Daily Mashriq


عوام فریاد کریں تو کس سے؟

عوام فریاد کریں تو کس سے؟

پیٹرولیم مصنوعات میں ایک ماہ بعد مزید اضافے سے اس امر کی عکاسی ہوتی ہے کہ مختلف محکموں کے پالیسی سازوں اور خود حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس سے مہنگائی کا جو نیا طوفان آئے گا اس سے عوام الناس کی کیا درگت بنے گی۔ وزارت پیٹرولیم کے ذمہ داران کو عوام پر پیٹرولیم بم گرانے کی بجائے حکومت کے خالص منافع جو وہ ڈیزل پر26 اور پٹرول پر21روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے میں کمی کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ نزلہ اِدھر اُدھر سے گھوم پھر کر بالآخر عوام پر ہی آگرتا ہے۔ پٹرول پمپ مالکان ہائی ویز پر اپنے فاصلوں کے گڈز اخراجات بھی صارفین سے وصول کرتے ہیں۔ حکومت، پیٹرولیم کمپنیاں اور پٹرول پمپ مالکان تینوں میں سے کوئی بھی خالص منافع میں سے ایک پیسے کی بھی صارفین کیلئے قربانی نہیں دیتا۔ دوسری طرف یہ تلخ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ ہی جہاں جہاں مشینری کا استعمال ہوتا ہے وہاں عوضانہ کی رقم میں اضافہ ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے علاوہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عام آدمی کی گردن دبوچتا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کی بنا پر پیدا شدہ مسائل اور فی کس آمدنی میں کمی کی وجہ سے شہریوں کی حالت پہلے ہی ناگفتہ بہ ہے۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ حکومت مہنگائی وبیروزگاری میں کمی کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرتی، پبلک سیکٹر میں حکومت کی مقررہ تنخواہ کی عام حد پر عمل کو یقینی بناتی لیکن ماضی کی طرح اب بھی کسی کو عام آدمی کے مسائل سے دلچسپی نہیں کہ انتہا کو چھوتی غربت اور مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری کس کے دروازے پر فریاد لے کر جائیں۔

کھلی کچہری کے تکلف کی ضرورت کیا تھی؟

حیات آباد میں کھلی کچہری کے انعقاد کو کافی سمجھنے کی روایت پڑتی جا رہی ہے مگر کھلی کچہری کے انعقاد کے بعد کھلی آنکھوں سے صورتحال دیکھنے کی کوئی روایت نہیں۔ حکام کی اگر آنکھیں کھلی ہوتیں تو کھلی کچہری لگا کر، عوام کو بولنے کا موقع دے کر پھر چپ سادھ کر ان کی توہین کی ضرورت ہی نہ پڑتی مگر اس کے باوجود یہ تکلف گوارا کر لیا جاتا ہے۔ کیا متعلقہ حکام کو عوام کے مسائل معلوم نہیں اس طرح کی نمائش کا انعقاد عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے سوا کچھ نہیں۔ حیات آباد میں صفائی کا مسئلہ ان کھلی کچہریوں کے باوجود جوں کا توں ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق عملہ صفائی کبھی کبھار ہی نظر آتا ہے۔ حیات آباد کی صفائی کا انتظام پی ڈی اے کے حوالے کرنے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ آنا اس امر پر دال ہے کہ صفائی کے انتظامات کو بہتر اور مربوط بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حیات آباد میں کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا خاصا معقول انتظام تو موجود ہے لیکن اس کے باوجود سڑکوں اور گلیوں کی صفائی پر توجہ نہ دینے کے باعث گلیوں میں گرد اُڑتی ہے تو سڑکوں کے کنارے مٹی کی موٹی تہہ جم چکی ہے جو کھلی کچہری لگانے والوں کے علاوہ سب کو نظر آتا ہے۔ سڑکو ں پر شاپنگ بیگز اور خاص طور پر مختلف قسم کے ریپرزکا جمع ہونا بڑا مسئلہ ہے۔ علاوہ ازیں سڑکوں کے کنارے لکیروں کی صورت میں مٹی کا جمع ہونا اور گاڑیوں کے گزرنے پر دھول اُڑنا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ بعض گھروں میں اندرونی نکاس کا نظام ناقص ہونے کی بناء پر کپڑے دھونے اور گیراج میں گاڑیوں کی دھلائی یا باہر کا نلکا کھلا رہنے کی بناء پر سڑکو ں پر بننے والے کیچڑ اور اس کا پھیلاؤ ہے۔ نکاسی آب کا عملہ اگر فالتو پانی سے سڑکوں اور گلیوں میں کیچڑ کا سبب بننے والے گھروں کا چالان کرے تو اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ صفائی کی ذمہ دار کمپنی کے منتظمین اگر کبھی کبھار دفتروں سے نکل کر حیات آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت گوارا کریں اور ڈی جی پی ڈی اے بھی اگر اس پر توجہ دے تو مسئلہ اتنا گمبھیر نہیں کہ اس پر قابو پایا نہ جا سکے۔

متعلقہ خبریں