اشرف غنی کی تاریخی پیشکش

اشرف غنی کی تاریخی پیشکش

افغانستان کے مسئلے کے حل کے بارے میں پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے طے ہو سکتا ہے۔ اس کیلئے پاکستان نے کوشش بھی کی جسے افغانستان نے سبوتاژ کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکہ نے افغانستان سے بتدریج فوجیں نکالنے کا مؤقف ترک کر کے طالبان کیخلاف فضائی کارروائی میں شدت کا راستہ اختیار کیا۔ بعض اخبارات کے مطابق صرف گزشتہ سال کے دوران دس ہزار افغان جاں بحق ہوئے لیکن طالبان کی قوت کمزور نہ ہوئی بلکہ ان کے خودکش حملوں میں حال ہی میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ ماہ کے دوران کابل میں خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 150سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ افغانستان پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا رہا اور امریکہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا رہا۔ اس الزام، تقاضے اور انکار کی فضا میں گزشتہ چند روز کے دوران خطے کی صورتحال میں پرامن تبدیلی کے جو آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے، افغانستان کے صدر اشرف غنی کے گزشتہ روز تعاون برائے امن وسلامتی کے کابل پراسیس کے افتتاحی اجلاس سے تاریخی خطاب نے ان آثار کو اور بھی نمایاں کر دیا ہے۔ اپنے سابقہ مؤقف کے برعکس انہوں نے ماضی کو بھلا کر نیا باب کھولنے کاعندیہ دیا ہے۔ اشرف غنی کے اعلان کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا جانا چاہئے کہ انہوں نے نہ صرف طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ وہ طالبان کو ایک جائز سیاسی گروپ تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ اس سے پہلے وہ ہمیشہ طالبان کو باغی اور دہشتگرد قرار دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے آئین پر نظرثانی کیلئے بھی تیار ہیں جو طالبان کا اہم مطالبہ ہے۔ اشرف غنی نے قیدیوں کی رہائی اور نئے انتخابات کے آپشن کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی پیشکش غیرمشروط طور پر کر رہے ہیں مگر صرف اتنا کہ طالبان قانون کی پاسداری کریں۔
طالبان بھی بین الافغان مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں لیکن اس کیلئے ان کی شرط یہ رہی ہے کہ پہلے غیر ملکی افواج افغانستان سے چلی جائیں اس کے بعد افغانستان کی حکومت سے مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن حال ہی میں طالبان نے امریکہ کو دوطرفہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں افغانستان، پاکستان کی حکومتوں کا دخل نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ کی طرف سے اس دعوت کا مثبت جواب نہیں آیا لیکن اشرف غنی نے جو پیشکش کی ہے وہ طالبان کیلئے دلچسپی کی حامل ہونی چاہئے۔ اشرف غنی نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ وہ طالبان کو ایک جائز سیاسی گروپ تسلیم کرنے کیساتھ ساتھ انہیں کابل میں اپنا دفتر کھولنے کی بھی اجازت دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات کابل ہی میںہونے چاہئیں۔ اس پراسیس میں پاکستان سمیت خطے کے پچیس ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔ طالبان کا فوری ردِعمل نہیں آیا تاہم اشرف غنی کی پیشکش طالبان کیلئے قابل قبول ہونی چاہئے کہ جائز سیاسی گروپ کی حیثیت اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا اعلان ہے کہ طالبان افغانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اس لحاظ سے طالبان کیلئے یہ پیشکش قابل قبول ہونی چاہئے لیکن ان کیلئے اس کا لٹمس ٹیسٹ یہ ہوگا کہ اشرف غنی کی حکومت نہ صرف قیدیوں کو رہا کرے بلکہ طالبان کے ان عناصر پر پابندیوں کے خاتمے کیلئے واضح اور کامیاب کوششیں کرے جنہیں بین الاقوامی اداروں اور امریکہ نے انتہائی مطلوب یا ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے یعنی جب اشرف غنی کی حکومت طالبان کو جائز سیاسی گروپ کی حیثیت دیتی ہے تو دیگر ادارے اور حکومتیں بھی طالبان کو جائز سیاسی گروپ تسلیم کریں اور ان سے دہشتگرد اور باغی کالیبل ہٹائیں۔ اشرف غنی کے اس تاریخی اعلان کو امریکہ کی رضامندی سے خالی نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم اشرف غنی کی حکومت کو اس اعلان کے مابعد یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ طالبان کی جدوجہد کو جائز سیاسی جدوجہد سمجھتی ہے اور طالبان کو واقعی ایک جائز سیاسی گروپ گردانتی ہے۔ طالبان کیلئے اس پیشکش کے قابل قبول ہونے کیلئے اشرف غنی حکومت کیساتھ ساتھ امریکہ کی طرف سے بھی ایسے عملی اقدامات ضروری ہونگے جس سے یہ بات سامنے آ جائے کہ امریکہ بھی طالبان کو ایک جائز سیاسی گروپ کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے اور بین الاقوامی اداروں نے طالبان کے جن عناصر کو بلیک لسٹ کیا ہوا ہے ان کے نام اس فہرست سے خارج کئے جائیں۔ اگر ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تو امکان غالب ہے کہ طالبان امن مذاکرات کی اس پیشکش کو حقیقی اور جائز سمجھتے ہوئے اسے قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ اشرف غنی کا اصرار ہے کہ یہ مذاکرات کابل ہی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے یہ بہتر ہوگا کہ مذاکرات کا مقام طالبان کیساتھ قبل از مذاکرات سفارتی رابطوں کے ذریعے باہمی رضامندی سے طے کیا جائے۔ جہاں تک اشرف غنی کی نئے انتخابات کروانے پر آمادگی کی بات ہے، یہ خوشگوار اعلان ہے تاہم اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے امن کی اس پیشکش پر طالبان کا اعتماد حاصل کیا جانا ضروری ہے۔ طالبان کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، یہ ان کے ردِعمل سے معلوم ہو سکے گا تاہم افغانستان میں17سالہ بدامنی اور قتال کے باوجود امریکہ کی افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکامی اور افغانستان میں افغانوں کے ہاتھوں افغانوں کے قتال کے باعث اب اس جنگ زدہ ملک میں قیام امن کیلئے آواز مضبوط ہو چکی ہے۔ افغانستان کی حکومت کے زیرِ نگیں علاقے میں بھی اور جو علاقے طالبان کی عملداری میںشامل ہیں ان میں بھی ایسے صائب الرائے عناصر کی تعداد کافی ہے جو افغانستان کی وحدت برقرار رکھتے ہوئے امن کے خواہاں ہیں۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ اشرف غنی کی پیشکش کے مطابق نئے انتخابات اور آئین پر نظرثانی کے ذریعے ایک مستحکم اور پُرامن افغانستان کیلئے بنیاد تلاش کر لی جائے گی۔

اداریہ