Daily Mashriq


اور بیچ سے دھاگا ٹوٹ گیا

اور بیچ سے دھاگا ٹوٹ گیا

تنقید کرناسب سے آسان کام ہے۔ یہ جملہ ہم نے ان لوگوں کی زبانی سنا ہے جن پر تنقید کی گئی ہو یا جو کسی کی تنقید کا شکار ہوں۔ ادب میں تنقید باقاعدہ ایک نصاب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ادب میں تنقید کرنے والے یا تنقید لکھنے والے کو نقاد کہا جاتا ہے۔ شعبہ علم و ادب میں نقاد ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہمارے ہاں ہر کس و ناکس نقاد بنا پھرتا ہے جس کا مظاہرہ ان ادبی نشستوں کے دوران دیکھنے میں آتا ہے جو مختلف ادبی انجمنوں کے زیر اہتمام تنقیدی نشستوں کے نام پر جمتی ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ کوئی ادیب شاعر یا ادب تخلیق کرنے والا اپنا ادب پارہ کسی ادبی تنظیم کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تنقیدی نشست میں پڑھتا ہے جسے پہلے پہل تو بڑے صبر و تحمل کے ساتھ سنا جاتا ہے اورپھر محفل میں موجود لوگ اپنی اپنی باری آنے پر حسب استطاعت بات کرتے ہوئے اس ادب پارے کا تیا پانچا نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ اس دوران دو یا دو سے زیادہ اقسام کے روئیے دیکھنے میں آتے ہیں۔ جن میں سے ایک رویہ تنقید کرنے والے کے اس تاثر پر مبنی ہوتا ہے کہ وہ تنقیدی نشست کے دیگر شرکاء پر یہ ثابت کر سکے کہ وہ کتنا لکھا پڑھا اور جاننے والا ہے۔ اس دوران ایک رویہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ادب پارہ پیش کرنے والے کوبے وقعت قرار دے کر اسے چاروں شانے چت گرادیا جا ئے اور اس کا دل توڑ کر اسے لکھنے لکھانے کے شغل سے باز رکھا جا ئے۔کسی تنقیدی محفل میں تنقید کے لئے اپنی تحریر یا ادب پارہ پیش کرنے والوں کو اپنی تحریر کے حق میں بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ، وہ بڑے دل گردے کا مالک ہوتا ہے اور بھری محفل میں اپنے ادب پارے کا حشر نشر ہوتا دیکھ کر صبر کے گھونٹ پیتا رہ جاتا ہے۔ کہتے ہیں ایسا ہی ایک لکھنے والا اپنی بیگم کے پاس فریاد لیکر آیا کہ دیکھو ’’تمہارے لاڈلے نے میری ساری محنت ضائع کردی۔ جن کاغذوں پر میں نے بڑی محنت سے اپنے ادب پارے لکھے تھے ان کو اس نے پرزے پرزے کرکے جلا دیا‘‘۔ یہ بات سنتے ہی لاڈلے کی ماں بولی، ’’ شکر نہیں کرتے۔ ہمارے گھر میں ایک اچھا اور سخت گیر نقاد پل رہا ہے‘‘۔ لاڈلے کی ماں کی یہ بات سن کرشکایت کرنے والے کے دل پر کیا گزری اس کااندازہ وہی لگا سکتا ہے جو اپنی کسی تخلیق کو تنقیدی نشست میں پیش کرنے کے بعد محفل میں موجود نقادوں کی کڑوی کسیلی باتیں سننے کی اذیت برداشت کرچکا ہو۔ ویسے تنقیدی محفل میں کسی ادب پارہ کو پیش کرنے کا مقصد اصلاح حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن اس وقت لکھنے والے کی حالت پر ترس آنے لگتا ہے جب تنقید کرنے والے تنقید کرنے کی بجائے تنقیص پر اتر آتے ہیں۔ تنقید اور تنقیص کے درمیان بڑی مہین سی حد فاصل محسوس کی جاسکتی ہے۔ اگر ہم تنقید کو صفر کے ہندسے سے تشبیہہ دیں تو تنقیص کو منفی ایک کا عدد کہہ سکیں گے جب کہ اس کے برعکس تعریف کو پلس ون یا مثبت ایک سے تشبیہہ دے سکتے ہیں۔ حالانکہ کسی تنقیدی محفل میں پیش کی جانے والی تحریر یا تخلیق کو تنقیص کا نشانہ بنانا جتنا برا سمجھا جانا چاہئیے اسی طرح اسے بے جا تعریف و توصیف سے نوازنا بھی اچھا گرداننا نہیں چاہئیے۔ تنقید کو برائے اصلاح برتا جائے تو تنقیدی محفلوں کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ لیکن تنقید برائے تنقید یا تنقید برائے کردار کشی یا تنقید برائے تعریف و توصیف اور خوشامد جیسے روئیے مستحسن سمجھے جانے کا حق نہیں رکھتے۔

نکتہ چیں ہے ،غم دل اس کو سنائے نہ بنے

کیا بنے بات ،جہاں بات بنائے نہ بنے

غالب نے یہ بات کسی تنقیدی نشست کی فریاد کرتے ہوئے نہیں کی۔ انہوں نے اپنے نکتہ چیں محبوب کے تنقیدی رویہ کا رونا روتے ہوئے یہ شعر ارشاد فرمایا۔ ہمارے ہاں اس قسم کے روئیے روز مرہ زندگی میں عام ملتے ہیں ہر کام کرنے والا اپنے ارد گرد بے تحاشا پھیلے تنقید کرنے والوں کی تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ تنقید کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ اور تنقید کے نتیجے میں کسی کام کے اصلاحی پہلوئوں پر غور کرکے اس کے حسن میں نکھار پیدا کرنا ایک اچھا اور مثبت رویہ ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ایسے روئیوں کی بہت زیادہ کمی ہے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔ اس سچ سے انکار کرنے والے اپنے آپ کو سچا اور آئینہ کو جھوٹا قرار دے کر اسے بیچ چوراہے میں چکنا چور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس قسم کا مظاہرہ ہم اپنے سیاست دانوں کے ہاں عام دیکھتے ہیں۔ میں نے آج تک ایسا کوئی سیاست دان نہیں دیکھا جو اپنی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کے جواب میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرے۔ تو تو، میں میں، توتکار اور تیتک تاڑہ کی فضا تنقید کو برداشت نہ کرسکنے والوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے یا بے جا تنقید کے نتیجہ میں جنم لیتی ہے ۔ جس سے امن عامہ کی حالت کے بگڑنے کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ہم نے اپنے ایک دوست کو کہا تھا کہ’ جس دن میں نے تم پر تنقید کرناچھوڑدی سمجھ لینا کہ میں نے تم سے دوستی منقطع کردی ، ہائے کہ وہ ہماری اس بات کو بھی نہ برداشت کر سکا ، اور یوں وہ ہم سے کھنچا ، ہم ان سے کھنچے اور بیچ سے دھاگا ٹوٹ گیااور ہم دل ہی دل میں اس کے حق میں دعا کرتے رہ گئے کہ کاش وہ دن بھی آئے ، ہماری یا ہم جیسے کسی تنقید کرنے والے کی کمی محسوس کرنے لگے

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا جویاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا، کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

متعلقہ خبریں