برادر اسلامی ممالک

برادر اسلامی ممالک

مایوسی کے اس دور میں اگر آپ کو مخلص دوست مل جائیں تو سمجھیں کہ آپ کی آدھی پریشانیاں ختم ہوگئی ہیں، آپ حالات کا مقابلہ کرنے میں تنہا نہیں بلکہ آپ کے مخلص دوست ہر مشکل میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیں گے۔ اس نعمت کا اندازہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب انسان کسی مشکل میں گھر جائے اور اس کے سارے مفاداتی دوست اس کو تنہا چھوڑ کر اپنی دنیا میں مگن ہو جائیں، اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کیا امریکہ ویورپ نے ہمارے ساتھ ایسے نہیں کیا ہے، کیا ہمیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کر ہم پر طنز کے نشتر نہیں برسائے گئے، کیا ہمیں کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا؟ لیکن اس خودغرض دور میں بھی چند ایک ممالک ایسے ہیں جن کی دوستی اور دوطرفہ تعلقات پر بلاشبہ فکر کیا جا سکتا ہے، حالات جیسے بھی ہوں ان ممالک کا پاکستان پر اعتماد اور باہمی رشتہ کمزور نہیں ہوا، چین، ترکی، سعودی عرب اور آذربائیجان یہ ایسے نام ہیں کہ جن کی دوستی پر پاکستانی فخر کرتے ہیں، معدنی دولت سے مالامال کیسپئن کے ساحل پر واقع آذربائیجان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے تنازعہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی ہمیشہ اور کھلم کھلا حمایت کی ہے۔ اسلامی کانفرنس کے تعاون کی تنظیم نے مسئلہ کشمیر کیلئے پانچ ممالک پر مشتمل رابطہ گروپ تشکیل دے رکھا ہے۔ آذربائیجان اس کا روز اول سے رکن چلا آرہا ہے اور ہر مقام پر پاکستان کو سپورٹ کرتا آرہا ہے۔ آذربائیجان کے شہریوں کی اکثریت خواندہ افراد پر مشتمل ہے، یہاں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں آذربائیجان کے دو برادر ممالک ہیں، ایک کا نام ترکی اور دوسرا پاکستان ہے۔ عام لوگ آذربائیجانی بولتے ہیں جو قومی زبان کا درجہ رکھتی ہے، آذربائیجانی اور ترکی زبان کا رسم الخط یکساں ہے۔ یہاں روسی زبان اور ترکی بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے، آذربائیجان میں واقع آرمینیا جو عیسائی آبادی کا ملک ہے آذربائیجان سے اس کا نکورنا کاراباخ کا تنازع چل رہا ہے جہاں آرمینیا کی افواج نے آذربائیجانی قوم کی نسل کشی کی تھی، کشمیر کی طرح نکورنا کاراباخ کے تنازعے کو حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کر رکھی ہے جس کا کئی عشرے گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں نکالا جا سکا ہے۔ آذربائیجانی ایک طویل مدت سے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کی جانیوالی نسل کشیوں کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔ قتلِ عام اور بڑے پیمانے پر جبری انخلاء کے نتیجے میں آج جدید آرمینیا میں ایک بھی آذربائیجانی موجود نہیں ہے حالانکہ موجودہ آرمینیائی اکثریتی آبادی آذربائیجانیوں پر مشتمل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے آرمینیا سے سفارتی تعلقات تک قائم نہیں رکھے۔ ایک عرصہ سے آذربائیجان کے لوگوں کی نسل کشی، سفاکی اور ظلم وبربریت کا آرمینیائی مزاج پوری انسانیت کیخلاف جرم ہے۔ تمام بین الاقوامی قوانین اور قواعد نسل پرستی اور نسل کشی کو قابل نفرت گردانتے ہیں۔ جنیوا کنونشن جنگی قیدیوں سے بدسلوکی کی ممانعت کرتا ہے جبکہ عام شہریوں کو تو دوران جنگ بھی شہری حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ آرمینیا نے بے گناہ شہریوں کی نسل کشی کا عمل اسلئے دیدہ دلیری سے کیا کیونکہ اس کو مغربی ممالک اور خاص طور پر روس کی حمایت حاصل تھی۔ روس نے آرمینیا کو اسلحے کے علاوہ جنگی مقاصد کیلئے فوجی دستے بھی فراہم کئے جو تاحال جاری ہے۔ گزشتہ دنوں میڈیا پر یہ باتیں پھیلا دی گئیں کہ نگورنو کاراباخ پر قبضہ مستحکم کرنے کیلئے آرمینیا نے جو ریفرنڈم کرائے ہیں، پاکستان نے ریفرنڈم کیلئے مبصرین بھیجے ہیں، صاف ظاہر ہے یہ خبر آذربائیجان کیلئے ایسے ہی تکلیف دہ تھی جیسے کوئی یہ کہے کہ جموں وکشمیر میں بھارت کے زیر نگرانی انتخابا ت کیلئے پاکستان نے مبصرین بھیجے ہیں، سو پاکستان نے بروقت اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، پاکستان نگورنو کاراباخ تنازعے کے حوالے سے آذربائیجان کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتا ہے اور آرمینیا کے مقابلے میں آذربائیجان کو ہی سپورٹ کرتا رہے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ آرمینیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقبوضہ آذری سرزمین آذربائیجان کے حوالے کرے۔ اس کے علاوہ آرمینیا مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوج کو واپس بلائے۔ عالمی منظر پر تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان میں پاکستان سے قریبی مراسم رکھنے والے ممالک جو ماضی میں کبھی قریب نہیں رہے تھے اب پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آذربائیجان تیل اور گیس کے ذخائر سے مالامال ملک ہے جبکہ اس کی اپنی آبادی ایک کروڑ سے بھی کم ہے، خوش کن بات یہ ہے کہ آذربائیجان کے عوام اور حکومتی زعماء پاکستان کو اپنا مخلص دوست سمجھتے ہیں، اسلئے ہمیں چاہئے کہ امریکہ ویورپ کے نخرے اُٹھانے کی بجائے ایسے مخلص دوست ممالک کیساتھ تعلقات کو استوار کیا جائے کیونکہ ہمارا مذہب، روایات اور کلچر مشترک ہے۔

اداریہ