Daily Mashriq


شادی، غیرجمہوری اتحاد

شادی، غیرجمہوری اتحاد

حضرت انسان لاکھوں کروڑوں سال گزرنے کے باوجود تجربے کرنے سے باز نہیں آیا، اس دنیا کا وجود بھی اس کی کھوج ہی کا مرہون منت ہے، نہ یہ گندم کو کھانے کی گستاخی کرتا نہ جنت سے نکالا جاتا اور نہ ہی اس دنیا میں یوں خوار ہوتا اور ستم ظریفی دیکھئے روایت پسند اتنا ہے کہ آج سے لاکھوں کروڑوں سال پہلے جس چیز کی وجہ سے خوار ہوا آج بھی اس کی بربادی وذلت کی وجہ وہی ہے یعنی کہ عورت اورگندم وآٹا جس کی وجہ سے پھر وہ گلیوں میں دردر پھر رہا ہے۔

چلئے یہاں تک تو ٹھیک کہ بھئی اب گندم اس کیلئے جز ولاینفک ہوگئی ہے مگر اس سارے حال تک پہنچانے والی اس عورت ذات سے تو کنارہ کشی اختیار کرلو کہ جنت سے نکال دینا کافی نہیں اور باربار اس پر بھروسہ کررہے ہیں۔ پھر نام تو ذرا دیکھئے ''شریک حیات''، شادی کے بعد حیات بچتی ہی کہاں ہے جس میں ان ''بی'' کو بھی شراکت داری دی جائے، ساری کی ساری خجالت بچی ہے، تمام کی تمام بے عزتی بچی ہے، مکمل کی مکمل جگ ہنسائی ہے۔ اب اس ساری متاع میں اگر خاتون شراکت کی خواہاں ہے تو آئیے آپ برابر کی شریک ٹھہریں، لیجئے ہمارے ساتھ زندگی کی دھوپ بارش میں کھڑی ہو جائیے، ہم سے لاکھ درجے وہ چھڑے اچھے ہیں کہ جو شام کو اگر بھوکے بھی سو جائیں تو بھی کوئی پرواہ نہیں لیکن ہمیں تو اپنے ساتھ اس بی کا اور درجن بھر بچوں کی فکر ہوتی ہے جو چٹکی بھر آٹے سے نہیں بھرنے والی اور یوں نہیں تو یوں سہی کہ کہیں سے چلو بھر پانی مل جائے تو ڈوب مریں کہ سب نے سمجھایا کہ ''شادی نہ کرنا یارو پچھتاؤگے ساری لائف'' مگر ہم نہ مانے کچھ نے کہا کہ ''شادی ہے لڈو موتی چور کا جو کھائے پچھتائے جو نہ کھائے پچھتائے'' تب ہماری مت ماری گئی کہ زندگی بھر کا سکون غارت کرکے نموڑی شادی کرلی، اب سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آیا اور اوپر سے مہنگائی کا عذاب جھیل رہے ہیں اوردردر کی ٹھوکریں کھائیں سو الگ۔

میاں بیوی ہر وقت ایک دوسرے سے یوں لڑتے رہتے ہیں جیسے آج کل ہمارے ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن لڑ رہے ہیں۔ بظاہر شادی شدہ جوڑا اتحاد کرکے بیٹھے ہیں دو لوگوں نہیں بلکہ دو خاندانوں کا اتحاد۔ لیکن یہ اتحاد غیرجمہوری ہے اس میں ایک پارٹی کا پلڑا ہر وقت بھاری رہتا ہے تاہم پھر بھی یہ لولی لنگڑی جمہوریت کئی دہائیوں تک چلتی رہتی ہے۔ شادی سے پہلے دفتر جانے کا اپنا ایک سٹائل تھا اپنا خوب استری کیا ہوا سوٹ، میچنگ شرٹ، میچنگ ٹائی، اھر روزانہ نہیں تو ہر دو دن تین دن بعد سوٹ بدل لیا جاتا، موسموں کے حساب سے شرٹ اور ٹائی کا رنگ منتخب کیا جاتا، ایمپورٹیڈ پرفیوم روزانہ لگاکر جاتے، ہماری چال ڈھال اور کام کو مدنظر رکھتے ہوئے مجال ہے کہ افسر ہمیں اونچی آواز میں بلائے، ایک نہیں کئی کئی نوکریاں ہماری ٹھوکروں میں ہوتی تھیں، لیکن شادی کے بعد تو گویا ایک ہی نوکری کرنی ہماری مجبوری ٹھہری، اس ایک بورنگ نوکری میں افسر کی روز روز کی جھاڑ کے تو ہم گویا عادی سے ہوگئے ہیں اور اب ایسا ہے کہ جب تک صاحب جھاڑ نہ پلا دے دن ہی نہیں گزرتا اور گھر میں بیوی ڈانٹ نہ پلائے تو کچھ بھی ہضم نہیں ہوتا۔ گویا ڈانٹ نہ ہوئی ہاضمے کا چورن ہوگیا اور اگر پیٹ زیادہ خراب ہو تو یہ چورن صبح شام بلکہ دوپہر کو بھی باقاعدہ لیا جاسکتا ہے، لیکن نہ ہی اس چورن سے اور نہ ہی کسی قسم کی جھاڑ سے ہمارے پیٹ وحالات ٹھیک ہوئے ہیں نہ ہی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم تو بیٹھے اس وقت کو کوستے ہیں کہ جب ہم نے شادی کیلئے سپنے دیکھنے شروع کئے تھے، کون کون سے خواب نہیں بنے تھے، ایک شاہانہ زندگی کے خواب لیکن وہ خواب اب خواب ہی رہ گئے بلکہ اب تو ہمارا وہ سوٹ اور میچنگ شرٹ وٹائی کا شوق بھی ماضی ہوگیا ہے، اب تو سوتے جاگتے ایک ہی بات ہے کہ بیگم کیلئے اگلے ماہ کونسی فرمائش پوری کرنی ہے اپنے لئے تھری پیس سوٹ کی خواہش تو پوری ہوئی نہیں بیوی کیلئے ہر ماہ برانڈڈ تھری پیس سوٹ خریدنا تو گویا لازم ہوگیا ہے، سردیوں کے الگ گرمیوں کیلئے الگ۔ کسی کی شادی پر اگر ہماری بیگم جارہی ہیں تو وہ الگ سوٹ ہوگا کسی کا عقیقہ ہے تو سوٹ کا نہ صرف کپڑا رنگ بلکہ سلائی کا ڈیزائن بھی الگ ہونا چاہئے۔

شادی سے پہلے اپنے سوٹوں کی سلائی اور انتخاب اس بنیاد پر ہوتا تھا کہ ہمارے پاس کونسا عہدہ ہے، اگر منیجر ہیں تو الگ سوٹ، اگر ترقی کرکے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بن گئے تو سوٹ امپورٹڈ ہو جائے گا اور سلائی ذرا قیمتی تاکہ پروقار نظر آئیں لیکن اب یہ سارے عہدے اور سارے وقار بیگم کیلئے ہوگئے ہیں۔ اگر وہ منیجر کی بیگم ہیں تو کچھ اور انداز کے سوٹ ہوں گے، جیسے ہی میاں کی ترقی ہوگئی تو سوٹ برانڈڈ ہونے کیساتھ ساتھ سلائی بھی قیمتی ہوتی جائے گی تاکہ سوٹ خود کہے کہ بھئی کس پائے کے افسر کی بیگم ہیں، شوہر چاہے لباس سے اسی دفتر کا چپراسی لگے۔ سارا دن محنت مزدوری کرکے شوہر جب فرمائشوں سے لدا گھر آتا ہے تو اس جانور کی طرح کہ جس کی لوگ توہین کرتے ہیں لیکن ہم اس کا نام اس لئے نہیں لکھ سکتے کہ کہیں وہ ہم پہ ہتک عزت کا دعویٰ نہ کردے بہرحال اس کی بھی کچھ عزت ہے لیکن شوہر کی کوئی عزت نہیں۔

متعلقہ خبریں