Daily Mashriq


چند اچھی عادتیں

چند اچھی عادتیں

کل ہم نے ایک طالب علم سے اس کے نام کے معنی پوچھے وہ ہماری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے تو اپنے نام کے معنی نہیں آتے! ہمارا اگلا سوال تھا کہ کیا آپ نے کبھی یہ تردد نہیں کیا کہ آخر میرے نام کے کیا معنی ہیں؟ وہ بولا کبھی ذہن میں یہ بات ہی نہیں آئی!۔ وہ بالکل درست کہہ رہا تھا، ہم زندگی میں بہت کچھ دیکھتے ہیں بہت سے نئے نام ہمارے سامنے آتے ہیں لیکن ہم ان کی معنویت پر غور نہیں کرتے آپ یہ کالم پڑھتے ہوئے اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھئے کہ کیا مجھے اپنے نام کے معنی معلوم ہیں؟ بہت سے دوست ایسے ہوں گے جن کو اپنے نام کے معنی نہیں آتے ہوں گے! اس سوال وجواب کا ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ ہم پلک جھپکتے ہی اپنے بچپن کی بھول بھلیوں میں کھو گئے۔ ہمارے والد صاحب کے دوست ہم سے بڑے دلچسپ سوالات پوچھا کرتے تھے اور ہنسی مذاق میں ہمیں بہت کچھ سکھا دیا کرتے تھے۔ ان کے سوالات کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ہم بھی وقت کیساتھ ساتھ سوال کرنا سیکھ گئے۔ یقین کیجئے سوال اُٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے! ایک صاحب ہم سے پوچھتے اچھا یہ بتاؤ تمہارے سر پرکتنے بال ہیں؟ آسمان پر کتنے ستارے ہیں؟ سورج بڑا ہے یا چاند؟ ان سوالات کو سن کر ذہن میں یہ خیال راسخ ہوتا چلا گیا کہ بندے کو نہ صرف سوچ بچار کرتے رہنا چاہئے بلکہ اپنے اردگرد بکھری ہوئی دنیا کو بھی بڑے غور سے دیکھنا چاہئے۔ سوچ سے فکر پختہ ہوتی ہے، مشاہدے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دراصل یہ چھوٹی چھوٹی عادات ہی ہوتی ہیں جو بعد میں شخصیت کا اٹوٹ انگ بن جاتی ہیں، عادات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی! جتنا فائدہ اچھی عادات کا ہوتا ہے بری عادتوں سے اتنا ہی نقصان ہوتا ہے اچھی عادتوں کو اپنانا مشکل ہوتا ہے لیکن ان کیساتھ زندگی گزارنا بڑا آسان ہوتا ہے جبکہ بری عادتیں بڑی آسانی سے اپنالی جاتی ہیں مگر ان کیساتھ زندگی گزارنا یقیناً ایک مشکل تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ ارسطو کا کہنا ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ ہماری عادات ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عادات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ شروع میں مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتی ہیں مگر بعد میں لوہے کے تاروں کی طرح مضبوط ہو جاتی ہیں۔ فارسی میں ایک کہاوت ہے کہ بری عادت قبر تک ساتھ جاتی ہے۔

ہم ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں جو نماز فجر کے بعد کسی قریبی پارک میں چہل قدمی کیلئے چلے جاتے ہیں، یہ عام مشاہدہ ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ہمیشہ تندرست اور ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ایسی بہت سی اچھی عادتیں ہیں جنہیں سوچ سمجھ کر اپنایا جا سکتا ہے! جو طالب علم ہمیں اپنے نام کے معنی نہیں بتا سکا تھا کچھ پریشان سا نظر آنے لگا، شاید اسے یہ احساس بری طرح ستا رہا تھا کہ بالکل سامنے کی چیز یعنی اس کا اپنا نام وہ اس کے معنی سے بے خبر رہا اس سے زیادہ غفلت کا مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے! ہم نے اسے ازراہ مذاق کہا کہ ہمارا نام تنویر ہے اور تنویر کے معنی روشنی کے ہیں اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم کسی نہ کسی صورت روشنی پھیلاتے رہیں، اگرچہ ہمیں اپنی کم مائیگی کا احساس ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زیرو واٹ کے بلب جتنی روشنی ہی پھیلا رہے ہیں لیکن دل کو ایک تسلی تو ہے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا تو یقیناً بہتر ہے! تم اس طرح کرو کہ کچھ اچھی عادتیں اپنا لو یقین کرو اچھی عادتیں اپنانے سے تمہاری زندگی بدل جائے گی۔ سب سے پہلے تو یہ کام کرو کہ جب کوئی نیا لفظ سامنے آجائے اور اس کے معنی نہ آتے ہوں تو انہیں جاننے کی کوشش کرو اور پھر اسے اپنی تحریر اور تقریر میں استعمال بھی کرو وہ لفظ آپ کا غلام ہو جائے گا۔ اس عادت سے آپ کے ذخیرہ الفاظ میں بے تحاشا اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ نماز پڑھو یہ اللہ پاک کیساتھ رابطے کا بہترین زریعہ ہے! مطالعہ کی عادت اپناؤ ہمیں ایک پروفیسر صاحب کا کہا ہوا جملہ زندگی میں کبھی بھی نہیں بھولتا: ’’میں جب سے پروفیسر بنا ہوں میں نے پھر کوئی کتاب نہیں پڑھی میں تو صرف اخبارات ہی پڑھتا رہتا ہوں‘‘ ہم ان سے یہ پوچھنے کی جسارت تو نہ کر سکے کہ پھر طلبہ کو کیا پڑھاتے ہیں؟ بہرحال یہ ہم سب کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے! بیٹا مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالو۔ علم کسی کو میراث میں نہیں ملتا اسے حاصل کرنے کیلئے کتاب کیساتھ دوستی کرنا پڑتی ہے۔ اہل علم کی محفلوں میں بیٹھنا پڑتا ہے، اس کیلئے شوق اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی خالق کائنات کی عطا کردہ ایک قیمتی متاع ہے اس میں مقصد کا ہونا بہت ضروری ہے! سارا علم کتابوں میں نہیں ہوتا سیانے کہتے ہیں کہ عام لوگوں سے میل ملاپ رکھنا، ان سے ملنا جلنا، ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا آدھی ذہانت ہے۔ باقاعدگی کیساتھ روزانہ تھوڑی دیر کیلئے ورزش کرنا ایک بہترین عادت ہے۔ اچھی صحت کیساتھ ہی اچھا ذہن جڑا ہوا ہے، اسی طرح کم کھانے کی عادت ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ کچھ لوگ کھانے کیلئے جیتے ہیں! آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوناچاہئے جو سانس کی ڈور قائم رکھنے کیلئے بقدر ضرورت کھاتے ہیں۔ اللہ پاک کی نعمتوں سے خوب لطف اندوز ہونا چاہئے لیکن اسراف سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ اسی طرح فضول خرچ کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے، حلال ذرائع سے کمائی ہوئی دولت بہت بڑی نعمت ہے، اسے ضائع کرنا بہت بری عادت ہے۔ اس عادت سے بچنا بھی بہت ضروری ہے اگر یہ چند عادتیں اپنا لی جائیں تو زندگی کی خزاں بہار میں تبدیل ہوسکتی ہے!۔

متعلقہ خبریں