Daily Mashriq

آشفتہ سروں کے ذمے قرض

آشفتہ سروں کے ذمے قرض

اب کیا کیا جائے' ایک ساتھ کئی لطیفے اور واقعات یاد آرہے ہیں تو اس میں ہمارا قصور تو نہیں ہے نا' ہاں اتنا ضرور ہے کہ پہلے ان کی یاد آپ کو بھی کرائی جائے اس کے بعد اس کی وجہ تسمیہ بھی بتا دیں گے۔ آپ نے اس کنجوس مالک کا وہ تاریخی جملہ تو سنا ہوگا جو اس نے اپنے ملازم سے کہا تھا' دراصل دونوں کسی کام سے جا رہے تھے' مالک نے بھنے ہوئے چنے خرید کر اپنی بھوک مٹانے کا اہتمام کر رکھا تھا جبکہ ملازم بے چارہ بھوکا پیاسا اس کے پیچھے جانے پر مجبور حسرت سے بھنے ہوئے چنوں کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک ایک چنا منہ میں ڈالتے ہوئے مالک کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گرا تو ملازم نے جلدی سے اسے اُٹھا کر صاف کرکے منہ میں ڈال لیا' مالک نے مڑ کر اس کی یہ حرکت دیکھی تو کہا' کھاؤ' کھاؤ' ہمارے ساتھ پھروگے تو ایسی ہی عیاشیاں کروگے۔ د وسرا واقعہ یا لطیفہ اس شخص کا ہے جو ایک چڈی پہن کر بیر کی درخت پر چڑھا ہوا تھا اور بیر توڑ توڑ کر کھا رہا تھا' نیچے سے گزرنے والے کسی واقف کار نے پوچھا' بھئی کیا کر رہے ہو؟ جواب دیا دیکھتے نہیں شاہی ضیافت اڑا رہا ہوں' میرے تو بس دو ہی کام ہیں' اچھا پہننا اور اچھا کھانا' حالانکہ اس پر تو اُردو کا وہ محاورہ پوری طرح فٹ بیٹھتا تھا جسے اُردو لغات میں مؤنث کے صیغے کیساتھ لکھا گیا ہے مگر ہم اسے ضرورت کے تحت مؤنث سے مذکر میں بدلتے ہوئے اسے یوں کر دیتے ہیں کہ ننگا نہائے گا کیا اور نچوڑے گا کیا؟ اس کیساتھ وہ میراثیوں والا لطفیہ بھی یاد آرہا ہے کہ ایک شادی میں گانے بجانے کیلئے بلائے گئے میراثیوں کو مہمانوں کے تفنن طبع کیلئے کئی گھنٹے پرفارم کرنا پڑا' برات یا ولیمہ جو بھی تھا شروع ہوا۔ مہمان آتے جاتے رہے، کھانے سے لطف اندوز ہوتے رہے مگر میراثیوں کو کسی نے بھی نہیں پوچھا۔ بھوک سے بری حالت ہوئی تو آخر کو میراثی ٹھہرے' اپنی فطرت سے مجبور ہوکر دولہے کے والد سے اپنی حالت زار بتاتے ہوئے کہا کھانا طلب کرنے کے بجائے کچھ ''اور'' فرمائش کی' فرمائش کیا تھی 'یہ ضبط تحریر میں تو نہیں لائی جاسکتی البتہ یہ لطیفہ اتنا مقبول ہے کہ ہر شخص میراثیوں کی فرمائش کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اسلئے اسے ایک جانب رکھتے ہوئے اب ان لطیفوں یا واقعات کی وجہ تسمیہ جانتے ہیں اور یہ ہمارے ذہن کے نہاخانوں سے کیسے شعور کی سطح پر وارد ہوئے حالانکہ ایسے واقعات اور لطائف بندہ ایک دو بار سن یا پڑھ لے تو وہ شعور سے لاشعور اور پھر تحت الشعور میں جاکر کہیں جاگزیں ہو جاتے ہیں، تو ان کا یاد آنے کی وجہ وزیراعظم عمران خان کا وہ بیان ہے جو انہوں نے پوری قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے دیا ہے اور کہا ہے کہ تمام لوگ 30جون تک اپنے اثاثے ظاہر کردیں' 22 کروڑ میں سے صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس دیتے ہیں' اداروں کے پاس باہر اثاثوں کی ساری معلومات پڑی ہیں' وغیرہ وغیرہ۔ یوں گویا وزیراعظم کے بیان کے اندر چھپی ہوئی جو تڑی موجود ہے اس کو شاعر نے ان الفاظ میں واضح کیا ہے کہ

مے کدہ ہے یہ نہیں دیر وحرم اے واعظ

لاکھ کافر جو یہاں آئے مسلماں گئے

بیان میں پوشیدہ اس تڑی کی فکر تو اس پشتو مقولے کے مطابق وہ کرے گا جس کے بارے میں مقولے کا آدھا حصہ ہم بیان کر دیتے ہیں کہ غم بہ ئے غمژن کوی' یعنی فکر تو غم کرنے والے کو ہی ہوسکتی ہے اور یہ فکر کرنے والے وہی ہیں جن کی نشاندہی خود وزیراعظم نے ''اداروں کے پاس باہر اثاثوں کی ساری معلومات'' کے حوالے سے اشارہ کیا ہے۔ باقی ہم جیسوں کا تعلق پشتو مقولے کے بقیہ آدھے حصے کے ساتھ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا کہ فساد خلق کا ادیشہ ہے، البتہ اس کی وضاحت ضروری ہے کہ ہمارا تعلق 22کروڑ کے ہندسے میں اس طبقے سے ہے جو ''شامل باجہ'' کے زمرے میں آتے ہیں' یعنی اس مالک کا ملازم جسے زمین پر گرے ہوئے چنے کے ایک دانے کو اٹھانے پر بھی '' عیاشی'' کرنے کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں' ہمارا تعلق تو چڈی پہن کر مفت کے بیر توڑنے والے کی مانند اچھا پہننے اور اچھا کھانے کے دعوے کرنے والوں سے ہے اور ہم بھی ''مالکوں'' کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے ولیموں میں بھوکے پیاسے رہ کر بالآخر خالی پیٹ کی شکایت کرتے ہوئے اسے مطالبات پر مجبور ہونا پڑتا ہے جن کا تذکرہ بھی مشکل ہے۔ اب ہم کیا ڈکلیئر کریں حالانکہ ہم تو وہ ہیں جو قدم قدم پر ہر قسم کے ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کئے جاتے ہیں یعنی ہم پر ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی اس قدر بھرمار ہے اور ہر لمحے زندگی گزارنے کے دوران مختلف اشیاء پر ٹیکس عائد کرتے ہوئے صرف ہم یعنی عوام کالانعام ہی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے باقی ہمارے آقائے ولی نعمت ہیں جو اس ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن کر ہر سہولت کے مالک بنے بیٹھے ہیں مگر ان کے ذمے جو ٹیکس بنتا ہے اس کی ادائیگی کتنے لوگ واقعی میں کرتے ہیں؟ حالانکہ ان کے اثاثوں میں راتوں رات اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اب وزیراعظم صاحب اپنے وہ دعوے چھوڑ کر جو انتخابات سے پہلے ملکی دولت واپس لانے' بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کرنے' لوگوں کے پاکستان آکر ملازمتوں کیلئے لائن میں کھڑے ہونے کا چمتکار دکھانے کے حوالے سے کر رہے تھے' بے چارے 22کروڑ عوام کو اثاثے ڈکلیئر کرنے کا حکم دے رہے ہیں تو ہم بھی ایسے ہی لطیفوں کو یاد کرکے دل پشوری کرنے پر مجبور ہوں گے' حالانکہ

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

متعلقہ خبریں