Daily Mashriq


پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے جڑی مہنگائی

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے جڑی مہنگائی

حکومت کے پاس اپنے اخراجات پوری کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور اس پر ٹیکس میں اضافہ فوری اور آسان نسخہ ہے جس کا استعمال اب ماہانہ بنیادوں پر کرکے ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، حکومت نے ڈیزل اور پٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح بھی تیرہ فیصد سے سترہ فیصد کردی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا ہر اضافہ مہنگائی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ اب بازار میں جس چیز کا ایک دن قبل کوئی ریٹ طے تھا تو اگلے دن وہ چیز اسی ریٹ پر نہیں ملتی بلکہ اس میں اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک جانب ڈالر کی قیمت بڑھنے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو رہی سہی کسر پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے پوری ہورہی ہے جس کے باعث عوام کی مشکلات کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ اور ملازمت پیشہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں جن کا معاوضہ بڑھایا نہیں جاتا ان حالات سے تاجروں کے منافع میں کمی کاروبار میں کساد بازاری بھی ہوتی ہے جس کے باعث کارکنوں کی تعداد میں کمی اور مزید کھپت نہ ہونے پر بیروزگاری کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نہ صرف اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کا شکار ہے بلکہ مزید حکومتی اقدامات کا بوجھ عوام کی خمیدہ کمر پر لادنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں جو اضافہ کیا ہے یہ آخری بار نہیں۔ اس صورتحال میں زیریں اور متوسط طبقے تو خط غربت سے نیچے اور بہت نیچے چلے گئے ہیں بلکہ متوسطہ طبقہ تو اب باقی ہی نہیں رہا۔ عوام جس حکومت کو تبدیلی اور اپنے مسائل کے یقینی حل کی قوی امید پر ان کے وعدوں اور دعوؤں پر اعتبار کرکے لائے تھے آج وہ سارے دعوے الٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ نجانے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بعد کا عالم کیا ہوگا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بجٹ کی آمد آمد اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کا اکٹھ غریب عوام کیلئے نہایت پریشان کن اور ناقابل برداشت ہے اس ساری صورتحال میں حکومتی بے بسی جس طرح عیاں ہے اس کے پیش نظر مہنگائی میں کمی کی تو توقع نہیں، حکومت کم ازکم اشیائے صرف کی خود ساختہ نرخوں پر فروخت کی روک تھام ہی کر سکے تو عوام اسے بھی غنیمت سمجھیں گے ۔

حکومت کا حزب اختلاف سے سخت رویہ

قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان وزیرستان کے گرفتار اراکین اسمبلی کے معاملے پر کشیدگی انتہا کو پہنچ جانا اور سینیٹ میں نو ماہ کے دوران پہلی مرتبہ حکومت کو رائے شماری میں ہی شکست نہیں بلکہ حکومت کیخلاف قرارداد مذمت کی منظوری سے سنجیدہ صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے ملکی سیاست پر اثرات پڑیں گے۔ حزب اختلاف عیدالفطر کے بعد حکومت کیخلاف احتجاج کی تیاری میں ہے جبکہ حکومت کے بعض اتحادی بھی اب شاید حکومت کی حمایت میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کریں۔ پٹرولیم مصنوعات بجلی اور مہنگائی میں اضافہ دراضافہ بھی حکومت مخالف فضا ہموار کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دے سکی تو گرم لوہے پر چوٹ لگنے کی ابتداء ہوگی اس ساری صورتحال میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے معزز جسٹس کیخلاف جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس دائر کرکے وکلاء برادری کو بھی مشتعل کر دیا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ سے متعلق معاملات بھی پیچیدہ تر صورتحال کا باعث ہیں صورتحال کا تقاضا اور مصلحت اسی میں ہے کہ حکومت حزب اختلاف سے سخت رویہ اپنانے کی غلطی نہ کرے اور حزب اختلاف کو ساتھ لیکر چلنے کی پوری کوشش کرے۔

ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی عید جیل میں گزرنی چاہئے

چاند رات کو اندھادھند فائرنگ کی خطرناک لعنت کی روک تھام کے سلسلے میں پولیس اور عمائدین کی جانب سے واک اور آگہی مہم اپنی جگہ احسن قدم ہے جس کی کامیابی اور اس لعنت کی روک تھام کا تقاضا ہے کہ ہر گھر کا سربراہ اپنے خاندان کے نوجوانوں کو اس فعل قبیح کا ارتکاب نہ کرنے کی تلقین کرے اور ضرورت پڑے تو سختی سے پیش آئے۔ ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں ممکنہ طور پر گرفتار ہونے والوں کو بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے نہ چھڑانے کا فیصلہ صرف ان کی حد تک نہیں ہونا چاہئے ارکان پارلیمنٹ بھی اگر اس لعنت کی روک تھام کے خواہاں ہیں تو ان کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ ہوائی فائرنگ کے الزام میں گرفتار عناصر کسی رورعایت کے مستحق نہیں، اس ضمن میں پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی تھانہ جات کے عملے کو دباؤں کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اعلیٰ پولیس حکام کے تعاون کے بغیر تھانوں کی پولیس کیلئے اس لعنت کیخلاف مؤثر مہم اور کارروائی مشکل امر ہوگا۔

متعلقہ خبریں