتخاب سے پہلے ایم ایم اے تحلیل ہوگئیں۔ اور 2018 کے انتخابات میں ایم ایم اے پھر ایک دفعہ وجود میں آئی۔ 2018 کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جو اتحادی پا رٹیاں الیکشن میں شر کت کریں گی اُن میں جے یو آئی ( فضل الرحمن ) جماعت اسلامی، جے یو پی ( اویس نو رانی گروپ) اسلامی تحریک ( ساجد نقوی گروپ)مر کز جمعیت اہلحدیث ساجد میر گروپ شامل ہیں۔متحدہ مجلس عمل پاکستان کے صدر مولانا فضل الرحمان اور خیبر پختون خواا سے ایم ایم اے کے صدر مولانا گُل نصیب ہیں ۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو 2002 اور 2018 میں تقریباً 16سال کا عرصہ گزر گیا۔ اتنے طویل عرصے میں سیاسی حرکیات یعنی سیاست کے طور طریقے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ بدل گئے ہیں ۔اُس وقت کے ووٹر اور اس وقت کے ووٹر کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر ہم غور کریں تو اُس وقت پاکستانی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان پو ری آب وتاب کے ساتھ نہیں تھے۔ 2013 کے انتخابات میں عمران خان کی شکل میں ایک اور پا رٹی اور شخصیت کا اضافہ ہوا ۔ عمران خان کو63 سال کی عمر میں بھی نوجوان اپنا آئیڈیل اور لیڈر سمجھ رہے ہیں اوربچے اپنے والدین کو کہتے ہیں کہ عمران خان کو ووٹ دینا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے ایک کروڑ 48 لاکھ ووٹ حا صل کئے، جبکہ تحریک انصاف نے 77 لاکھ اور پاکستان پیپلز پا رٹی نے 69 لاکھ ووٹ لئے۔ گوکہ عمران جوان نہیں مگر کرکٹ فوبیا اور ورلڈ کپ جیتنے کی وجہ سے نوجوان عمران خان کو زیادہ فو قیت دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ 2018 کے عام انتخابات کے لئے پاکستان کی بڑی بڑی پا رٹیوں کے سربراہان اپنی پا رٹیوں میں نوجوان قیادت کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ بھی عا م سیاسی قائدین میں نہیں بلکہ سربراہان اپنے اپنے بچوں کو سامنے لا رہے ہیں۔ ان میں نواز شر یف کی بیٹی مریم نواز، شہباز شریف کا بیٹا حمزہ شریف، اسفندیار ولی خان کا بیٹا ایمل خان اور بھانجا حیدر خان ، غنویٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو اور بیٹا جونیئر ذوالفقار بھٹو، آصف زرداری کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری شامل ہیں۔ اگر غور کریں تو اس وقت وطن عزیز میں 13کروڑ جوان ہیں اور وہ نوجوان قیادت کو پسند کرتے ہیں جو خیبر پختون خوا کی ایم ایم اے میں نہیں۔ خیبر پختون خوا میں ایم ایم اے نے مولانا گُل نصیب کو خیبر پختون خوا کا صدر مقرر کیاہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا گُل نصیب ایک عالم ہیں مگر میرے خیال میں خیبر پختون خوا کے نوجوانوں کو مولانا گُل نصیب سے متا ثر نہیں کر سکیں گے۔ گزشتہ سینیٹ کے الیکشن میں مولانا گُل نصیب کو خود جمعیت العلمائے اسلام کے صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے ووٹ نہیں دیا اور اُنہوں نے ووٹ طلحہ محمود کو دیا کیونکہ وہ پیسے والا آدمی ہے اور پا رٹی ممبران نے پارٹی کے مسلمہ ضوابط کے بر عکس مولانا صاحب کو ووٹ نہیں دیا۔ اسکے علاوہ مولانا فضل الرحمان عوام کی طرف سے سخت الزامات کی زد میں ہیں اور یہاں تک کہ مولانا صا حب کی شخصیت پر کیچڑ اُچھالنے کے لئے کتابیں لکھی گئیں ۔ سوشل میڈیا پر ۹۰ فیصد پو سٹ مولانا فضل الر حمان کے خلاف ہیں مگر اب تک مولانا صا حب اور ان کی پا رٹی کے ترجمان عام لوگوں کو وضاحت دینے میں ناکام ہیں۔ بعض تجزیہ نگا روں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کو مولانا صا حب کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہئے۔ بہر حال یہ توتجزیہ نگا روں کے اپنے اپنے تجزئیے اور آراء ہیں۔ ہاں جہاں تک خیبر پختون خوا میں ایم ایم اے کی اما رت اور صدارت کا تعلق ہے تو یہ مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق دونوں کو کسی عہد حاضر کے معاملات اور انتخابات کی حکمت عملی سمجھنے اور ووٹر ز کو ترغیب دینے والے لیڈر کو دینی چاہئے ۔ دونوں پا رٹیوں کے ورکروں کی رائے کے احترام میں مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق کو چاہئے کہ آئندہ انتخابات میں ایم یم اے کو ایک طاقت کے طور پرآگے لانے کے لئے خیبر پختون خوا میں صدارت کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور کسی ایسے پا رٹی لیٖڈر کو خیبر پختون خوا کی صدارت دیں تاکہ وہ دور جدید کے ووٹروں کو تر غیب دینے اور انتخابات کی ٹیکنیکس سے واقف ہو اور اسطرح ایم ایم اے بھی ملکی سیاست میں ایک اہم کردار اداکر سکے۔کیونکہ 2018 کے الیکشن میں عام لوگوں کی ایم ایم اے سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔ 

متعلقہ خبریں