Daily Mashriq

صنفی مساوات پر مبنی ایوارڈز کی تقریب میں ہر انعام مردوں کے نام

صنفی مساوات پر مبنی ایوارڈز کی تقریب میں ہر انعام مردوں کے نام

دبئی کی حکومت نے رواں سال سالانہ منفی مساوات پر مبنی ایوارڈ کی تقریب منعقد کی تاہم اس ایونٹ کے دوران تمام ایوارڈز صرف اور صرف مردوں کے نام رہے۔

جینڈر بیلنس انڈیکس 2018 ایوارڈ کے دوران 3 انعامات کا اعلان کیا گیا جو ان افراد اور ڈپارٹمنٹس کو دیے جانے تھے جنہوں نے دبئی میں صنفی مساوات کے لیے سب سے بہترین کام کیا۔

 ان میں صنفی مساوات کو فروغ دینے والی بہترین شخصیت، صنفی مساوات کو سپورٹ کرنے والے بہترین وفاقی ادارے اور صنفی مساوات کو سپورٹ کرنے والے بہترین اقدام شامل ہیں۔

اس تقریب کے سلسلے میں دبئی میڈیا آفس نے بھی ایک ٹویٹ کی جبکہ مرد فاتحین کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

خیال رہے کہ یہ تقریب منعقد کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ دفاتر میں مرد و خواتین برابری سے کام کرسکیں۔

دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد المختوم نے ان مردوں کو ایوارڈ دیا۔

پریس ریلیز کے مطابق شیخ محمد بن راشد المختوم نے اس دوران ایک خاتون منال کے کام کو بھی سراہا تاہم وہ ایوارڈ جیتنے میں ناکام رہیں۔

بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق جب انتظامیہ سے صرف مردوں کو ایوارڈ دیے جانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انڈیکس میں مرد خواتین سے آگے تھے۔

تاہم سوشل میڈیا پر اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے اس فیصلے کو نتقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف کا تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایوارڈز تقریب میں یہ لوگ خواتین کو مدعو کرنا بھول گئے۔

 جبکہ انہوں نے کسی بھی خاتون کے ایوارڈ نہ جیتنے پر حیرانی کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں