Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ہشام بن عروہؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ ملک شام تشریف لائے تو لشکر کے امراء اور وہاں کے شرفاء نے آپؓ سے ملاقات کی۔ حضرت عمرؓ فرمانے لگے: میرے بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے پوچھا: آپ کے بھائی کون ہیں؟ فرمانے لگے: ابو عبیدہؓ! جو اسلامی فوج کے کمانڈر چیف تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی حاضر ہوتے ہیں۔ اتنے میں وہ ایک اونٹنی پر سوار تشریف لے آئے جس کی لگام ایک رسی تھی‘ سلام کے بعد حال دریافت کیا‘ اس کے بعد باقی لوگوں سے کہا کہ تم یہاں سے چلے جائو‘ پھر ان سے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے ان کے خیمے میں تشریف لے گئے۔ وہیں قیام فرمایا‘ ان کے ہاں تلوار‘ ڈھال اور ایک کجاوے کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا تو حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: کچھ سامان تو فراہم کرلتے۔ ابو عبیدہؓ نے عرض کیا: امیر المومنین! ہمارے آرام کے لئے یہ بہت کافی ہے۔ (حلیتہ الاولیاء 1/101‘ الاحیاء 3/323)

جعفر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابو ذر غفاریؓ کے گھر میں آکر ادھر ادھر دیکھنے لگا اور پوچھا کہ:اے ابو ذر آپ کا سامان کہاں ہے؟

وہ فرمانے لگے: ہمارا ایک عمدہ گھر ہے۔ خاص خاص اور اچھا سامان وہاں بھیج دیتے ہیں‘ وہ کہنے لگا: جب تک یہاں ہو‘ سمان یہاں بھی ضروری ہے۔ وہ فرمانے لگے: مالک مکان ہمیں اس میں ٹھہرنے نہیں دے گا۔ (تاریخ دمشق 28/310)

اعمشؒ ابراہیم تیمیؒ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ چند قریشی نوجوان حضرت ابو ذرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ نے دنیا کو رسوا کردیا‘ ان لوگوں نے ابوذرؓ کو غصہ دلایا‘ ابو ذرؓ فرمانے لگے میرا دنیا سے کیا واسطہ مجھے تو ہر ہفتے ایک صاع کے بقدر طعام اور یومیہ پانی کا ایک گھونٹ کافی ہے۔

(حلیتہ الاولیاء 1/162 و تاریخ ابن عساکر 28/303)

طارق بن شہابؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ ملک شام جاتے ہوئے مخاض نامی پانی کے چشمے پر پہنچے تو اپنے موزے اتار کر ہاتھ میں لئے اورایک ہاتھ سے اونٹ کی لگام پکڑ کر پانی میں داخل ہو کر اسے عبور کرنے لگے۔ لوگ دور سے آپؓ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ حضرت ابو عبیدہؓ آئے اور عرض کیا: آپ نے آج شامی لوگوں کی نظروں میں برا کام کردیا کہ آپ موزے اتار کر اور اونٹ کی نکیل پکڑ کر پانی میں گھس گئے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہؓ کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: افسوس! ابو عبیدہ‘ تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تو اچھا ہوتا( اس کے بعد فرمایا) تم حقیر لوگ تھے‘ خدا نے دین کی بدولت تمہیں عزت عطا فرمائی‘ اگر تم لوگ دین کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کرو گے تو حق تعالیٰ تمہیں رسوا کردیں گے۔

(حلیتہ الاولیا 1/27‘ تاریخ دمشق17/262)

متعلقہ خبریں