Daily Mashriq

اشرف غنی کی طالبان کو ایک اور پیشکش

اشرف غنی کی طالبان کو ایک اور پیشکش

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کیساتھ امن مذاکرات کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے بالآخر طالبان کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اشرف غنی نے کابل میں ایک علاقائی کانفرنس کے دوران امن مذاکرات کا طریق کار بتایا جو ان کے بقول ملک میں امن لائے گا۔ انہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا جس کے بعد طالبان ایک سیاسی جماعت بن کر انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اس پیشکش کے جواب میں عسکریت پسندوں کو افغانستان کی حکومت اور آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ نکتہ ماضی میں امن مذاکرات کی کوششوں کا لازمی جزو رہا ہے۔ طالبان حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ان پر دوست ممالک کا دباؤ ہے کہ وہ امن مذاکرات کی پیشکش کو قبول کریں۔ امر واقع یہ ہے کہ افغان صدر اشرف غنی طالبان کو مذاکرات کی پیشکش تو کرتے رہتے ہیں، جون 2017ء میں بھی انہوں نے طالبان کو مذاکرات کرنے یا سخت نتائج کیلئے تیار رہنے کی دھمکی دی تھی مگر بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ دھمکی دینے والے کے مقابلے میں دھمکی سننے والے مضبوط تھے۔ حال ہی میں 70 فیصد افغان علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہونے کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ایسے میں اس پیشکش اور مذاکرات کی وقعت واہمیت کیا ہوگی اس بارے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ دوسری طرف طالبان کے امریکہ سے براہ راست معاملت کی خواہش کے پس پردہ بھی شاید یہی امر کارفرما ہو جبکہ افغان صدر کی پیشکش غیر مشروط بھی نہیں۔ جن شرائط پر افغان صدر مذاکرات کے خواہاں ہیں یہ شرائط اور پیشکش طالبان قبل ازیں باربار مسترد کرتے آئے ہیں۔ افغان طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنے کا اعلان اور ان کو کابل میں دفتر کھولنے کی پیشکش چونکہ امریکی چھتری تلے قائم حکومت کی طرف سے کی گئی ہے اسلئے اس پیشکش میں طالبان شاید زیادہ دلچسپی نہ لیں۔ ایسا کرنا اسلئے بھی فطری امر ہوگا کہ طالبان افغان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتے وہ اگر افغان حکومت کو تسلیم کر رہے ہوتے تو مذاکرات ہونے میں بھلا کیا امر مانع تھا۔ طالبان براہ راست امریکہ سے مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں مگر اس کے بھی خدوخال واضح نہیں کہ افغان حکومت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مذاکرات ممکن کیسے ہونگے اور ان کے اثرات وحیثیت کیا ہوگی۔ ہمارے تئیں تمام افغان فریقوں کے درمیان ہی بالآخر معاملات ہونی ہیں خواہ وہ طالبان ہوں یا افغان حکومت یا دوسرے افغان گروپ جب تک یہ فریق کسی جگہ مل بیٹھنے پر متفق نہیں ہوتے اس وقت تک معاملات کا بھی آگے بڑھنا ممکن نہ ہوگا۔ افغان طالبان قطر میں سیاسی دفتر کھولنے کا تجربہ کر چکے ہیں مگر یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔ افغانستان میں طالبان کے سیاسی دفتر کھولنے کا مطلب یہی ہوگا کہ اب وہ طاقت کے بل بوتے کی بجائے پرامن اور سیاسی طریقے سے معاملات کا حل نکالنے کی سوچ اختیار کر چکے ہیں۔ گوکہ یہی موزوں راستہ ضرور ہے لیکن افغان حکومت اور امریکہ طالبان کو ایسی کیا یقین دہانیاں اور ٹھوس پیشکش کرینگے کہ شمشیر زن طالبان بزور قوت اپنا فیصلہ آپ کرنے کا طریقہ کار چھوڑ کر تخت کابل کو بزور قوت حاصل کرنے اور افغان حکومت کو مفلوج کرکے اپنی امارت قائم کرنے کی سعی سے باز آجائیں۔ اس ضمن میں جہاں تک پاکستان کے کردار وتعاون کا سوال ہے تو پاکستان افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم ضرور کرے گا، تاہم پاکستان کا طالبان کی قیادت پر اثر ورسوخ کم ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کا طالبان پر اثر ورسوخ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے لیکن پاکستان اب طالبان پر پریشر ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طالبان کا ملٹری کمیشن ہلمند میں منتقل ہو چکا ہے اور اگر مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے تشدد کی سطح کو نیچے لانا ہے تو ایسا طالبان کے ملٹری کمیشن کے سربراہ ہی کر سکتے ہیں جو پاکستان میں نہیں بلکہ ہلمند میں موجود ہیں۔ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ افغانستان میں صرف طالبان ہی نہیں بلکہ تقریباً 20کے قریب گروپ موجود ہیں اور افغان مسئلے کا پس منظر بھی بڑا پیچیدہ ہے۔ خطے میں اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو اس خطے میں دہشتگردی کی ابتداء خود امریکی پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ پہلے سوویت یونین کیخلاف امریکہ نے پراکسی وار شروع کیا اور یہاں افغان مسلح گروپوں کو منظم کرکے جہادی گروپوں میں تبدیل کیا جبکہ ان کی مدد کیلئے عرب دنیا اور سابق سوویت ریاستوں ہی سے افراد کو مسلح کرکے میدان میں اُتارا اور جب امریکی دولت اور اسلحے کے بل پر ان ’’جہادیوں‘‘ نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھیر کر اسے سابقہ ریاستوں میں تقسیم کرکے امریکہ کے مقصد کی تکمیل کی یعنی ویت نام میں سوویت یونین کے ہاتھوں عبرتناک امریکی شکست کا بدلہ لے لیا تو یکایک امریکہ نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیرتے ہوئے ان جہادی گروپوں کو بے یار ومددگار چھوڑ کر افغانستان سے کوچ کیا۔ اس کے نتیجے میں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور مختلف جماعتوں اور گروپوں کی باہمی رقابت کے بعد طالبان حکومت برسر اقتدار آئی۔ اس دوران نائن الیون کے سانحے نے جنم لیا تو امریکہ نے اُسامہ بن لادن کی محولہ سانحے میں تلویث کے الزام کی بنیاد پر افغانستان پر یلغار کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور طالبان حکومت کو بے دخل کیا تو ردعمل کے طور پر امریکہ کیخلاف عمومی جہاد کا اعلان کر دیا گیا۔ تب سے اب تک امریکہ اور نیٹو افواج افغان سرزمین پر عملی طور پر قابض ہیں اور کابل میں ایک کے بعد ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جا رہی ہے، اس کے باوجود طالبان کی قوت کو کمزور نہیں کیا جا سکا اور امریکی افواج کی علاقے میں موجودگی کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ ان تمام حالات کے جائزے کے بعد افغان مسئلے کے حل کی موزوں صورت یہی دکھائی دیتی ہے کہ امریکہ افغانستان سے چلا جائے اور افغانستان میں ایسی نمائندہ حکومت قائم کی جائے جو خطے کے ممالک سمیت تمام فریقوں کیلئے قابل قبول ہو۔ اس کے بعد ثالثی اور مذاکرات ہوں تو ان کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے بصورت دیگر اس بیل کا منڈھے چڑھنا مشکل ہی ہوگا۔

اداریہ