Daily Mashriq


داور حشر بخش دے شاید

داور حشر بخش دے شاید

تین جون کو مسجد قاسم علی خان میں چاند نظر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کیا جائے گا، اس خبر کو پڑھ کر ہمیں چاند رات آنے سے پیشتر ہی چاند نظر آنے لگا اور ہم بڑے وثوق سے کہنے لگے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے چار جون کو عید ہوکر رہے گی۔ پشاور شہر کی جامع مسجد قاسم علی خان میں شہادتوں کی بنیاد پر عید یا رمضان کے چاند کے طلوع ہونے کی روایت بہت پرانی ہے ہم سب روایتوں کے اسیر ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ بہت سی روایتیں قصۂ پارینہ بن کر اپنا آپ گنوا بیٹھی ہیں، ''روزے دارو روزہ کھولو'' یہ ہے وہ جملہ جو رمضان المبارک میں مغرب کی آذان کے وقت ہماری زبان پر آجاتا جسے دہراتے ہوئے ہم اندھا دھند اپنے گھر کی جانب بھاگتے اور یوں ہماری گلی کے روزہ دار ہماری آواز سن کر روزہ افطار کرنے لگتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسجد مسجد لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے کا رواج نہ تھا۔ نہ ہی ریڈیو سے مغرب کی اذان نشر کی جاتی، اگر ریڈیو موجود تھا تو وہ بھی خال خال لوگوں کے پاس۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ہمارے ایک قریبی رشتہ دار نے اپنی جمع پونجی خرچ کرکے ریڈیو سیٹ خرید لیا تھا جس کا چرچا ہمسائیگی کے علاوہ اس کے رشتہ داروں کے ہاں گھر گھر ہونے لگا اور ریڈیو سیٹ خریدنے کی مبارک باد دینے کیلئے اپنے پرائے لوگ اس کے گھر آنے لگے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ ان دنوں ریڈیو سننے والوں کا ایک جم غفیر پشاور شہر کے چوک یادگار پر جمع ہو جاتا اور مزے لے لیکر ریڈیو کی نشریات سننے لگتا۔ ایک زمانہ وہ تھا اور ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب ریڈیو سیٹ گھروں کے علاوہ لوگوں کی جیبوں تک جا پہنچا۔ لیکن اس وقت ریڈیو سیٹ اور اس کی مقبولیت کو غیرمحسوس طریقے سے گزند پہنچنے لگی جب آواز کی دنیا کے دوست ٹیلی ویژن سکرین پر بولنے والے کی آواز کے علاوہ اس کی تصویر بھی دیکھنے لگے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب لوگ رمضان المبارک کے دوران ٹی وی سیٹ پر نہ صرف افطار اور سحری کے پروگرام دیکھنے لگے بلکہ اذان مغرب سن کر افطار اور سحری بھی کرنے لگے۔ ہر مسجد میں لاؤڈ سپیکر کی سہولت نے ریڈیو یا ٹی وی سے اذان سن کر افطار وسحر کرنے کی روایت کر دی اور یوں مساجد میں لگے لاؤڈ سپیکر پر نماز پنجگانہ کیلئے اذان کے علاوہ اعلان گمشدگی انتقال پرملال کی خبر نشر کرنے کے علاوہ اہلیان علاقہ تک کسی فوری خبر یا بریکنگ نیوز کیلئے بھی استعمال ہونے لگے۔ جب ہم روزہ دارو روزہ کھولو کہتے ہوئے گلیوں میں دوڑا کرتے تھے ان دنوں نہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی سہولت عام تھی، نہ ٹیلی ویژن موجود تھا، نہ ریڈیو سیٹ اور اس کا ریڈیائی نظام موجود تھا۔ گلی محلہ والے افطاری کا دسترخوان سجائے ہماری آواز سننے کے انتظار میں ہوتے اور ہم مغرب سے بہت پہلے درجنوں کی تعداد میں اپنے ہم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے ہمراہ مساجد کے دروازے کے پاس یا مساجد کی ڈیوڑھیوں میں جمع ہو جاتے۔ اس دوران ہمیں اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ہمراہ کھیلنے کودنے کا موقع بھی ہاتھ آجاتا اور جیسے ہی ہمیں اس بات کا علم ہوجاتا کہ ہمارے کھلنڈرے ساتھیوں میں سے کسی نے روزہ نہیں رکھا تو ہم اسے

خوجہ خور خدا کا چور

ہاتھ میں لکڑی بازار میں دوڑ

کہہ کر اسے روزہ نہ رکھنے کا طعنہ دیتے یا اس کا ا مذاق اڑاتے۔ ہم بچے بالے اذان مغرب کی اطلاع حاصل کرنے کی غرض سے نہ صرف غول درغول مساجد کے باہر جمع ہوکر ہلا گلا یا ہنگامہ آرائی کرتے بلکہ بڑے بزرگ تراویح پڑھنے مساجد جاتے تب بھی ہمیں کھیلنے کودنے بالک ٹپے گانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا اچھا خاصا موقع ہاتھ آجاتا اور اس رات تو ہم سے سرزد ہونے والی یہ بدعت اپنے عروج پر پہنچ جاتی جب محلہ کی مسجد میں جشن نزول قرآن منایا جا رہا ہوتا۔ محلے کے سارے آوارہ بچے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھاکر ''حقا لا الہ۔ الاللہ'' کے نعرے لگاتے جلوس نکالتے۔ وہ دکانوں کے تھڑوں پر ڈنڈے برساتے ایسے میں ان کا سامنا کرنے کیلئے کسی دوسرے محلہ کی مسجد کی ڈنڈا بردار ٹولی آجاتی۔ زبردست ٹولی والے کمزور ٹولی والوں کو ڈنڈے مارمار کر بھاگ جانے پر مجبور کردیتے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ 1955 کے لگ بھگ نکلنے والے اوباش لڑکوں کی ٹولیوں کے ان جلوسوں میں ایسے نعرے بھی دہرائے جاتے جو پارٹیشن کے دوران ایجاد ہوئے تھے، ان نعروں میں مہاتما گاندھی کیخلاف گندی اور ننگی گالیوں پر مبنی زہر اگلا جاتا، مثلاً ایک روپیہ تیل میں، گاندھی بیٹا جیل میں یا ایک روپیہ چاندی کا، دیکھو بوتھا گاندھی کا، بظاہر تو ان نعروں کا رمضان المبارک کے دوران نکلنے والے آوارہ یا اوباش لڑکوں کے جلوس سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا لیکن ایک روایت تھی جو 1947سے سینہ بسینہ چل کر ہمارے عہد کے کھلنڈرے پن تک پہنچی تھی۔ یہ اور اس قسم کی بہت سی روایتیں دم توڑ کر اپنی یادیں چھوڑ چکی ہیں لیکں پشاور شہر کی جامع مسجد قاسم علی خان میں چاند نظر آنے کے اعلان کی روایت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی کے اس دور میں بھی زندہ ہے جس کی صحت کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کسی قسم کا کوئی گزند نہ پہنچا سکی اور لگتا ہے کہ نہ کبھی پہنچا سکے گی، اس لئے اس سے کسی قسم کی کسی بھی روایت سے کسی قسم کی چھیڑ نہیں کرنی چاہئے، ورنہ حبیب جالب جیسے انقلابی شاعر کی طرح آپ بھی کہہ اُٹھیں گے کہ

داور حشر بخش دے شاید

ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں

متعلقہ خبریں