Daily Mashriq


عالمی یوم جنگلی حیات

عالمی یوم جنگلی حیات

گزشتہ کالم میں ہم نے فصل بہار کی شجرکاری پر بات کرتے ہوئے جنگلات کی اہمیت اور افادیت کو اُجاگر کیا۔ آج ہم جنگلی حیات پر بات کرنا چاہتے ہیں کہ کل 3مارچ کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں جنگلی حیات کا دن منایا جارہا ہے۔ ہم نے شجرکاری مہم پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے کیونکہ سایہ دار درخت جہاں تھکے ماندے اور گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کو ٹھنڈی چھاؤں یا سایہ دار ماحول مہیا کر تے ہیں، وہاں انسانی اور جنگلی حیات کو موسمی پھل کے علاوہ صحت افزا گیسیں، سبزہ ہریالی، پھول اور پرمنظر ماحول اور بہت کچھ تحفہ کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ درخت یا پودے بذات خود زندگی کا پیکر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بیج یا تخم سے پھوٹ کر اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ سالہا سال کا عرصہ لگتا ہے کسی پودے کے تن آور درخت بننے میں، بے شمار درختوں کے جھنڈ مل کر جنگل بن جاتے ہیں جو جنگلی حیات کے پنپنے کیلئے ایسا سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں جنگلی جانور کھیلتے کودتے آزادی کے نغمے الاپتے زندگی کے ماہ شب گزارنے لگتے ہیں۔ گھنے جنگل، جنگلی حیات کیلئے بہترین پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں جہاں سے نکل کر یہ کہیں اور جانا پسند نہیں کرتے۔ کہتے ہیں4ارب سال پرانی ہے یہ زمین، یہاں کے جنگلوں میں پروان چڑھنے والی جنگلی حیات کی ایسی ایسی قسمیں تھیں جن کے نام ونشان تو باقی نہیں رہے، اس ضمن میں ہم ڈائنوسارس کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔ ڈائنوسارس جیسی جنگلی حیات میں چرندوں کی بھی بہت سی قسمیں تھیں اور ان میں فضا میں اڑنے والے ڈائنوسارس بھی موجود تھے جو صدیوں پہلے نابود ہو چکے تھے۔ کہتے ہیں یہ دنیا اور اس پر بسنے والے جانور پانچ بار نابودیوں کا شکار ہوئے اور خدشہ ہے کہیں چھٹی بار بھی ایسا نہ ہوجائے۔ اگر اس بار ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار انسان خود ہوگا کیونکہ وہی باعث بن رہا ہے گلوبل وارمنگ اور نامہربان موسموں کا۔ ان حالات کے پیش نظر مجھے شاعر مشرق کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آج کے انسان کو پکار پکار کر کہنا ہے کہ خاکم بدہن

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا

اس وقت جنگلی حیات میں ہاتھی کو نہایت قدیم جانور متصور کیا جا رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ قدیم جانور کا تعلق آبی حیات سے تھا جن میں شارک جیسی دیوقامت مچھلیاں شامل تھیں۔ کرہ ارض پر ہاتھی نامی قوی الحبثہ جانور کا 5.5 کروڑ سالہ ڈھانچہ دریافت ہوا ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ گوریلا 1کروڑ سال پہلے بھی کرہ ارض پر موجود تھا۔ چیتا یا ٹائیگر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اس کی قدامت 20 لاکھ سال ہے۔ پانڈا بھی 20لاکھ سال قدیم ہیں۔ زمین پر موجود لمبا ترین جانور زرافہ 15 لاکھ سال پہلے بھی پایا جاتا تھا۔ انسان کیساتھ دوستی نبھانے والا وفادار جانور کتا31 ہزار 7سو سال قدیم بتایا جاتا ہے۔ جنگلوں میں بسنے والے یہ جانور جنگلوں کی خوبصورتی کا باعث ہیں۔ درختوں کی شاخوں پر جھولتے بندروں کی نسلیں۔ جان کی امان چاہتے نازک بدن ہرن ہوں یا بارہ سنگے یا اپنے سے کمزور جانوروں کا شکار کرتے بھیڑئیے، شیر، شیرنیاں یا مردار خور گدھ اور ان جیسے بہت سے جنگلی جانور جن کے دم قدم سے جنگل میں منگل سا سماں قائم رہتا ہے۔ جب تک جنگلی جانوروں کی تصویریں یا ویڈیوز عام نہیں ہوئی تھیں، جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا کے مصداق شہروں میں بسنے والے لوگ جنگلی حیات کے متعلق بہت کم جانتے تھے یا سرے سے جانتے ہی نہیں تھے۔ اسلئے ان کے اس تجسس کو ختم کرنے کی غرض سے حضرت انسان نے انہیں اپنے ہاں مہمان بنانے اور لوگوں سے متعارف کرانے کی ٹھانی۔ شروع شروع میں ایسا کرنے کی غرض سے اس نے اپنے ہاں پرندوں کو رکھنے پر اکتفا کیا چونکہ اُڑنے والے پرندوں کو چڑیا بھی کہا جاتا تھا اسلئے انہوں نے ایسی جگہ کو چڑیا گھر کا نام دیا جہاں وہ پرندوں کی حفاظت اور ان کی نمائش کرنے کیلئے انہیں پنجروں میں بند کرکے رکھنے لگے لیکن بعد میں اس نے اپنے چڑیا گھروں میں پرندوں کے علاوہ چرندے اور درندے بھی رکھنا شروع کردئیے اور یوں انسان کے قائم کردہ چڑیا گھر کوZoological Park یا صرفZoo کہہ کر پکارا جانے لگا۔ اس موضوع پر تلاش بسیار کے باوجود سردست ہمارے ہاتھ کچھ نہ آیا سوائے سنی سنائی باتوں کے جو ہم نے آپ تک پہنچا دیں تاکہ اس موضوع پر تلاش وجستجو کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ آج کل پشاور میں قائم ہونیوالا چڑیا گھر یہاں کے عوام کیلئے پی ٹی آئی حکومت کا بہت بڑا تحفہ سمجھا جا رہا ہے اور کل تک تفریحی مقامات کے فقدان کا شکوہ کرنیوالے لوگ اس چڑیا گھر کے جانوروں کا درشن کرنے کیلئے کشاں کشاں چلے آرہے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ چڑیا گھر عوام کو نہ صرف جنگلی حیات سے متعارف کرانے کا بہت بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کا مقصد جنگلی حیات کی دیکھ بھال اور اس کا تحفظ بھی ہے۔ 47کروڑ روپے کی لاگت سے 29ایکڑ کے رقبے میں پھیلا پشاور کا یہ چڑیا گھر عالمی یوم جنگلی حیات منانے والوں کی بھرپور توجہ کا مرکز ہونا چاہئے۔ دوسری طرف ہماری اطلاع کے مطابق لاہور کے چڑیا گھر کے بیشتر جانور اپنی اننگ کھیل کر چل بسے، دیکھئے پشاور کے چڑیا گھر کا کیا انجام ہوکہ یہاں آنیوالے تماشائی ’شیر‘ کو مسلم لیگ ن کا شیر سمجھ کر سنگسار کرنے لگے ہیں اور بندر کو نسوار ڈال کر اپنا ہم مشرب بنانے لگے۔ اللہ کرے کہ جھوٹ ہو یہ بات۔ جانے کس کا شعر ہے

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

متعلقہ خبریں