Daily Mashriq


پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ مساعی

پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ مساعی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بلکہ جنگی صورتحال کا خاتمہ کرکے حالات کو معمول پر لانے کیلئے عالمی ممالک، اقوام متحدہ اور خاص طور پر سعودی وزیرخارجہ کی اسلام آباد آمد امن کے اس پیغام کا مثبت جواب ہے جس کا اعادہ پاکستان کی طرف سے بار بار کیا جا رہا ہے لیکن بھارت کا جنگی جنون تھمنے میں نہیں آتا۔ قریبی دنوں میں ان کو جس حیران کن صورتحال سے دوچار ہونا پڑا مستزاد بھارتی وزیراعظم کا انتہا پسندانہ طرزعمل اختیار کرکے بی جے پی کو جتانے کی احمقانہ حکمت عملی کے تناظر میں بھارتیوں کا لب ولہجہ اور ردعمل میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کرنے کے اعلان کے جواب میں وزیراعظم نریندر مودی نے ایسے الفاظ استعمال کئے جنہیں جارحانہ اور مبہم الفاظ میں دھمکانہ کہا جاسکتا ہے۔ بہرحال بھارت جس قسم کی صورتحال سے دوچار ہے اور خلاف توقع ان کو اچانک جن حالات کا سامنا کرنا پڑا اس کے تناظر میں ان کے لب ولہجے میں تلخی کی گنجائش ہے لیکن سرحدوں پر کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں اس کا ان کو بخوبی اندازہ بھی ہوچکا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور اس قسم کی سرحدی صورتحال کوئی نئی بات نہیں البتہ1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی ایک دوسرے کی فضائی حدود کے اندر داخل ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دونوں ممالک کیلئے اب چیلنج یہ ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونے سے پہلے کشیدگی کو کم کیسے کیا جائے۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ نوبت آئی ہو، دونوں ممالک کشمیر کو اپنا حصہ مانتے ہیں اور اس مسئلے پر1947 کے بعد سے چار جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔2001 میں بھی دونوں ہمسایوں کے درمیان نوبت جنگ تک پہنچ گئی تھی، لیکن پھر فوجیں واپس بلا لی گئیں اور کشیدگی میں کمی ہوئی اورگیارہ مہینے تک دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی رہیں لیکن اگرچہ فوجیں اس طرح بارڈر پر کھڑی رکھ کر انڈیا نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن انڈیا اور بین الاقوامی کمیونٹی کو یہ احساس تھا کہ وہ ایک حد سے آگے نہیں جا سکتے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان جو صورتحال ہے اس طرح کی صورتحال 2001ء میں بھی پیش آئی تھی جب بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اس وقت گیارہ مہینے دونوں ممالک کی افواج تیاری کی حالت میں سرحدوں پرکھڑی رہیں اس وقت بھی بھارت نے پاکستان کے غیرریاستی عناصر کے ملوث ہونے اور پاکستان پر ان کی مبینہ سرپرستی کا بھونڈا الزام لگایا لیکن بھارت اس کا کوئی ثبوت نہیں دے سکا اس وقت بھی تقریباً یہی صورتحال ہے بھارت نے جو ڈوزیئر دیا ہے اس میں کیا ثبوت وشواہد ہیں پاکستان کی جانب سے ان کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچنے کا امکان ہے۔ بہرحال بھارت کا ڈوزئیر حوالے کر دینے کا اقدام مثبت ہے اور اس پر دال بھی کہ بھارت ایک غلطی کے ارتکاب کے باوجود دوسری غلطی میں محتاط ہوگا۔ بھارت کی جانب سے مبینہ ثبوتوں اور شواہد کی جو فائل حوالے کی گئی ہے اس کے بعد کوئی فوجی جواز باقی نہیں رہتا جب تک پاکستان اس بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتا جن ممالک نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ بھارت اور پاکستان کو اپنا اپنا موقف اور مقدمہ ان ممالک سے بھی شریک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غیرجانبدارانہ طور پر معاملات کا جائزہ لیں۔ جہاں تک بار بار کے اس طرح کے واقعات کے اعادے کی ضرورت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ خواہ الزام ہی ہو اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے حربے ہی ہوں لیکن ان معاملات کا سنجیدگی کیساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے الزامات کی صورت میں ملک وقوم کو کشیدگی اور خطرات پر مبنی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بھارت اگر قابل قبول ثبوت اور شواہد پیش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر ان عناصر کیخلاف کارروائی میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کچھ انتہا پسندوں کا جنون تو ہوسکتا ہے مگر پاکستان اور انڈیا کے اکثریتی عوام کی خواہش ہرگز نہیں ہے۔ ہر جنگ سے پہلے اور بعد میں دونوں ممالک کے غریب عوام سے ان کی روٹی کے نوالے چھین کر اسلحہ سازوں کی جیبیں بھری گئیں۔ انڈیا میں بھی بہت سے لوگ امن چاہتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل موجود ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہر دو تین سال بعد ہم اس پر جنگیں کریں یا جنگ کے قریب پہنچ جائیں۔ اس قسم کی صورتحال کے معاشی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس موقع پر اگر خدانخواستہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بے قابو ہوجاتی ہے اور بڑے ممالک اپنے شہریوں کو پاکستان وہندوستان آمد ورفت سے روکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان سے کروڑوں اربوں ڈالر نکل جائیں گے جس کی نہ تو بھارت کی معیشت متحمل ہوسکتی ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔

متعلقہ خبریں