Daily Mashriq

اسلامی کانفرنس تنظیم اور موجودہ حالات

اسلامی کانفرنس تنظیم اور موجودہ حالات

او آئی سی کی ساخت اور تشکیل عالم اسلام کی بہت ہی متقی اور دوراندیش شخصیت اور حکمران شاہ فیصل شہید کی مرہون منت ہے اور اس کا پس منظر اور مقصد بہت اعلیٰ وارفع ہے کیونکہ یہ تنظیم ایک طرف عالم اسلام کے اتحاد کا مظہر اور دوسری طرف مشرقی یروشلم اور مسجد اقصیٰ کی آزادی اور حفاظت کا عہد ہے۔ آج سے پچاس برس قبل جب اسرائیل نے ایک منصوبے کے تحت بیت المقدس کے ایک حصے کو آگ لگائی تو شاہ فیصل کی روح بے چین وبے قرار ہوکر عالم اسلام کے ہنگامی دوروں پر نکل کر ان مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے ایک ہونے کا جذبہ اور ولولہ عطا کیا۔ اس وقت جو سبق اسرائیل کو دیا گیا اس کے اثرات اتنے گہرے اور دوررس تھے کہ مخالف قوتوں نے اس شخصیت کو ''خطرناک'' قرار دیا۔ 1969ء میں او آئی سی کی تشکیل ہوئی اور اس کے چار سال بعد 1973ء میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی جس میں شاہ فیصل شہید نے پٹرول کو بطور ہتھیار استعمال کیا جس کے مغرب پر معاشی لحاظ سے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے اور مقتدر طبقات نے یہ سمجھ لیا کہ یہ شخصیت صحیح معنوں میں عالم اسلام کی قیادت کا حق ادا کرے گا۔ یہی وجہ تھی کہ پٹرول کے بطور ہتھیار استعمال اور او آئی سی کی تشکیل کے بہت جلد بعد ان کو ''اپنوں'' کے ہاتھوں شہادت کے بلند مرتبے پر فائز کرایا گیا۔شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد او آئی سی نام کو تو رہا لیکن اس کا وہ زندہ کردار باقی نہ رہ سکا جس کیلئے اس کی تشکیل ہوئی تھی۔ شاہ فیصل شہید کی بھاری بھر کم شخصیت ہی کاکرشمہ تھا کہ سرد جنگ کے اثرات سے بٹے ہوئے اسلامی ملکوں کو ایک چھت کے نیچے ایک بہت اعلیٰ مقصد کے حصول کیلئے جمع کیا اور اسرائیل کے مذموم عزائم کو لگام دیا۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے باوجود او آئی سی کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکا ہے۔ 2016ء میں استنبول ترکی میں او آئی سی سربراہ کانفرنس کے بعد مئی 2019ء میں مکة المکرمہ میں موجودہ کانفرنس کا انعقاد اس لحاظ سے بہت اہمیت کاحامل ہے کہ عالم کا اہم ترین ملک سعودی عرب یمن کے حوثی قبائل کیساتھ ایک طرف یمن میں گزشتہ کئی برسوں سے عرب ممالک کے اتحاد کیساتھ برسر پیکار ہے اور دوسری طرف حوثیوں کے میزائل سے لاحق خطرات سے دوچار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پچھلے مہینے میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان جو صورتحال بنی ہے وہ عالم اسلام کیلئے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب' خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان کبھی کبھی اچھے تعلقات استوار نہ ہوسکے' تاریخی نشیب وفراز پر نظر رکھنے والے لوگ ان تلخ تعلقات کے اسباب ووجوہات بھی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں اور یہی تاریخ پس منظر اور انقلاب ایران کے بعد کے حالات اور عرب بہار کے مابعد نتائج وحالات ان دو اہم ملکوں کے درمیان پراکسی جنگوں لبنان سے نکال کر شام، یمن اور عراق تک بڑھا دیا ہے اور یہ سلسلہ، کئی عشروں سے جاری ہے، لیکن چند دن پہلے متحدہ عرب امارات کے سمندری حدود میں سعودی عرب اور امارات کے تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو جن میزائل نے نقصان پہنچایا، اس نے حالات کو اس نہج پر آپہنچایا کہ ایک طرف امریکہ کے بحری بیڑے اور B-52بمبار علاقے میں پہنچ گئے ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیر نے مکة المکرمہ میں اسلامک سربراہ کانفرنس کا انعقاد ایسے حالات میں کیا کہ ایک طرف قطر کو دعوت دی جو چند ماہ قبل خلیجی ممالک (سعودی عرب) کا معتوب تھا لیکن دوسری طرف ایران کو دعوت نہیں دی۔

ایران کے صدر روحانی نے اس موقع پر او آئی سی کے قیام کے مقاصد (فلسطین کی آزادی) پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ شاہ سلمان نے کھلے لفظوں میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے فعل کو ایران کی ایماء پر حوثیوں اور ایران کی دہشتگردی قراردیا۔ ظاہر بات ہے کہ جب حالات اتنے کشیدہ ہوں تو او آئی سی کا اجلاس تو منعقد ہوسکتا ہے لیکن مقاصدکا حصول مشکل لگتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہوتا ہے لیکن عمران خان کی قیادت میں اس دفعہ ہماری خارجہ پالیسی کسی حد تک اعتدال کے قیام میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے، پاکستان کا برملا اور بجا مؤقف ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ سخت حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے اور پاکستان ہمیشہ حرمین شریفین کی حفاظت اور سعودی عرب کی سلامتی کیلئے جان ہتھیلی پر رکھے تن من دھن کی قربانی کیلئے تیار رہتا ہے لیکن اس کیساتھ ہی ایران کیخلاف ہمسایہ برادر ملک ہونے کے سبب کسی منصوبہ میںشامل ہوگا اور نہ کسی کا ساتھ دے گا۔۔ البتہ پاکستان کسی بھی دو مسلمان ملکوںکے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہے گا۔

اسلامی سربراہ کانفرنس میں عمران خان کے نپے تلے انداز میں عالم اسلام کے تین چار اہم نکات پر متفق ہونے کی طرف توجہ دلانا بڑی کامیابی ہے، مغرب کو ناموس رسالتۖ کے حوالے سے آگاہی دینا اور اس کیلئے عالم اسلام کے اتحاد کی اہمیت اجاگر کرنا بہت اہم بات ہے۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کیلئے ایک ہونا اور دہشتگردی کو رد کرتے ہوئے اس کی صحیح تعریف مغرب کے سامنے رکھنا بھی لازمی ہے۔ آخر میں سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے عالم اسلام کی مشترکہ کوششوں پر زور دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اللہ امت مسلمہ کو اتحاد نصیب فرمائے اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان اعتماد کے رستے بحال کرے۔آمین

متعلقہ خبریں